وقت بتائے گاعمران کوکتنے ووٹ ملتے ہیں طارق عظیم
عمران نے ن لیگ کوتگڑاچیلنج دیا،فوادچوہدری،وعدوں میں حقیقت نہیں،مظہرعباس.
جلسہ اچھا تھاتاہم عمران نے بہت دیرکردی،کاشف عباسی،ٹودی پوائنٹ میں گفتگو. فوٹو فائل
مسلم لیگ(ن) کے رہنما طارق عظیم نے کہاہے کہ اس بات کا افسوس ہے کہ ہم عمران خان کا منشور نہیں سن پائے۔
تاہم یہ تا ثر لینا غلط ہے کہ جتنا بڑا جلسہ ہو گا اتنے ہی زیادہ ووٹ بھی ملیں گے۔ اصغرخان بھی بڑے بڑے جلسے کرچکے ہیں، جماعت اسلامی کے جلسے بھی بڑے ہوتے ہیں لیکن کیا ان کے ووٹ بھی اتنے ہی ہوتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹودی پوائنٹ کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے طارق عظیم نے کہا کہ اس بار تحریک انصاف نے گلوکار اور بینڈ بھی زیادہ بلوائے تھے۔
اکثر نوجوان تو ان کو سننے گئے تھے، آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ ان کو کتنے ووٹ ملتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما فوادچوہدری نے کہاکہ عمران خان کے مذہب کے استعمال سے یوں لگا جیسے ماڈرن برگر جماعت اسلامی کھڑی ہوئی ہے، منافقت اور مذہب کا بیوپار ملک کو بہت نقصان پہنچا رہا ہے، ابھی اقتدار ملا نہیں ہے اور گورنرہائوس کی دیواریں گرانے کی بات ہو رہی ہے، عمران خان نے مسلم لیگ(ن) کو ایک تگڑا چیلنج دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹرکرنٹ افئیرز مظہرعباس نے کہا کہ عمران کے 6 وعدے سلوگن ضرور ہیں لیکن ان وعدوں میں کوئی حقیقت دکھائی نہیں دی۔ ان کو کہنا چاہیے تھے کہ ان کی پارٹی کا کوئی عہدیدار ایسا نہیں کرے گا۔ عمران خان نے سیاسی ناتجربے کاری کا بھی ثبوت دیا۔ ان کا انتخابی نشان کہیں نظر نہیں آیا۔ انتخابی نشان متعارف کرانے کا یہ بہت ا چھا موقع تھا۔ اینکرپرسن کاشف عباسی نے کہاکہ تحریک انصاف کا جلسہ اچھا تھا تاہم عمران نے جلسہ کرنے میں بہت تاخیر کردی۔ اس وقت تک اکثر لوگوں نے ووٹ دینے کے لیے اپنا ذہن بنالیا ہے۔ اگر یہ جلسہ کوئی 2ماہ پہلے ہوجاتا تو عمران اور ان کی پارٹی کی مقبولیت بڑھ جاتی۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں کے ووٹ توڑے گی۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس سے صرف لاہور کے حلقے ہی متا ثر ہوں گے یا پورا ملک متاثر ہوگا۔
تاہم یہ تا ثر لینا غلط ہے کہ جتنا بڑا جلسہ ہو گا اتنے ہی زیادہ ووٹ بھی ملیں گے۔ اصغرخان بھی بڑے بڑے جلسے کرچکے ہیں، جماعت اسلامی کے جلسے بھی بڑے ہوتے ہیں لیکن کیا ان کے ووٹ بھی اتنے ہی ہوتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹودی پوائنٹ کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے طارق عظیم نے کہا کہ اس بار تحریک انصاف نے گلوکار اور بینڈ بھی زیادہ بلوائے تھے۔
اکثر نوجوان تو ان کو سننے گئے تھے، آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ ان کو کتنے ووٹ ملتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما فوادچوہدری نے کہاکہ عمران خان کے مذہب کے استعمال سے یوں لگا جیسے ماڈرن برگر جماعت اسلامی کھڑی ہوئی ہے، منافقت اور مذہب کا بیوپار ملک کو بہت نقصان پہنچا رہا ہے، ابھی اقتدار ملا نہیں ہے اور گورنرہائوس کی دیواریں گرانے کی بات ہو رہی ہے، عمران خان نے مسلم لیگ(ن) کو ایک تگڑا چیلنج دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹرکرنٹ افئیرز مظہرعباس نے کہا کہ عمران کے 6 وعدے سلوگن ضرور ہیں لیکن ان وعدوں میں کوئی حقیقت دکھائی نہیں دی۔ ان کو کہنا چاہیے تھے کہ ان کی پارٹی کا کوئی عہدیدار ایسا نہیں کرے گا۔ عمران خان نے سیاسی ناتجربے کاری کا بھی ثبوت دیا۔ ان کا انتخابی نشان کہیں نظر نہیں آیا۔ انتخابی نشان متعارف کرانے کا یہ بہت ا چھا موقع تھا۔ اینکرپرسن کاشف عباسی نے کہاکہ تحریک انصاف کا جلسہ اچھا تھا تاہم عمران نے جلسہ کرنے میں بہت تاخیر کردی۔ اس وقت تک اکثر لوگوں نے ووٹ دینے کے لیے اپنا ذہن بنالیا ہے۔ اگر یہ جلسہ کوئی 2ماہ پہلے ہوجاتا تو عمران اور ان کی پارٹی کی مقبولیت بڑھ جاتی۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں کے ووٹ توڑے گی۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس سے صرف لاہور کے حلقے ہی متا ثر ہوں گے یا پورا ملک متاثر ہوگا۔