بدامنی کے باعث صنعتیں منتقل ہو رہی ہیں صدر کراچی چیمبر

کراچی میں تجارت و صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے قیام امن، بلارکاوٹ توانائی کی دستیابی اور سیاسی استحکام بنیادی ضرورت ہے.

ماہ صیام میں بھتہ خوری کی واردتیں بڑھنے کے باعث بڑے تاجراور صنعتکار اپنے گھروں میں محبوس ہوکر رہ گئے ہی ، فوٹو آئی این پی

حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال تاحال ابتر ہے جس کی وجہ سے سرمائے کی منتقلی کے بعد اب شہر سے صنعتوں کی بھی منتقلی کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ یہ بات کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابرار احمد نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں کی جانب سے کراچی چیمبر کو حالات بہتر کرنے کی ضمانت بھی دی گئی ہے لیکن اس ضمانت کے باوجود شہر میں بھتہ خوری، بدامنی اور جرائم کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے، ماہ صیام میں بھتہ خوری کی واردتیں بڑھنے کے باعث بڑے تاجراور صنعتکار اپنے گھروں میں محبوس ہوکر رہ گئے ہیں حالانکہ اس سیزن کے دوران تاجروصنعت کار اپنی دکانوں اور صنعتوں میں تجارتی وپیداواری عمل کی جانچ پڑتال خود کرتے ہیں اور مستقبل کی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔


لیکن جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں اور اپنی جان کے خوف سے وہ دکانوں یا صنعتوں میں جانے کے بجائے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، ایسے حالات میں کراچی کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی سرمایہ کار نئی صنعت کیسے قائم کرے گا اور ان حالات میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی گھٹتی جارہی ہے۔ میاں ابرار احمد نے کہا کہ کراچی چیمبر کے اکابرین شہر میں مستقل بنیادوں پر قیام امن اور بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مکمل رابطے میں ہیں۔

کراچی میں تجارت و صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے قیام امن، بلارکاوٹ توانائی کی دستیابی اور سیاسی استحکام بنیادی ضرورت ہے، جب یہ تینوں مسائل حل ہوں گے تو شہر میں صنعت وتجارت کا پہیہ بغیرکسی رکاوٹ کے چل سکے گا جس کے مثبت اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوں گے، بصورت دیگر معاشی حالات خراب ہونے کے ساتھ ملک کو سنگین نوعیت کے بحرانوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Load Next Story