کوکا بورا گیندوں کا استعمالٹیمیں مالی پریشانی میں مبتلا

کئی محکموں نے کرکٹ بورڈ کو فیصلے پر نظر ثانی کے لیے خطوط لکھ دیے،ذرائع.

کئی محکموں نے کرکٹ بورڈ کو فیصلے پر نظر ثانی کے لیے خطوط لکھ دیے،ذرائع۔ فوٹو: فائل

ڈومیسٹک کرکٹ میں کوکا بورا گیندوں کے استعمال نے ڈپارٹمنل ٹیموں کو مالی پریشانی میں مبتلا کردیا۔

کئی محکموں نے پی سی بی کو فیصلے پر نظر ثانی کیلیے خطوط لکھ دیے، اخراجات پر کم از کم 50 فیصد سبسڈی دینے کا مطالبہ سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق قومی ون ڈے وٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹوئنٹی20میں ہم منصب محمد حفیظ نے تجویز پیش کی تھی کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کوکا بورا کے استعمال سے کھلاڑی انٹرنیشنل مقابلوں میں بیٹنگ اور بولنگ کرتے ہوئے مشکل محسوس نہیں کریں گے اور پرفارمنس میں نمایاں بہتری آئے گی، مشورے پر فوری عمل کرتے ہوئے پی سی بی نے آسٹریلیا سے درآمد کردہ گیندوں کا استعمال تو شروع کرا دیا لیکن اخراجات میں بے پناہ اضافہ نے ٹیموں کو مالی مشکلات میں مبتلا کردیا۔

ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹس میں ہر ٹیم کو مقابلے سے قبل پریکٹس کیلیے 6 اور میچ کے دوران ایک اننگز میں 2 گیندوں کی ضرورت ہوتی ہے،کسی خرابی کے پیش نظر 2 بالز اضافی بھی رکھنا پڑتی ہیں، کوکا بورا کی قیمت 12ہزار کے قریب ہے، مجموعی طور پر 10غیر ملکی گیندوں پر ایک لاکھ 20 ہزار روپے لاگت آتی ہے، ایک ٹیم اگر کسی ایونٹ میں 5میچ کھیلے تو اسے 6لاکھ روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے،اس سے قبل استعمال کی جانے والی گیند کی مالیت15سو روپے تھی، میچ پر صرف 15ہزار اور ٹورنامنٹ کے دوران 75 ہزار روپے خرچ ہوتے۔




ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ایونٹ کے دوران 5 لاکھ سے زائد کے اضافی اخراجات پر ڈومیسٹک ٹیمیں بلبلا اٹھی ہیں،کئی ڈپارٹمنٹس نے پی سی بی کو خط لکھ کر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، اداروں کے اسپورٹس آفیشلز کا کہنا ہے کہ کھیل کے فروغ کیلیے سرگرم رہتے ہوئے کرکٹرز کو ملازمتیں دیتے ہیں، ان کے ٹی اے، ڈی اے اور میدانوں کی دستیابی پر بھی بھاری لاگت آتی ہے، کوکا بورا کی صورت میں اضافی بوجھ نے پریشانی کا شکار کردیا ہے، طویل طرز کے مقابلوں میں زیادہ گیندوں کا استعمال ہونے سے تو اخراجات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

بورڈ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے، انھوں نے کہا ماضی میں مہنگی بال کا استعمال شروع کرایا گیا تو ٹیموں کو سبسڈی دی گئی تھی، ہمارے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بار بھی 50 فیصد اخراجات بورڈ برداشت کرے، قومی ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ کا ڈپارٹمنٹل رائونڈ اپریل کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگا، اس سے قبل ہی بورڈ کا کوئی فیصلہ مختلف ٹیموں کی پریشانی میں کمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Load Next Story