کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن تیزکیاجائیگاگورنرنگراں وزیراعلیٰ

نگراں کابینہ25یا26مارچ تک تشکیل دیدی جائے گی،جسٹس( ر)قربان علوی،میڈیاسے گفتگو

کراچی: گورنر عشرت العباد اور نگراں وزیراعلیٰ زاہد قربان امن وامان سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے ہیں ۔ فوٹو : اے پی پی

گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے کہاہے کہ کراچی کے کچھ علاقوں میں حکومتی رٹ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،شہرمیں جرائم پیشہ افرادکیخلاف سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بلا امتیازکارروائی کیلیے پولیس اوررینجرزکواحکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

جبکہ نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر)زاہدقربان علوی نے کہاہے کہ کراچی کے حالات آئندہ10سے 15 روزمیں بہتربنانے کیلیے بھرپوراقدامات کریں گے اورنگراں کابینہ25یا26مارچ تک تشکیل دیدی جائے گی۔ان خیالات کااظہار گورنراورنگراں وزیراعلیٰ سندھ نے جمعے کوگورنرہاؤس میں امن وامان سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

گورنرعشرت العبادنے کہاکہ آج کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تفصیلی مشاورت کی گئی،کراچی سمیت صوبے بھرمیں امن وامان اولین ترجیع ہے اورعوام کے جان ومال کے تحفظ کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں،کراچی میں جہاں ضرورت ہوگی جرائم پیشہ عناصرکے خلاف ٹارگٹڈآپریشن کیاجائے گا اوریہ ٹارگٹڈ آپریشن شہرکے تمام علاقوں میں ہوگا،کراچی میں قانون نافذاداروں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ جس علاقے میں جرائم پیشہ عناصرکی موجودگی کی اطلاع ملے وہاں بھرپور کارروائی کی جائے۔

کراچی کے تمام علاقوں میں حکومتی رٹ کومضبوط بنایا جائے گا اورامن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا،کراچی میں دہشتگردوںکیخلاف سخت کارروائی کیلیے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔گورنر سندھ نے کہاکہ پرویز مشرف سابق صدر مملکت ہیں اگر سیکیورٹی کی درخواست آئی تو قانون کے مطابق دیکھیں گے۔ نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر)زاہد قربان علوی نے کہاکہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلا امتیازکارروائی کی جائے گی،سندھ میں نگراں کابینہ کیلیے کوئی دباؤنہیں ،نگراںکابینہ چھوٹی مگرمؤثر ہوگی،میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔




قبل ازیں گورنرسندھ اورنگراں وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت گورنر ہاؤس میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہوا،جس میں پولیس اوررینجرزکے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں کراچی میں جرائم پیشہ عناصرکے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کومزید تیزکرنے کافیصلہ کیاگیا۔دریں اثنانگراں وزیراعلیٰ سندھ نے جمعے کوصوبائی سیکریٹریزاورمختلف انتظامی محکموںکے سربراہوں کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام سرکاری افسران اورعملہ عوام کے خادم ہیں۔

نگراں حکومت کی ترجیحی ہوگی کہ صوبائی حکومت کے تمام امورمیں گڈ گورننس اورتمام سطحوں پرقانون کی حکمرانی کویقینی بنایاجائے، تمام افسران مثبت اور پائیدار نتائج دیں،سندھ نے تمام افسران اورملازمین صبح 9 بجے تک لازمی طور پر دفتر پہنچیں۔ نگراں وزیراعلیٰ نے تمام سیکریٹریزاور محکموں کے سربراہوں کو ہدایت کی کہ وہ زیر التوافائلز، سمریوں اوران کے دفترمیں پڑے کیسزکوایک ہفتے کے اندر اندر نمٹادیں۔

انھوں نے کہاکہ گڈگورننس کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ باالخصوص کراچی کے دیگراہم مسائل جن میں لوڈ شیڈنگ کامسئلہ بھی سرفہرست ہے جس کیلیے وہ جلدکے ای ایس سی ،حیسکو اورواپڈا کے افسران کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے ، کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں پر صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ دینے کے لیے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔ اس موقع پر اجلاس میں شریک سیکریٹریوں نے اپنے اپنے محکموں کو درپیش مسائل کے حوالے سے روشنی ڈالی ۔
Load Next Story