کراچی زمینوں کی الاٹمنٹ کی چھان بین کے لیے کمیشن قائم

شہر کاڈیٹا محفوظ کرلیا، 1995,2000,2005اور آج تک کے نقشے ہیں ،بورڈآف ریونیو

شہر کاڈیٹا محفوظ کرلیا، 1995,2000,2005اور آج تک کے نقشے ہیں ،بورڈآف ریونیو فوٹو :فائل

سپریم کورٹ نے گزشتہ7سال میں542افرادکو 17924ایکڑسرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی تحقیقات کیلیے ریٹائرڈ سینئرافسرنذرلغاری کی سربراہی میں کمیشن قائم کردیا ہے۔

فاضل بینچ نے چیف سیکریٹری سندھ اور ممبر سینئر بورڈ آف ریونیو سے زمینوں کی الاٹمنٹ کے متعلق 7یوم میں رپورٹ طلب کرلی ہے ، سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 2006سے 17924ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ، لیکن اس زمین کی الاٹ منٹ کے لیے کھلی نیلامی کے بجائے بورڈ آف ریونیو کی پرائس کمیٹی کی مقرر کردہ قیمت پر دیجاتی ہے لیکن صنعتی مقاصد اور دیگر مدوں میں اس زمین کی قیمت ایک چوتھائی تک کم کردی جاتی ہے۔


لیکن ان زمینوں پر ابھی تک کوئی صنعت نہیں لگائی گئی ، بورڈ آف ریونیو کے آئی ٹی ماہر ذوالفقار شاہ نے کمپیوٹر کی مدد سے پریذنٹیشن دیتے ہوئے بتایاکہ پوری کراچی کو ڈیٹا محفوظ ہوگیا ہے جس میں کراچی کے 1995,2000,2005اور آج تک کے نقشے ہیں ، انھوںنے بتایا کہ اس سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے پی ٹی نے حکومت سندھ کی اجازت کے بغیر 682جبکہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی نے 214ایکڑ زمین سمندر سے حاصل کرکے اضافہ کیا ، اسی طرح نمانوگوٹھ کے مکینوں نے اپنے گوٹھ کی حدوں میں رہنے کے بجائے سپرہائی وے کی جانب بڑھنا شروع کردیا۔

جسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ، سند تو بورڈ آف ریونیو جاری کرتا ہے ، سماعت کے دوران محمود اختر نقوی نے عدالت کوبتایا کہ قاسم آباد حیدرآباد میں سندھ بورڈ آف ریونیونے محکمہ جنگلات کی1400ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر من پسند افرادکو الاٹ کردی ہے ،جس سے قومی خزانے کو14ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے ، انھوں نے بتایاکہ ایگروفاریسٹ پالیسی کے تحت دیہہ شاہ بخاری کی زمین پہلے100جعلی آدمیوں کو الاٹ کی اور ہرآدمی کو14ایکڑ زمین دی گئی ، بعدازاں یہ زمین سب نے ایک بلڈر کو فروخت کردی ۔

انھوں نے موقف اختیارکیاکہ اگر بورڈ آف ریونیو میں کرپشن کا جائزہ لیا جائے تو ملک کے تمام قرضے نمٹائے جاسکتے ہیں ، اس میں پس پردہ وزیراعلی مظفر اویس ٹپی اور بورڈ آف ریونیو کے افسران ملوث ہیں ، چیف جسٹس نے کہاکہ مظفر اویس ٹپی کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے،، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ کمیشن تحقیقات کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرے کہ مذکورہ اراضی جن مقاصد کیلیے الاٹ کی گئی تھی وہ پورے ہوئے یا نہیں۔عدالت نے سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔
Load Next Story