فچ نے بھارتی ریٹیل سیکٹر کا آئوٹ لک منفی کر دیا

بھارت میں جنوری سے مارچ کی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی رفتار صرف5.3 فیصد رہی تھی

صارف اخراجات کی سطح 7 سال کی کم ترین سطح پر آنے پر ریٹنگ ایجنسی کا فیصلہ، فوٹو فائل

گلوبل ریٹنگز ایجنسی فچ نے بھارت میں صارف اخراجات کی سطح 7سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد ریٹیل سیکٹر کا آئوٹ لک ٹھوس سے منفی کردیا۔ یہ اعلان معیشت کو بحالی کی جانب گامزن کرنے کیلیے بے تاب منموہن حکومت کیلیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی سے جاری بیان کے مطابق معاشی سست روی اور قرضوں پر لاگتوں میں اضافے کے باعث اخراجات کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔


یاد رہے کہ بھارت میں جنوری سے مارچ کی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی رفتار صرف5.3 فیصد رہی تھی۔ فچ کا کہنا ہے کہ جب تک افراط زر کی شرح (جواس وقت 10 فیصد ہے) کم نہیں ہوتی اور حقیقی اجرتوں میں نمایاں اضافہ نہیں ہوجاتا تب تک صارف اخراجات میں اضافے کاامکان نہیں، اسٹورز میں توسیع اور طویل انوینٹری مدت کی وجہ سے بیشتر ریٹیلرز کی سرمائے کی ضروریات میں اضافے کا امکان ہے جبکہ کاروباری ماحول خراب ہونے سے ریٹیلرز کی مالی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

رواں سال اب تک خوردہ فروخت جمود کا شکار رہی ہے اور اسٹورز اشیا پر رعایتیں دے رہے ہیں جس سے ان کا منافع کم ہو رہا ہے، وال مارٹ جیسی سپرمارکیٹس کو اجازت ملنے سے ریٹیلرز کو بیرونی سرمایہ کاری تک آسانی رسائی اور مالی پوزیشن پر اچھا اثر پڑسکتا ہے۔
Load Next Story