پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ٹی بی کاعالمی دن منایا جائیگا

مرض ہولناک صورت اختیار کررہا ہے، سندھ میں 4 لاکھ 58 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں۔

فوٹو : فائل

پاکستان میں 60 سال گزرنے کے باوجود بھی ملک سے ٹی بی کے مرض کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا جبکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی اسی عارضے میں مبتلا تھے تاہم حکومت نے اس مرض کے خاتمے کیلیے موثر اقدامات نہیں کیے یہی وجہ ہے پاکستان میں آج بھی ٹی بی کا مرض ہولناک صورت اختیارکرتاجارہا ہے۔

صوبے میں جاری ٹی بی کنٹرول پروگرام سندھ میں 4 لاکھ 58 ہزار 750 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ سندھ میں 266 مراکز بھی قائم ہیں جہاں ٹی بی کے مریضوں کوعلاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں، ٹی بی کا ایک مریض سال میں15 صحت مندافرادکو اپنے مرض سے متاثرکررہا ہے اس طرح پاکستان میں یہ مرض شدت اختیارکرتاجارہا ہے۔




ٹی بی کا مرض 2 ہفتے سے زائد کھانسی رہنے ،بخارکاہونا،وزن میں کمی کی علامات ہوتی ہیں ، اس کا جرثومہ متاثرہ افرادکے کھانسنے ، چھینکنے سے باہر آتا ہے جوگھرکے صحت مند افرادکومتاثرکرتا ہے،اس مرض میں بھوک کا لگنا بھی واضح علامات ہوتی ہیں، کمزورمدافعت رکھنے والے افراد اوربچے جلد اس جرثومے کاشکار ہوجاتے ہیں۔

ٹی بی کے مریضوں کے لیے عالمی ادراہ صحت کے وضح کردہ طریقہ علاج ڈوٹس سے کیاجارہاہے اس کے علاج کا دورانیہ 9 ماہ تک جاری رہتا ہے اس دوران متاثرہ مریض کومسلسل ادویات کھانی پڑتی ہیں ، سندھ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں 4 لاکھ 58 ہزار 750 مریض رجسٹرڈ ہیں۔
Load Next Story