ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ کا 6سو ملین کا پی سی ون منظور

ٹی بی کو نظرانداز نہ کیا جائے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی

صوبے میں ٹی بی کے خلاف کام کرنے والے پروونشل ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ کا 6 سوملین کا پی سی ون منظورکرلیاگیا ہے. فوٹو: فائل

پاکستان سمیت دنیا بھر میںکل ٹی بی کے مرض کے خلاف عالمی دن منایاجائے گا۔

اس دن کی مناسبت سے کراچی سمیت صوبے میں انسداد ٹی بی کے حوالے سے مختلف سیمینار منعقدکیے جائیں گے، صوبے میں ٹی بی کے خلاف کام کرنے والے پروونشل ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ کا 6 سوملین کا پی سی ون منظورکرلیاگیا ہے تاہم منظور شدہ رقم جاری نہیںکی جا سکی جس کی وجہ سے پروگرام میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ ڈاکٹر عصمت آرا خورشید نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری فنڈز جاری نہ کیے تو ٹی بی کے مریضوںکو علاج معالجے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، صوبے میں اس وقت رجسٹرڈ ٹی بی مریضوںکی تعداد 4 لاکھ 58 ہزار 750 ہے جبکہ 2000 میں یہ تعداد 1344 اور 2012 تک 57 ہزار 132 تھی، وہ جمعہ کوپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں، اس موقع پر ڈاکٹر غلام عباس نقوی، ڈاکٹر سید سلیم حسن، ڈاکٹر محمد اقبال و دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر عصمت آرانے کہا کہ غربت اور آلودگی کی وجہ سے ٹی بی کا مرض بڑھ رہا ہے۔




ٹی بی کو نظرانداز نہ کیا جائے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، انھوں نے کہا کہ ٹی بی قابل علاج ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ہوسکتی ہے، ٹی بی کے مریض کے کھانسنے، چھینکنے اور تھوکنے سے ٹی بی کے جراثیم دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتے ہیں، اگر کسی شخص کو 2ہفتے سے زائد کھانسی ہو تو اسے اپنا چیک اپ ضرورکرانا چاہیے۔

انھوں نے کہاکہ ٹی بی کے مریض کے لیے سندھ بھر میں266 مراکز صحت (جس میں48 نجی مراکز شامل ہیں) میں مفت تشخیص اور مفت علاج معالجے کی سہولیات موجود ہیں، انھوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم MDRTB ایم ڈی آر ٹی بی (مزاحمت والی ٹی بی) کے مریضوں کو بھی مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کریں جس کا خرچہ لاکھوں میں ہے، اس سلسلے میں Rapid Test Diagnosis/ achievement جسے Gene X-pert کہا جاتا ہے معادن ثابت ہوتا ہے، اس ٹیسٹ سے مریض کو 2 ماہ مزید انتظار نہیں کرنا پڑے گا اس کا رزلٹ 2 گھنٹے میں دستیاب ہے۔
Load Next Story