حکومت سیمنٹ انڈسٹری کوتباہی سے بچائے اسلام آباد چیمبر

تعمیراتی سرگرمیوں کو ترقی دینے سے سیمنٹ کی صنعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے.

سیمنٹ انڈسٹری کوتباہ ہونے سے بچانے کیلیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے، فوٹو فائل

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یاسر سخی بٹ نے سیمنٹ کی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیمنٹ انڈسٹری معاشی سرگرمیوںکو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ سیمنٹ انڈسٹری کوتباہ ہونے سے بچانے کیلیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ ایک بیان میں انھوںنے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت رواںسال سیمنٹ کی برآمدات میں1.64 کم ہو گئی ہے۔

جس کی سب سے بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں اور شرح سودمیں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میںسیمنٹ مصنوعات کی قیمتوں کاکم ہونا ہے۔انھوںنے کہاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کو ترقی دینے سے سیمنٹ کی صنعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان میںسیمنٹ وافر مقدار میں دستیاب ہے جسے باآسانی زمینی راستوںکے ذریعے ہمسایہ ممالک کوبرآمد کیا جا سکتا ہے، پاکستان اور بھارت کی جانب سے دونوںممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینے کیلیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔


لیکن اس کے باوجودسیمنٹ سیکٹر کو بھارتی سرحد پرنان ٹیرف جیسے مسائل کاسامناہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں بھارت پاکستانی سیمنٹ درآمدکرنیوالا سب سے بڑا ملک ہے، اگرنان ٹیرف رکاوٹوں کوختم کر دیا جائے تو دونوں ممالک میں معاشی تعلقات کومزید فروغ دیا جاسکتاہے۔ انھوںنے کہا کہ سیمنٹ سیکٹر ڈیڑھ لاکھ سے زائدافرادکو روزگارفراہم کر رہا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی مد میں حکومت کو بڑے پیمانے پر ادائیگیاں کر رہا ہے

اور اس وقت مجموعی حکومتی خزانے میں 30 ارب روپے سے زائدحصہ سیمنٹ سیکٹر کا ہے اس لیے حکومت کوچاہیے کہ سیمنٹ یونٹس کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق چلانے کیلیے تمام اقدامات کیے جائیں، حکومت سیمنٹ کی برآمدات کوفروغ دینے کیلیے نئی مارکیٹیں تلاش کرے جیساکہ سری لنکا نے بھی بڑی مقدا میں پاکستان سے سیمنٹ درآمدکرنے میںدلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہماری سیمنٹ انڈسٹری پیشکش کوعملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو گئی تو سری لنکا کی مارکیٹ میں پاکستانی سیمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
Load Next Story