دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ
دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ ایک چشم کشا شرعی، دینی، مذہبی، فکری اورعلمی بریک تھرو ہے۔
دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ ایک چشم کشا شرعی، دینی، مذہبی، فکری اورعلمی بریک تھرو ہے۔ فوٹو: اے پی پی
لاہور:
صدر مملکت ممنون حسین نے انتہا پسندی کے سدباب اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم کا متفقہ بیانیہ ''پیغام پاکستان'' جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت اور قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں تشکیل پانے والا آئین پاکستان ہی ہمارا بنیادی بیانیہ ہے، خودکش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں، خوشی ہے متفقہ فتوے کو اداروں کی تائید بھی حاصل ہے.
علماء کا فتویٰ اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے جس پر عملدرآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہ ایوان صدر میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیراہتمام متفقہ قومی بیانیہ کے حوالے سے شایع ہونے والی کتاب ''پیغام پاکستان'' کے اجراء کے موقعے پر خطاب کر رہے تھے جس میں18سو سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ شایع کیا گیا ہے اور اس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
تقریب سے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی، صدر وفاق المدارس العربیہ ڈاکٹر عبدالرزاق، صدر تنظیم المدارس اہل سنت مفتی منیب الرحمان، صدر وفاق المدارس سلفیہ پروفیسر ساجد میر، صدر وفاق المدارس شیعہ علامہ سید ریاض حسین نجفی، صدر رابط المدارس مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا۔
دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ ایک چشم کشا شرعی ، دینی ، مذہبی ، فکری اورعلمی بریک تھرو ہے جس سے اہل فکر و نظر ، عوامی اور سیاسی و مذہبی حلقوں کو سوچنے کے بیش بہا زاویے ملیں گے جب کہ یہ پیغام امت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد اور امن و آشتی کی ضرورت کے ادراک و احساس کی جانب ایک بروقت اقدام ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ریاست مخالف عناصر جن میں تحریک طالبان پاکستان سمیت اس کے متعدد انتہا پسند دھڑے ، جنگ آزما مشتعل گروہ، کالعدم تنظیمیں شامل ہیں اب تتر بتر ہوچکی ہیں مگر ان کی باقیات اب بھی ملک کے لیے خطرہ ہیں اگرچہ ان کے نیٹ ورک تباہ ہوچکے ہیں ۔
گزشتہ دنوں ٹرمپ کے افسوسناک ٹویٹ کے بعد جتنے امریکی اعلیٰ عہدیدار پاکستان آئے انھیں نہ صرف پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں سے آگاہ کیا گیا بلکہ گزشتہ روز امریکا کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی امریکا حمایت نہیں کرتا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے جب کہ ان کا یہ استدلال بھی قابل غور ہے کہ اچھے اور برے دہشتگرد کی پالیسی پر امریکا یقین نہیں رکھتا۔اس پر پاکستان کے یقین سے بھی کسی کو انکار نہیں کرنا چاہیے۔
کیونکہ پاکستان نے بلاامتیاز فاٹا اور کراچی میں امن دشمن قوتوں ان کے خود ساختہ کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کا صفایا کردیا ہے جو بچ نکلے وہ افغانستان میں بیٹھ کر اسی سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ امریکا افغانستان میں امن کے قیام کی کیمسٹری میں اس فیکٹر سے دانستہ اغماض برت رہا ہے اسی طرح داعش کا ظہور بھی خطے میں امریکی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ امریکا کو خطے کا اصل دشمن افغان سرحد کے اندر محفوظ پناہ گاہوں میں تلاش کرنا چاہیے، پاکستان پر اپنی ناکامی کا ملبہ نہ گرائے۔
صدر ممنون نے کہا پاکستان کا آئین قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس فتوے کی شکل میں تمام دینی مکاتب فکر نے قرآن و سنت کی روشنی میں اتفاق رائے کے ساتھ ایک اچھی دستاویز مرتب کردی ہے جس کے ذریعے فرقہ واریت اور دین کو فساد فی الارض کے لیے استعمال کرنے کی دلیل رد ہو جاتی ہے اور اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے آتا ہے، اس کامیابی پر اہلِ علم مبارکباد کے مستحق ہیں۔
''پیغام پاکستان'' کا بیانیہ ان لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا جو بعض ناپسندیدہ عناصر کے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہو کر راستے سے بھٹک گئے تھے۔ شدت پسندی کے حوالے سے ایک جامع دستاویز کی تیاری میں کامیابی کے بعد معاشرے میں فرقہ واریت کی فروغ پذیر مختلف شکلوں پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ حال ہی میں فرقہ واریت کے بعض ایسے مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں جو کئی حوالوں سے تشویشناک ہیں۔
اس ناپسندیدہ رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں فتنوں کا ایک اور بڑا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا۔ ستر اور نوے کی دہائی کے درمیان ریاست و ریاستی اداروں نے فرائض کی ادائیگی نہیں کی۔ فرائض کی عدم ادائیگی کے باعث ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تمام مسالک کے علماء کرام نے پیغام پاکستان پراتفاق کر کے ثابت کر دیا ہے کہ معاملے پر ملک کی سول و عسکری قیادت اور پوری قوم یکجا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا اب ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہیے، پاکستان نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اپنے حصے کا کام کرے گی۔ قومی بیانیہ فوج، سیکیورٹی اداروں اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بندوق کے ذریعے شریعت کا مطالبہ غلط ہے ہم اس سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، ہماری اصل شناخت اسلام ہے مسلک نہیں۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بیانیہ درست سمت میں مثبت کوشش ہے جس سے مقصد کے حصول میں آسانی ہو گی۔
مشترکہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشتگردی کی تمام صورتیں اسلامی شریعت کی ر و سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں، خودکش حملے کرنے، کروانے، حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں، ریاست پاکستان شرعی طور پر ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی مجاز ہے۔ دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔اس بیانیے میں غیر مسلح تحریکوں اور باطل گروہوں کے اہداف کے درمیان فرق کرنے کی فکر سے بھی مدد لینے کا سامان موجود ہے، دنیا آج دہشتگردی کی اجتماعی اور انفرادی لپیٹ میںآئی ہے، لہذا موجودہ بیانیہ عالمی برادری کی دسترس میں جانا ناگزیر ہے۔اس میں امن کا پیغام ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین نے انتہا پسندی کے سدباب اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم کا متفقہ بیانیہ ''پیغام پاکستان'' جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت اور قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں تشکیل پانے والا آئین پاکستان ہی ہمارا بنیادی بیانیہ ہے، خودکش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں، خوشی ہے متفقہ فتوے کو اداروں کی تائید بھی حاصل ہے.
علماء کا فتویٰ اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے جس پر عملدرآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہ ایوان صدر میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیراہتمام متفقہ قومی بیانیہ کے حوالے سے شایع ہونے والی کتاب ''پیغام پاکستان'' کے اجراء کے موقعے پر خطاب کر رہے تھے جس میں18سو سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ شایع کیا گیا ہے اور اس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
تقریب سے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی، صدر وفاق المدارس العربیہ ڈاکٹر عبدالرزاق، صدر تنظیم المدارس اہل سنت مفتی منیب الرحمان، صدر وفاق المدارس سلفیہ پروفیسر ساجد میر، صدر وفاق المدارس شیعہ علامہ سید ریاض حسین نجفی، صدر رابط المدارس مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا۔
دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ ایک چشم کشا شرعی ، دینی ، مذہبی ، فکری اورعلمی بریک تھرو ہے جس سے اہل فکر و نظر ، عوامی اور سیاسی و مذہبی حلقوں کو سوچنے کے بیش بہا زاویے ملیں گے جب کہ یہ پیغام امت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد اور امن و آشتی کی ضرورت کے ادراک و احساس کی جانب ایک بروقت اقدام ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ریاست مخالف عناصر جن میں تحریک طالبان پاکستان سمیت اس کے متعدد انتہا پسند دھڑے ، جنگ آزما مشتعل گروہ، کالعدم تنظیمیں شامل ہیں اب تتر بتر ہوچکی ہیں مگر ان کی باقیات اب بھی ملک کے لیے خطرہ ہیں اگرچہ ان کے نیٹ ورک تباہ ہوچکے ہیں ۔
گزشتہ دنوں ٹرمپ کے افسوسناک ٹویٹ کے بعد جتنے امریکی اعلیٰ عہدیدار پاکستان آئے انھیں نہ صرف پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں سے آگاہ کیا گیا بلکہ گزشتہ روز امریکا کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی امریکا حمایت نہیں کرتا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے جب کہ ان کا یہ استدلال بھی قابل غور ہے کہ اچھے اور برے دہشتگرد کی پالیسی پر امریکا یقین نہیں رکھتا۔اس پر پاکستان کے یقین سے بھی کسی کو انکار نہیں کرنا چاہیے۔
کیونکہ پاکستان نے بلاامتیاز فاٹا اور کراچی میں امن دشمن قوتوں ان کے خود ساختہ کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کا صفایا کردیا ہے جو بچ نکلے وہ افغانستان میں بیٹھ کر اسی سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ امریکا افغانستان میں امن کے قیام کی کیمسٹری میں اس فیکٹر سے دانستہ اغماض برت رہا ہے اسی طرح داعش کا ظہور بھی خطے میں امریکی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ امریکا کو خطے کا اصل دشمن افغان سرحد کے اندر محفوظ پناہ گاہوں میں تلاش کرنا چاہیے، پاکستان پر اپنی ناکامی کا ملبہ نہ گرائے۔
صدر ممنون نے کہا پاکستان کا آئین قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس فتوے کی شکل میں تمام دینی مکاتب فکر نے قرآن و سنت کی روشنی میں اتفاق رائے کے ساتھ ایک اچھی دستاویز مرتب کردی ہے جس کے ذریعے فرقہ واریت اور دین کو فساد فی الارض کے لیے استعمال کرنے کی دلیل رد ہو جاتی ہے اور اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے آتا ہے، اس کامیابی پر اہلِ علم مبارکباد کے مستحق ہیں۔
''پیغام پاکستان'' کا بیانیہ ان لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا جو بعض ناپسندیدہ عناصر کے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہو کر راستے سے بھٹک گئے تھے۔ شدت پسندی کے حوالے سے ایک جامع دستاویز کی تیاری میں کامیابی کے بعد معاشرے میں فرقہ واریت کی فروغ پذیر مختلف شکلوں پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ حال ہی میں فرقہ واریت کے بعض ایسے مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں جو کئی حوالوں سے تشویشناک ہیں۔
اس ناپسندیدہ رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں فتنوں کا ایک اور بڑا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا۔ ستر اور نوے کی دہائی کے درمیان ریاست و ریاستی اداروں نے فرائض کی ادائیگی نہیں کی۔ فرائض کی عدم ادائیگی کے باعث ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تمام مسالک کے علماء کرام نے پیغام پاکستان پراتفاق کر کے ثابت کر دیا ہے کہ معاملے پر ملک کی سول و عسکری قیادت اور پوری قوم یکجا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا اب ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہیے، پاکستان نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اپنے حصے کا کام کرے گی۔ قومی بیانیہ فوج، سیکیورٹی اداروں اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بندوق کے ذریعے شریعت کا مطالبہ غلط ہے ہم اس سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، ہماری اصل شناخت اسلام ہے مسلک نہیں۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بیانیہ درست سمت میں مثبت کوشش ہے جس سے مقصد کے حصول میں آسانی ہو گی۔
مشترکہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشتگردی کی تمام صورتیں اسلامی شریعت کی ر و سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں، خودکش حملے کرنے، کروانے، حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں، ریاست پاکستان شرعی طور پر ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی مجاز ہے۔ دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔اس بیانیے میں غیر مسلح تحریکوں اور باطل گروہوں کے اہداف کے درمیان فرق کرنے کی فکر سے بھی مدد لینے کا سامان موجود ہے، دنیا آج دہشتگردی کی اجتماعی اور انفرادی لپیٹ میںآئی ہے، لہذا موجودہ بیانیہ عالمی برادری کی دسترس میں جانا ناگزیر ہے۔اس میں امن کا پیغام ہے۔