سابق کرکٹرز نے ٹیم سے عمدہ کھیل کی امیدیں باندھ لیں

بیٹسمین پاور پلے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، بولرز کو رنز لٹانے سے گریز کرنا ہوگا، باسط

بیٹسمین پاور پلے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، بولرز کو رنز لٹانے سے گریز کرنا ہوگا، باسط فوٹو: فائل

سابق کرکٹرز نے پانچویں ون ڈے میں ٹیم سے عمدہ کھیل کی امیدیں باندھ لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بیٹنگ لائن نے ذمہ داری کا ثبوت دیا تو جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی جا سکتی ہے، سابق ٹیسٹ بیٹسمین باسط علی نے کہا کہ اتوار کو پانچویں میچ میں ہمارے بیٹسمینوں کا کردار کلیدی ہوگا، پہلے بیٹنگ کی صورت میں ٹیم کوکامیابی کے لیے کم ازکم 300 رنز بنانے ہوں گے، اوپنرز یا ون ڈاؤن بیٹسمین کی سنچری سے پاکستان دباؤ سے آزاد ہو جائے گا۔

محمد حفیظ میچ کا پانسہ بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، دباؤ کے شکار یونس خان کو اپنا انتخاب درست ثابت کرنا ہوگا،عمران فرحت کو جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے، انھوں نے کہا کہ ''مسٹر ٹک ٹک'' کا لقب دینے والوں کو چپ کرانے والے مصباح الحق چوتھے ون ڈے کی فارم کو دہرا سکتے ہیں،انھوں نے کہا کہ گیند زیادہ اسپن نہیں کرے گی، پاکستانی بیٹسمینوں کو پاور پلے سے بھر پور فائدہ اٹھانا اور بولرز کو رنز کا خزانہ لٹانے سے گریز کرنا ہوگا،میچ میں میزبان ٹیم کی کامیابی کا امکان60 فیصد ہے۔




ون ڈے کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے سابق ٹیسٹ بولر جلال الدین نے کہا کہ بیٹسمینوں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا،البتہ بولنگ اچھی رہی تو ٹیم کی فتح کا امکان ہے، انھوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں میں فرق واضح اور میزبان کی بیٹنگ و فیلڈنگ زیادہ بہتر ہے،اگر پاکستان نے حریف کو250 رنز تک محدود رکھا تو کامیابی مقدر بن سکتی ہے ورنہ صورتحال مختلف ہوگی۔

سابق ٹیسٹ اسپنر توصیف احمد نے کہا کہ چوتھے ون ڈے میں ناکامی کے بعد میزبان ٹیم دباؤ کا شکار جبکہ گرین شرٹس کا مورال بلند ہے،اگر بیٹسمینوں نے تیز وکٹ پر ہمت دکھائی تو سیریز پاکستان کے نام ہو سکتی ہے اور یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
Load Next Story