واٹسن کو کپتان بنائے جانے پر سابق کرکٹرز کی تنقید
بُرے برتائوکا اچھا صلہ دیاگیا(رمیز)ان حالات میں ذمہ داری سونپنا درست نہیں،وسیم.
بُرے برتائوکا اچھا صلہ دیاگیا(رمیز)ان حالات میں ذمہ داری سونپنا درست نہیں،وسیم۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
سابق پاکستانی کپتانوں نے ڈسلپن کی خلاف ورزی کے بعد شین واٹسن کو آسٹریلوی کپتان بنانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
رمیز راجہ کے مطابق آل رائونڈر کو بُرے برتائو کا اچھا صلہ دیاگیا، وسیم اکرم نے کہا کہ ان حالات میں واٹسن کو قیادت سونپنا درست فیصلہ نہیں لگتا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا نے چند دن قبل موہالی ٹیسٹ کے موقع پر نائب کپتان شین واٹسن سمیت چار پلیئرز کوڈسپلن کی خلاف ورزی پر ڈراپ کردیا تھا، جیمز پیٹنسن، عثمان خواجہ اور مچل جونسن نے تو سزا قبول کر لی مگرواٹسن سخت ناراض ہو گئے اور اپنا سامان اٹھاکر فوری طور پر وطن واپس چلے گئے تھے۔
اس کے بعد بیٹے کی پیدائش سے ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، وہ صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد نہ صرف بھارت واپس آگئے بلکہ کلارک کی انجری کے بعد دہلی ٹیسٹ میں کپتانی بھی کر رہے ہیں، اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق پاکستانی قائد رمیز راجہ نے کہا کہ میں موجودہ حالات میں واٹسن کو کپتان بنانے کے فیصلے کو درست نہیں سمجھتا، یہ انتہائی مضحکہ خیز حرکت ہے، آسٹریلیا کے پاس اچھی مینجمنٹ موجود ہے،ایشیائی ماحول میں تو ایسے واقعات ہوسکتے ہیں لیکن آسٹریلیا میں نہیں۔
واٹسن کو بُرے برتائو کا اچھا صلہ دیاگیا، انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے ساتھ ابتدا ہی سے درست انداز میں نہیں نمٹا گیا، چاروں پلیئرز کو تنبیہ کرتے ہوئے کوئی بھی ایکشن سیریز کے بعد لینا بہتر رہتا۔ سابق آل رائونڈر وسیم اکرم نے اس معاملے پر کہا کہ میں بھی ان حالات میں واپسی پر واٹسن کو کپتان بنانے کا حامی نہیں،اسی کے ساتھ کھلاڑیوں کو تحریری طور پر تجاویز دینے کا پابند بنانا بھی درست نہیں ہے۔
ہم نے تعلیم کو چھوڑ کر کرکٹ کو چنااور اگر کوچ مجھے مضمون لکھنے کو کہتا تو میں فوراً انکار کر دیتا، ہم کرکٹرز ہیں ہمیں تعلیم کے میدان میں ٹاپ پوزیشن نہیں پانی کرکٹ میں پرفارم کرنا ہے، سابق پیسر نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر میں ایسے واقعے پر چار پلیئرز پر ایک ٹیسٹ کی پابندی کی سزا کو زیادہ سمجھتا ہوں، البتہ اگر معاملہ کچھ اور ہے تو آسٹریلیا کو سب کچھ دنیا کو بتانا چاہیے، ڈسپلن سب کے لیے ہے اور کسی کو اپنے اسٹیٹس کی وجہ سے غلط فہمی کا شکارنہیں ہونا چاہیے۔
رمیز راجہ کے مطابق آل رائونڈر کو بُرے برتائو کا اچھا صلہ دیاگیا، وسیم اکرم نے کہا کہ ان حالات میں واٹسن کو قیادت سونپنا درست فیصلہ نہیں لگتا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا نے چند دن قبل موہالی ٹیسٹ کے موقع پر نائب کپتان شین واٹسن سمیت چار پلیئرز کوڈسپلن کی خلاف ورزی پر ڈراپ کردیا تھا، جیمز پیٹنسن، عثمان خواجہ اور مچل جونسن نے تو سزا قبول کر لی مگرواٹسن سخت ناراض ہو گئے اور اپنا سامان اٹھاکر فوری طور پر وطن واپس چلے گئے تھے۔
اس کے بعد بیٹے کی پیدائش سے ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، وہ صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد نہ صرف بھارت واپس آگئے بلکہ کلارک کی انجری کے بعد دہلی ٹیسٹ میں کپتانی بھی کر رہے ہیں، اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق پاکستانی قائد رمیز راجہ نے کہا کہ میں موجودہ حالات میں واٹسن کو کپتان بنانے کے فیصلے کو درست نہیں سمجھتا، یہ انتہائی مضحکہ خیز حرکت ہے، آسٹریلیا کے پاس اچھی مینجمنٹ موجود ہے،ایشیائی ماحول میں تو ایسے واقعات ہوسکتے ہیں لیکن آسٹریلیا میں نہیں۔
واٹسن کو بُرے برتائو کا اچھا صلہ دیاگیا، انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے ساتھ ابتدا ہی سے درست انداز میں نہیں نمٹا گیا، چاروں پلیئرز کو تنبیہ کرتے ہوئے کوئی بھی ایکشن سیریز کے بعد لینا بہتر رہتا۔ سابق آل رائونڈر وسیم اکرم نے اس معاملے پر کہا کہ میں بھی ان حالات میں واپسی پر واٹسن کو کپتان بنانے کا حامی نہیں،اسی کے ساتھ کھلاڑیوں کو تحریری طور پر تجاویز دینے کا پابند بنانا بھی درست نہیں ہے۔
ہم نے تعلیم کو چھوڑ کر کرکٹ کو چنااور اگر کوچ مجھے مضمون لکھنے کو کہتا تو میں فوراً انکار کر دیتا، ہم کرکٹرز ہیں ہمیں تعلیم کے میدان میں ٹاپ پوزیشن نہیں پانی کرکٹ میں پرفارم کرنا ہے، سابق پیسر نے مزید کہا کہ ذاتی طور پر میں ایسے واقعے پر چار پلیئرز پر ایک ٹیسٹ کی پابندی کی سزا کو زیادہ سمجھتا ہوں، البتہ اگر معاملہ کچھ اور ہے تو آسٹریلیا کو سب کچھ دنیا کو بتانا چاہیے، ڈسپلن سب کے لیے ہے اور کسی کو اپنے اسٹیٹس کی وجہ سے غلط فہمی کا شکارنہیں ہونا چاہیے۔