قومی امور کیا ہے فاٹا کا مسئلہ

فاٹا ابتدا ہی سے وفاقی حکومت کے زیرانتظام ہے

فاٹا ابتدا ہی سے وفاقی حکومت کے زیرانتظام ہے ۔ فوٹو : فائل

فاٹا (فیڈرلی ایڈمنسٹریٹڈ ٹرائبل ایریاز) یعنی قبائلی پٹی کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے حوالے سے اور وہاں رائج کالے قانوں ایف سی آر کے حوالے سے وطن عزیز میں آج کل بھرپور بحث و مباحثہ جاری ہے۔

اس ضمن میں خصوصاً ہمارا الیکٹرک میڈیا فاٹا کو فوکس کر رہا ہے۔ یقیناً یہ ایک مثبت اقدام ہے لیکن مسئلہ جن کو درپیش ہے وہ بہت کم ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ مسئلہ قبائلیوں کا ہے تو قبائلیوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، لیکن ہمارے ٹی وی چینلز اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر پارہے ہیں، بلکہ چند جانے پہچانے سیاسی راہ نماؤں، جنہیں روز ہم مختلف اوقات میں مختلف چینلز پر دیکھتے ہیں، اس مسئلے پر بولتے نظر آتے ہیں۔ فاٹا کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں فاٹا کے تاریخی پس منظر سے آگہی حاصل ہو۔

٭فاٹا کا تاریخی پس منظر
تاریخی شواہد کے مطابق فاٹا کا علاقہ قبل از مسیح سے فاتحین کی گزرگاہ رہا ہے یا پھر اُن کے زیرتسلط رہا ہے۔ 800ء قبل مسیح کے آریاؤں سے لے کر مارین 222-313قبل مسیح اور 97ء قبل میں ساکا، کشان، ساسانیوں، ہنوں اور ترکوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ غزنویوں اور غوریوں کے دور میں اسلام لاہور سے دہلی تک پھیل چکا تھا جب کہ فاٹا میں اسلام کی آمد اس سے بھی قبل بیان کی جاتی ہے۔ قبائلیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں ہندوستان میں اسلام کی ترویج اور فتوحات کے لیے ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ ایسے بہت کم مواقع تاریخ میں گزرے ہیں کہ قبائلیوں نے کسی شہنشاہ کی مکمل اطاعت کی ہو۔ مغل سلطنت کے بانی بابر پہلی دفعہ اپنی خودنوشت میں قبائل کے ناموں اور اُن کی خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے۔

1848ء میں جب انگریزوں نے پنجاب فتح کیا تو چترال اور بلتستان کے درمیان پٹھانوں کے سخت گیر قبائل سے ان کا واسطہ پڑا جو سکھوں اور عیسائیوں کی سخت مزاحمت کرچکے تھے۔ انگریز حکم راں، مہاراجے، امیرافغانستان تینوں خطے کے پہاڑوں پر اپنا تسلط چاہتے تھے۔ روسی توسیع پسندی کا راستہ روکنے کے لیے انگریزوں نے خیبر کرم اور بولان کے دروں تک پر کنٹرول حاصل کیا، لیکن وہ اس قبضے کو برقرار نہ رکھ سکے۔

انگریزافواج میدانی اضلاع کا مناسب دفاع تو کرلیتی تھیں لیکن پہاڑی علاقوں میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے ہلاکتوں اور اشیائے کی رسد سے اخراجات میں اضافہ ہوجاتا اور قبائلیوں کی مزاحمت زور پکڑ لیتی۔ اس جنگِ لاحاصل میں ہزاروں نفوس پر مشتمل حملہ آور دستہ زیادہ سے زیادہ ایک خالی قلعے یا کسی غیرآباد گاؤں ہی کو تباہ و برباد کرپاتا۔ یہاں قبائلیوں کو مکمل آزادی تھی کہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھیں یا کابل کے ساتھ الحاق کرلیں۔

دروں کو کھلا رکھنے کے لیے انگریزوں نے جو پیچیدہ طریقہ اختیار کیا وہ مغلوں کے طریقے سے مشابہت رکھتا تھا۔ یعنی رعاتیں دینا، قبیلوں کو آپس میں لڑانا مستقبل میں درست رویے کی ضمانت کے لیے گرفتاریاں، افغانستان اور اس کے ملحقہ قبائلی علاقے کئی بادشاہتوں کی توجہ کا مرکز رہے، جن میں برطانیہ، روس، جرمنی، ایران اور خلافت عثمانیہ شامل ہیں۔ ہند کی برطانوی سرکار شمال مغربی سرحدی علاقے کے لیے کوئی مربوط اور واضح پالیسی ترتیب نہ دے سکی۔

جارحیت سے لے کر لاتعلقی تک مختلف مواقع پر مختلف پالیسیاں اپنائی گئیں، جن میں سوچی سمجھی بے پروائی، مشاورتی اور پرامن مداخلت، سرحدوں کی بندش، جارحانہ اور نیم جارحانہ پالیسیاں شامل ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ برطانوی حکومت نے اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا کہ نیم جارحانہ پالیسی یعنی پرامن اور غیرمحسوس طور پر آہستہ آہستہ تسلط ہی ان کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کرسکتا ہے۔

1922ء میں انگریزوں نے سرحد کے اپنی ایک سو سالہ پالیسی کا خلاصہ یوں بیان کیا کہ ہماری سرحدی پالیسی کا طویل المیعاد مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کو محفوظ بنایا جائے اور اس کا فوری اور مختصر المیعاد مقصد سرحدی اصلاح میں جان و مال کے تحفظ کے لیے قبائلی علاقوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ برطانوی ہند کی تقسیم کے نتیجے میں 14اگست 1947کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح سے 200 قبائلیوں پر مشتمل جرگے نے درخواست کی کہ قبائلی علاقوں کو مرکزی حکومت کی براہ راست نگرانی میں رکھا جائے۔

قبائلیوں کی یہ درخواست منظور کی گئی۔1947ء کو قائداعظم نے ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت بنائی اور ذاتی طور پر اس کا چارج سنبھالا۔ بانی پاکستان نے گورنر جنرل کی حیثیت سے کہا کہ قبائل کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔ تمام قبائل کے ساتھ 22 تا 23 نومبر 1947قائداعظم کی ایماء پر ان کے پولیٹیکل سیکرٹری مسٹر اے ایس بی شاہ نے دستخط کیے۔ معاہدوں پر دستخط کے طریقۂ کار اور قبائل کی پاکستان کے ساتھ مسلسل وفاداری کے بدلے قبائل کے مختلف مفادات کا تحفظ اور دیگر معاملات طے کرنے کے لیے پولیٹیکل ایجنٹوں اور دوسری اہم شخصیات نے مختلف سطحوں پر رابطے اور اجلاس منعقد کیے۔

٭ فاٹا کی آئینی اور سیاسی حیثیت کا جائزہ
فاٹا ابتدا ہی سے وفاقی حکومت کے زیرانتظام ہے، جس کا نظم ونسق صدر پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے گورنر خیبرپختونخوا چلاتا ہے۔ فاٹا میں کوئی سیاسی یا انتظامی ادارہ موجود نہیں ہے۔ یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ 29کلومیٹر تک پھیلا ہوا۔ اس سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں، جو سرمورٹی مورڈیورنڈ کے نام سے موسوم ہے ۔ سرڈیورنڈ نے برطانوی راج کے دوران 1890سے 1894تک اس سرحد کا تعین کیا۔ فاٹا پاکستان کے کُل رقبے کا3.4 فی صد ہے۔ اس کے مشرق میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اور جنوب میں صوبہ بلوچستان ہے۔

فاٹا باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ فرنٹیئر رینجز پشاور، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک پر مشتمل ہے۔ اورکزئی ایجنسی کے علاوہ تمام ایجنسیوں کی سرحد افغانستان سے متصل ہے۔ 1998کی مردم شماری مسلمان پختون قبائل کے مسکن فاٹا میں صدی سے زیادہ عرصے سے کچھ اقلیتیں جن میں ہندو، سکھ شامل ہیں بھی آباد ہیں۔ فاٹا کا مجموعی رقبہ 27220مربع کلو میٹر اور افغانستان کے ساتھ اس کی سرحد تقریباً 2900کلومیٹر ہے۔50لاکھ نفوس پر مشتمل جس میں اکثریت پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کی سات ایجنسیاں ہیں۔

(1باجوڑ ایجنسی:- یہ رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ایجنسی ہے، اس کا مجموعی رقبہ 1290مربع کلو میٹر ہے۔ آبادی 6لاکھ کے قریب ہے۔ اس کی سرحد افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملحقہ ہے۔ سلارزئی، ارنگ، تارکئے، ماموند اور اتماندخیل اہم قبیلے ہیں۔

(2خیبر ایجنسی:- اس کا کل رقبہ 2576مربع کلومیٹر ہے۔ اس کا نام تاریخی درۂ خیبر سے لیا گیا ہے، جو صوبہ کے پی کے اور افغانستان کے صوبے ننگرہار کو آپس میں ملاتا ہے۔ آفریدی، شنواری اور ملاگوری اس کے اہم قبیلے ہیں اور اس کی آبادی 547000کے قریب ہے۔

(3مہمند ایجنسی:- مجموعی رقبہ 2296 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی3 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس ایجنسی میں بسنے والی قوموں میں خویزئی، حلیم زئی، ترکزئی، بائزئی، اتمان خیل اور صافی شامل ہیں۔ اس کے شمال میں باجوڑ ایجنسی، مشرق میں ملاکنڈ، جنوب مشرق میں پشاور، مغرب میں افغانستان واقع ہیں۔

(4کرم ایجنسی:- اس کا مجموعی رقبہ2576 مربع کلومیٹر اور آبادی 4لاکھ پچاس ہزار ہے۔ اس میں طوری، منگل، چمکنی، مسدزئی، علی شیرزئی، خوئیداد خیل اور بنگش قبائل آباد ہیں۔ اس کے شمال مغرب میں افغانستان کا صوبہ ننگرہار ہے اور جنوب مغرب میں صوبہ پکتیا واقع ہے۔

(5اورکزئی ایجنسی:- اس کا کل رقبہ1538مربع کلومیٹر اور آبادی 2لاکھ 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، یہاں بسنے والی قوموں میں علی خیل، فیروز خیل، اتمان خیل، آخیل، ملاخیل، برآمدخیل، ماموزئی، مشتی اور شیخان شامل ہیں۔ یہ فاٹا کی واحد ایجنسی ہے جس کی افغانستان کے ساتھ سرحد نہیں ہے۔ اس کے مغرب میں کرم ایجنسی، شمال میں خیبر ایجنسی، جنوب میں ضلع کوہاٹ اور مشرق کی طرف پشاور واقع ہے۔

(6جنوبی وزیرستان:- یہ سب سے بڑی ایجنسی ہے جس کا کل رقبہ6620مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 4 لاکھ30 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے دو اہم قبیلے وزیر اور محسود ہیں، شمال میں شمالی وزیرستان ایجنسی اور اس کے مشرق میں ڈیرہ اسماعیل خان واقع ہیں، بلوچستان اس کے جنوب اور افغانستان مغرب میں واقع ہے۔

(7شمالی وزیرستان:-یہ دوسری بڑی ایجنسی ہے جس کا کل رقبہ 4707مربع کلومیٹر اور آبادی 3 لاکھ61ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے دو اہم ترین قبیلے وزیر اور داوڑ ہیں شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیاں افغانستان کے صوبہ پکتیا اور خوست کے ساتھ واقع ہیں ۔ ان سات قبائلی ایجنسیوں کے ساتھ چھے فرنٹیئر رینجز بھی منسلک ہیں۔

(1ایف آر بنوں:- اس علاقے میں بنوں کے ساتھ سرحدی علاقے شامل ہیں، جن میں احمدزئی اور اتمان زئی قبیلے آباد ہیں آبادی 21521ہے۔

(2ایف آر ڈی آئی خان:- اس میں شیرانی اور استرانہ قبائل آباد ہیں جب کہ کل آبادی 42825 ہے۔

(3ایف آر کوہاٹ:- اس علاقے میں زرغون خیل، اخروال، شیراکئی، چورچھپر، بوستی خیل اور جواکی قبائل کے تقریباً 98821افراد مقیم ہیں۔

(4ایف آر لکی مروت:- اس علاقے کی آبادی 7675نفوس پر مشتمل ہے ۔

(5ایف آر پشاور:- اس میں حسن خیل، اشوخیل، سیانی اور حنباںکور قبیلے آباد ہیں۔ اس کی آبادی59215افراد پر مشتمل ہے۔

(6ایف آر ٹانک:-ٹانک کے سرحدی علاقوں میں بھٹنی قبیلہ آباد ہے۔ آبادی29895 ہے۔

فاٹا اقتصادی طور پر پاکستان کے پس ماندہ ترین علاقوں میں سرفہرست ہے۔ یہاں کی متوسط فی کس آمدنی500 ڈالر سالانہ سے بھی آدھی ہے۔ 60 فی صد کے قریب آبادی غربت کی لکیر (ایک امریکی ڈالر فی کس یومیہ آمدن) سے نیچے بستی ہے۔

فی کس ترقیاتی خرچ مبینہ طور پر قومی اوسط کا ایک تہائی ہے۔ سماجی شعبہ بھی خستہ حال ہے۔ ملک کی 43 فی صد شرح خواندگی کے مقابلے میں یہاں شرح خواندگی صرف 17.42فی صد ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی 29 فی صد اور خواتین کی شرح خواندگی 3 فی صد ہے۔

معدنیات اور قدرتی ذرائع سے استفادہ نہیں کیا گیا اور زیادہ تر مقامی باشندے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ صنعتی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم ملازمتیں دست یاب ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ قبائلی علاقہ جات میں اقتصادی ترقی اور منصوبہ سازی کا مرکزومحور ہے۔ مقامی حکومتی ادارے اور سماجی تنظیمیں بہت ہی کم اثر رکھتی ہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ مرکزی ترقیاتی منتظم اور منصوبہ ساز ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے اقتصادی کنٹرول میں ایجنسیوں کے مابین درآمدات و برآمدات کے لیے پرمٹوں کی تقسیم بھی ہے۔ فاٹا میں پولیٹیکل ایجنٹ ترقیاتی منصوبوں کو منظور بھی کرتا ہے اور ان پر عمل درآمد سیاسی و انتظامیہ ترجیحات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس منصوبہ سازی اور عمل درآمد کے کسی بھی مرحلے پر مقامی آبادی یا پارلیمانی نمائندوں کا بھی کوئی کردار نہیں ہوتا۔ پولیٹیکل ایجنٹ حکومت کی طرف سے ان منصوبوں کا پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی ہوتا ہے۔


قانون کی انتہائی کم زوری عمل داری اور قبائلی علاقہ جات کی افغانستان کے ساتھ سرحدوں کے اتصال کی وجہ سے عام استعمال کی پرتعیش اشیاء کی اسمگلنگ ایک پرکشش تجارت ہے، جس سے ٹیکسوں اور محصولات کی مد میں کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔

1956ء کا پہلا آئین جو پارلیمانی طرز حکومت فراہم کرتا تھا اور پورے پاکستان پر لاگو ہوتا تھا۔ قبائلی علاقہ جات کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں کوئی تبدیلی نہ لاسکا۔ 1962کے آئین کا آرٹیکل 223 فاٹا کو ان کے مخصوص حالات اور مسائل کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی قوانین کے دائرہ اطلاق سے باہر رکھتا ہے۔ قانون سازی اور عدلیہ کے مخصوص اختیارات صوبہ کے پی کے کے گورنر کو دیے گئے۔ صدر ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا گیا اور فاٹا کو صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی دی گی۔

1973کے آئین کے آرٹیکل 247کے مطابق فاٹا وفاق کے تحت ہے۔ آرٹیکل 247 اور اس سے متعلق SRO-109 جو 1970میں جاری ہوا، کے مطابق فاٹا کے انتظامی اختیارات صدر کے پاس ہیں، جو یہ اختیارات گورنر کے پی کے کو اپنی صوابدید پر منتقل کرتا ہے۔ گورنر صدر کی طرف سے دی گئی ہدایات اور اختیارات کے مطابق عمل کرتا ہے۔ صدر کے نمائندے کے طور پر گورنر کو قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے امور سے متعلق مقرر کیے گئے افسران کی خدمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔

فاٹا کے عوام کو رسم و رواج کی آڑ میں سیاسی وابستگی اور شمولیت کے بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں سرکاری حلقوں میں قبائلی علاقہ جات سے متعلق سیاسی جماعتوں اور سیاست جیسے الفاظ کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی عوام کو ملک کے دیگر عوام کی بہ نسبت الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی غیرموجودگی میں قبائلی نمائندے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آتے رہے ہیں جو سیاسی وابستگی اور مقامی حمایت نہ ہونے کی باوجود حکومتی سرپرستی کے زور پر منتخب ہوتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل ون فاٹا کو پاکستان کا حصہ قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 246تقریباً گیارہ ایسے علاقوں اور ایجنسیوں کی نشاندہی کرتا ہے جن پر قبائلی علاقہ جات مشتمل ہیں۔

آرٹیکل247 فاٹا کے نظم ونسق کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتا ہے، جس کے مطابق ان علاقوں میں وفاق کے زیرانتظام اختیارات کا استعمال صدر کی ہدایت پر گورنر کرتا ہے۔ مروجہ قوانین کا اطلاق اور نئے احکام کا نفاذ قبائلی علاقہ جات میں اسی اُصول کے تحت ہوتا ہے۔ فاٹا میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرہ عمل کو آرٹیکل 247کے تحت ہی محدود کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے تحت اس رکاوٹ کو دور کرسکتی ہے، مگر کبھی اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ آرٹیکل142-Dکے تحت پارلیمنٹ کے پاس خصوصی اختیار ہے کہ وہ ان معاملات کے لحاظ سے قانون سازی کرے جو وفاق کے زیرانتظام ان علاقوں سے متعلق ہیں۔ جو صوبوں میں شامل نہیں۔

آرٹیکل 258 صدر کو صوبوں کے علاوہ پاکستان میں شامل علاقوں کے اندر امن و امان اور حکومتی عمل داری قائم کرنے کا اختیار دیتا ہے، جسے پارلیمنٹ چاہے تو قانون سازی کے ذریعے تبدیل بھی کرسکتی ہے۔ آئین قبائلی علاقہ جات کو قومی پارلیمنٹ میں نمائندگی کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 51کے تحت قومی اسمبلی میں فاٹا کے لیے 12نشستیں مختص کی گئی ہیں جن کے لیے بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخاب ہوتا ہے۔ آرٹیکل 59کے تحت سینٹ میں فاٹا کے لیے 8 نشستیں مختص ہیں، جنہیں قومی اسمبلی میں قبائلی ممبران کے ذریعے بالواسطہ منتخب کیا جاتاہے۔

آئینی طور پر فاٹا ہر لحاظ سے واضح طور پر پاکستان کا اہم حصہ ہے۔ آئین ان بنیادی حقوق کی بھی وضاحت کرتا ہے جو ہر پاکستانی کو حاصل ہیں، لیکن فاٹا کا سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہ ہونے اور آرٹیکل 274 (7) کی رکاوٹ کی وجہ سے آئین میں شامل آرٹیکل 199اور 184کے تحت قبائلی عوام کو بطور پاکستانی یہ حقوق حاصل ہونے کے میسر نہیں۔

ماضی کی فوجی کارروائیوں کے بعد مختلف حلقوں اور طبقوں کی جانب سے فاٹا کے انتظامی ڈھانچے اور حکومتی نظام میں وسیع البنیاد اصلاحات کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں مشرف حکومت نے فاٹا کے لیے دور رس تبدیلیوں اور ان علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ سسٹم کے خاتمہ اور انتظامی ڈھانچے کو صوبے کے پی کے میں مدغم کرنے کا عزم کیا لیکن دیگر سیاسی مسائل کی طرح یہ مسئلہ بھی لٹک گیا۔

2006 میں مشرف حکومت نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی طرز پر فاٹا لوکل گورنمنٹ ریگولیشن ترتیب دیا۔ اس سے قبل جب پورے ملک میں لوکل گورنمنٹ نظام لاگو کیا جارہا تھا تو اُس وقت فاٹا کو یہ کہہ کر ایل او جی کی دسترس سے باہر رکھا گیا کہ وہاں کے عوام ایسا نہیں چاہتے۔ یہ تاثر بھی عام کیا گیا تھا کہ وہاں کے عوام کوئی نیا نظام قبول کرنے کے تیار نہیں۔ وہ روایات کی سخت پاس داری کرتے ہیں اور موجودہ سسٹم ان کو اس لیے مناسب لگتا ہے کیوںکہ وہ اس کے عادی ہیں۔ اپنی رسموں کو کسی بھی دوسرے حکومتی نظام سے بہتر سمجھتے ہیں۔

لہٰذا لوکل گورنمنٹ نظام کی بجائے صوبہ کے پی کے (جس کا نام اس وقت سرحد تھا) کے گورنر نے ایک نوٹس جاری کیا، جو عبوری ایجنسی کونسلز کے ذریعے ترقیاتی اور اہم علاقائی امور میں مقامی لوگوں کی شمولیت کو سہل بنانے کے متعلق تھا۔ ان کونسلز کے لیے تین سال کا دورانیہ مقرر کیا گیا۔ اس نظام کے بعد تمام ایگزیکٹیو اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس رہے اور وہی کرتا دھرتا بن گئے۔

البتہ پولیٹیکل ایجنٹ کونسل کے ارکان کو مختلف مانیٹرنگ کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کے لیے نام زد کرتا۔ لیکن یہ کمیٹیاں بھی پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت ہی کام کرتی تھیں۔ 18فروری کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی پہلی تقریر کے دوران فاٹا سے ایف سی آر قانون ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ن لیگ کی موجود حکومت نے بھی فاٹا سے ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان تو کرلیا ہے اور فاٹا میں اصلاحات لانے کا اعلان بھی کیا ہے، لیکن اپنے چند اتحادیوں کے سیاسی عزائم کے سامنے ن لیگ کی حکومت بھی بے بس دکھائی رہی ہے۔

٭ کالے قانون ایف سی آر کا تاریخی پس منظر
فاٹا کا عدالتی نظام ایف سی آر 1901ء پر مشتمل ہے، جو نوآبادیاتی دور کا ایسا لیگل فریم ورک آرڈر ہے جس میں قبائلی روایات اور انتظامی اختیارات کو باہم مدغم کیا گیا ہے۔ انگریزوں نے یہ ظالمانہ قانون ہندوستانی سلطنت کی پیچیدہ سرحدی پٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے نافذ کیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ قانون 1872میں ترتیب دیا گیا، لیکن اس کا باقاعدہ نفاذ 1901ء میں ترمیم کے ساتھ عمل میں لایا گیا۔ پاکستان میں 1963ء تک صوبہ کے پی کے میں اور 1977ء تک بلوچستان میں ایف سی آر نافذ رکھا گیا۔ ایف سی آر میں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کے تمام صوابدیدی اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس ہیں۔ انتظامی حوالے سے فاٹا کو تین حلقہ بندیوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

(1قابل رسائی علاقے، جہاں ریاستی عمل داری برائے نام ہے اور قبائلیوں کو اپنے فیصلے کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

(2انتظامی علاقے، ایف سی آر کے تحت انتظامی علاقوں کے اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ اور ایف سی آر میں ڈی سی او کے پاس ہیں۔ یہاں سڑکیں ہیں، حکومتی ادارے موجود اور سرکاری تنصیبات قائم ہیں۔

(3محفوظ علاقے، ان علاقوں میں قبائلی جرگہ مقامی رسوم و رواج کے تحت جرائم اور دیگر معاملات نمٹاتا ہے۔ اگرچہ پولیٹیکل ایجنٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری اہل کاروں یا دوسرے ریاستی مفادات کے خلاف کیے گئے کسی فعل کے خلاف اقدام کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ مقامی مَلِکوں کا تعاون بھی حاصل کرسکتا ہے اور طاقت کا استعمال بھی کرسکتا ہے، جو جرم کی شدت پر منحصر ہے۔

٭ ایف سی آر کا فاٹا کے عوام کے ساتھ سلوک
آرٹیکل 10(A)فیئر ٹرائل کی بات کرتا ہے۔ فیئر ٹرائل کا مطلب یہ ہے کہ دورانِ مقدمہ ملزم کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو۔ اسے گرفتار کرتے وقت باقاعدہ بتایا جائے کہ اس کا جرم کیا ہے۔ اس کے خاندان کو گرفتاری کے متعلق بتایا جائے۔ 24گھنٹوں کے اندر عالت میں پیش کیا جائے۔ اس کا فیصلہ باقاعدہ عدالت کرے گی۔ ماورائے عدالت کچھ نہیں ہوگا، وکیل کرنے کی اجازت ہو، ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا حق دیا جائے۔ اس کے خلاق فیصلہ آجائے تو اسے اپیل کا حق حاصل ہو۔ لیکن فاٹا میں رائج ایف سی آر میں نہ وکیل ہے، نہ دلیل ہے، نہ اپیل ہے۔

کوئی جج بھی نہیں۔ کرتا دھرتا پولیٹیکل ایجنٹ چند لوگوں کو چُن لیتا ہے۔ وہی جج ٹھہرتے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کا کوئی قاعدہ کوئی اُصول نہیں۔ ملزم کو جب سزا دی جائے تو اُس کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں۔ ایف سی آر کی دفعہ 60 میں لکھا ہے کہ ایف سی آر کے تحت دی گئی سزا یا جرمانے کو کسی بھی عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکتا اور نہ اپیل کرنے کا حق ہے۔ ہمارے ملکی قانون کے مطابق کسی جرم کی سزا کسی دوسرے کو نہیں دی جاسکتی، بلکہ جرم سرزد کرنے والے کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے، جب کہ ایف سی آر کی دفعہ 23کے مطابق اگر کسی بستی کی حدود میں کوئی لاش ملتی ہے تو ساری بستی کو قاتل تصور کیا جائے گا۔ اگر کوئی دوسرا جرم سرزد ہوتا ہے تب بھی ساری بستی مجرم ٹھہرائے جائے گی۔

آئین کا آرٹیکل25 کہتا ہے کہ پاکستان کے تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، لیکن ایف سی آر کے تحت 50 لاکھ لوگوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پولیٹیکل ایجنٹ کے مظالم کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کرسکیں۔ وہ جسے چاہے گرفتار کرے، جس کا گھر چاہے مسمار کردے، جس کسی کو بھی تین سال قید کی سزا سنادے، فاٹا کے عوام کے پاس نہ اپیل کرنے کا حق ہے اور نہ ہی وکیل کرنے کا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ ایف سی آر کی دفعہ 30 تو اندھیرنگری اور جہالت کا بہترین شاہ کار ہے۔

اس کے تحت فاٹا میں بدکاری کا جرم صرف عورت کرسکتی ہے اور اسی کو سزا ملے گی، جب کہ مرد کو کوئی بھی سزا نہیں ملے گی۔ یہ قانون پاکستان میں رائج اسلامی قوانین سے یکسر متصادم ہے۔ ایف سی آر آئین پاکستان کے باب نمبر2 سے کلی طور پر متصادم ہے اور اس باب کی آئین میں بہت اہمیت ہے۔ آرٹیکل 8کہتا ہے کہ وہ تمام قوانین باطل تصور ہوں گے جو اس باب میں دیے بنیادی حقوق سے متصادم ہوں۔

٭ فاٹا کی نوجوان نسل کیا سوچ رہی ہے؟
موجودہ ملکی سیاسی صورت حال میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ کسی کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے تو کوئی صادق اور امین ٹھہرایا گیا ہے۔ سیاست کی ان ہی ان ہونیوں میں ایک بار پھر سے فاٹا کا مسئلہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ ماضی کی طرح نہیں بلکہ یکسر مختلف انداز سے، جس کا بنیادی عنصر فاٹا کے نوجوانوں کا اس مسئلے پر ایک ہونا ہے، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود آج کی فاٹا کی نوجوان نسل اس گمبھیر مسئلے پر ایک ہیں حالاںکہ یہ مسئلہ اتنا گمبھیر نہیں جتنا ہماری چند سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے بنائے رکھا۔ لیکن شاید ہمارے ان سیاسی راہ نماؤں کو احساس نہیں کہ آج کے اس برق رفتار دنیا میں نوجوان فرضی اور گھسی پٹی تقریروں اور دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے۔ آج کی یوتھ کی نظر زندگی کے ہر شعبے پر مرکوز ہے۔ انہیں ملک کے دیگر علاقوں کے نوجوان کی طرح زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات چاہییں۔

انہیں اُس تاریک دہائیوں کی فکر ہے جس سے فاٹا کو پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی بدولت روشن مستقبل کی جانب گام زن دکھائی دے رہا ہے۔ فاٹا کے نوجوانوں کی نظر بہترین تعلیمی اداروں کے قیام اور صحت کی بہترین سہولیات پر ہے۔ اسپورٹس کے میدانوں میں اپنے جلوے دکھانے پر، غرض قومی سطح پر ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے پر مرکوز ہیں۔

جب معاشرے کی یوتھ کسی نیک مقصد کے لیے ایک ہوجائے تو یہ سیاسی بازی گر انھیں منزل مقصود سے دور نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی اُنھیں مزید تاریکی میں رکھ سکتے ہیں، بل کہ وہ سیاسی جماعتیں اور اُن کے راہ نما اس ضمن میں خود نقصان اُٹھاتے ہیں تو کوئی بھی ذی شعور سیاستدان اپنی اور اپنی جماعت کی ساکھ تباہ کرنا نہیں چاہے گا۔ اگر فاٹا کے نوجوان اکٹھے ہیں، اُن کی سوچ میں یکسانیت ہے ارادے مصمم ہیں اپنے علاقے کو ایف سی آر جیسی لعنت سے۔ اپنی پہچان بنانے کے لیے تو ہمارے سیاسی راہ نما اور سیاسی جماعتیں اس اہم قومی مسئلے پر ایک کیوں نہیں ہوسکتی ان میں یکسانیت اور قومی امور پر یکجہتی کیوں پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ایسے جواب طلب سوالات ہیں جن جوابات آج کی فاٹا کے نوجوان ہر فورم پر ہر سیاسی راہ نما سے کررہے ہیں۔

سات قبائلی ایجنسیوں اور چھے نیم قبائلی علاقہ جات میں رہائش پزیر 50لاکھ سے زائد قبائلی عام 1901ء قائم کردہ انگریزی سسٹم اور قوانین کے تحت اکیسویں صدی میں بھی بنیادی انسانی حقوق اور ضروریات سے محروم ہیں۔ یہ شاید دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے، جہاں ہر مروجہ عدالتی نظام، بینکنگ، ٹیکس سسٹم اور دوسری ریاستی ضروریات کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے گیارہ ایم این ایز ہیں۔ یہ ایم این ایز قومی اسمبلی تشریف لاتے ہیں اور ہر طرح کی کارروائی اور قانون سازی کے عمل کا حصہ ہیں یہ یروشلم، کشمیر اور برما تک معاملات پر بھی رائے دے سکتے ہیں۔

لیکن فاٹا کی سیٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے ان نمائندوں کو فاٹا کے بارے میں قانون سازی کرنے کا کوئی اختیار نہیں کیوںکہ آئین کا آرٹیکل247ذیلی دفعہ3کے تحت قومی اسمبلی کے کسی ایکٹ کا فاٹا پر اطلاق نہیں ہوتا ہے، کیوںکہ یہ اختیار صرف صدر پاکستان کے پاس یا گورنر کے پاس اس وقت فاٹا کے 70فی صد معاملات اسلام آباد کے ذریعے چلائے جارہے ہیں، حالاںکہ تمام انتظامی اور ریاستی معاملات پشاور کے ذریعے چالے جانے چاہیے تھے، کیوںکہ ایسا ہونا عین قبائلی علاقوں کے عوام کی ضروریات اور خواہشات پر مبنی ایک ایسا مطالبہ ہے۔

جس کی اہمیت ، پس منظر اور اسباب سے نہ تو انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پاکستانی ریاست اس حقیقت کو مزید نظر انداز کرنے کا خطرہ مول لے سکتی ہے کہ وار زون بیک گراؤنڈ رکھنے والے فاٹا کا موجودہ اسٹیٹس برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے عوام کو پھر سے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ ایسا ہوا تو اُن شہدا کی قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی جنہوں نے یہاں سے دہشت گردوں کا صفایا کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جن میں فاٹا کے بچے، جوان، بزرگ اور پاک فوج کے جوان شامل ہیں۔ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے۔

اگر ہماری سیاسی جماعتیں اسے اپنی انا اور مفادات کے لیے بطور سیاسی گیم پلان بنائے اس ایشو سے کھیلتی رہیں تو یہ پاکستان اور فاٹا کی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ اگر فاٹا کے عوام خیبرپختونخوا کے ساتھ ضم ہونا چاہ رہے ہیں اور اپنے آپ کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں تو پاکستان کی ریاست کے لیے اس سے بڑی خوش کن بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ ہمیں یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ فاٹا کا کے پی کے سے الحاق ہونے سے اُن ملک دشمن عناصر کی کمر ٹوٹ جائے گی جو ریاست کی عمل داری نہ ہونے کے سبب فاٹا جیسے دور افتادہ علاقے کو اپنا مسکن بنالیتے ہیں۔ مسئلہ فاٹا کا ہے، فاٹا کے عوام کا ہے، تو حل بھی اُن کے خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے نہ کہ چند سیٹ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے خواہشات کے مطابق۔
Load Next Story