کالا پل کے قریب سے ملزمان نے 2 خواتین کو اغوا کر لیا

اسٹاپ پرکھڑی خاتون نے واقعے سے پولیس کو آگاہ کیا، درخواست صدر تھانے میں جمع۔

سر راہ 2 خواتین کے اغوا کے واقعے کی تہہ تک جلد ہی پہنچ جائیں گے، ایس پی صدر۔ فوٹو: فائل

کالا پل سے جناح اسپتال جاتے ہوئے مزار کے قریب سے سوزوکی ہائی روف میں سوار ماسک لگائے ہوئے نامعلوم ملزمان دن دیہاڑے 2 خواتین کو اغوا کر کے فرار ہوگئے۔

صدر تھانے میں حنا علی نامی لڑکی نے 2 خواتین کے اغوا سے متعلق درخواست جمع کرائی ہے جس میں خاتون نے بتایا کہ وہ 16 جنوری کی صبح رکشے میں اپنی رہائش گاہ جمشید روڈ سے کلفٹن میں واقع اپنے دفتر جا رہی تھی کہ کالا پل پر سیدھے ہاتھ سے جانے والی سڑک جو کہ جناح اسپتال کی جانب جاتی ہے جہاں پر ایک مزار بھی آتا ہے اس سے کچھ فاصلے پر جاکر رکشا خراب ہوگیا جس کے بعد وہ رکشا چھوڑ کر آگے کی جانب گئی جہاں پہلے سے 2 خواتین کھڑی تھیں اور میں بھی ان کے قریب جا کر کھڑی ہوگئی اس دوران ایک سفید رنگ کی سوزوکی ہائی رؤف آکر رکھی جس کے شیشے سیاہ تھے اور اس میں سے اترنے والے 4 لڑکوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ماسک لگائے ہوئے تھے اور ان لڑکوں نے میرے ساتھ کھڑی ہوئی دیگر 2 خواتین کو زبردستی ہاتھ پکڑ کر گاڑی میں بٹھا لیا اور ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا میری جانب بڑھا اور ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگا تو میں جھٹکے سے ہاتھ چھڑا لیا اور شور بھی مچایا تو وہاں سے گزرنے والی ایک کار جس میں 2 لڑکے سوار تھے وہ رکے اور بھاگ کر میری جانب آئے تو اس دوران جو ملزم لڑکا مجھے اغوا کی کوشش کر رہا تھا وہاں سے بھاگ کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دونوں خواتین کو لے کر فرار ہوگیا۔


خاتون حنا علی کے مطابق اس واردات کے بعد وہ رکشا کر کے اپنے دفتر چلی گئی، بعدازاں واقعے سے متعلق درخواست دینے آئی ہوں تاکہ پولیس ان ملزمان کو تلاش کر کے گرفتار کریں۔

ایس پی صدر توقیرنعیم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پولیس کو معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے جبکہ اس واقعے کی عینی شاہد خاتون نے خود پولیس سے رابطہ کیا ہے اس واقعے سے پولیس کو آگاہ کر کے ایک ذمے دار شہری اور بہادری کا ثبوت دیا ہے۔

توقیر نعیم نے کہا کہ جائے وقوعہ کے اطراف سرکاری ادارے قائم ہیں اور پولیس دیگر عینی شاہدین کے بیانات کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی تلاش کر رہی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ عینی شاہد خاتون کی درخواست کے مطابق اغوا ہونے والی 2 خواتین نے واردات کے دوران کوئی مزاحمت نہیں کی جبکہ شہر میں کسی خاتون کے اغوا یا لاپتہ ہونے کی سے متعلق رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی ہے شبہ کیا جارہا ہے کہ مبینہ طور پر اغوا کی جانے والی خواتین بھی ملزمان کی ساتھی تھیں اور شبہ ہے کہ ملزمان اور ان دونوں خواتین کا ہدف حنا علی تھی جو کہ اغوا ہونے سے بچ گئی تاہم ابھی تحقیقات مختلف زاویوں پر جاری ہے۔
Load Next Story