کابل میں دہشت گردی اور پاکستان کی ذمے داری

کابل میں حالیہ دہشت گردی کے بعد یہ حقیقت واضع ہو گئی ہے کہ افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں

کابل میں حالیہ دہشت گردی کے بعد یہ حقیقت واضع ہو گئی ہے کہ افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ فوٹو: فائل

افغانستان میں طویل عرصہ سے ایک عذاب کی کیفیت طاری ہے اور انسانی خون کی ارزانی پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ ملک کیوں اس ناگہانی مصیبت میں گرفتار ہے اور اس کا چھٹکارہ کب اور کیسے ہو گا۔ تازہ ترین سانحے میں افغان دارالحکومت کابل کے ایک پانچ اسٹار ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ حملہ آوروں نے ہوٹل میں مقیم کئی افراد کو یرغمال بھی بنا لیا جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی ہے۔

پاکستان نے کابل میں ہوٹل پر حملے کی مذمت کی ہے لیکن امکان اغلب یہ ہے افغانستان کی طرف سے اس دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر ہی لگا دیا جائے گا اور پاکستان کو معذرت خوہانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنا پڑے گی جو ان کی طرف سے تسلیم نہیں کی جائے گی۔ اس حالیہ دہشتگردی نے ڈیورنڈ لائن پر فینسنگ کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے جب کہ افغانستان کی طرف سے سرحد پر باڑ لگانے کی مخالفت کی جا رہی ہے حالانکہ اس میں افغانوں کا بھی فائدہ ہے۔

اس سرحد بندی سے دونوں ملک ایک دوسرے کی مبینہ مداخلت سے محفوظ ہو جائیں گے۔ مزاحمت کرنے والے افغانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ملک سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء تک مکمل امن نہیں ہو سکتا جب کہ امریکا کا افغانستان سے خالی ہاتھ جانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا کیونکہ پنٹاگان مزید فوج بھیجنے کا ارادہ کر رہا ہے۔


کابل میں حالیہ دہشت گردی کے بعد یہ حقیقت واضع ہو گئی ہے کہ افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں' ایسے حالات میں پاکستان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ خود کو افغانستان کے حالات سے دور رکھے۔ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کا کام شروع ہے لیکن اس میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے' پاک افغان سرحد پر جو کراسنگ پوائنٹس ہیں' ان سے بھی ہزاروں لوگ یومیہ بنیادوں پر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اسی طرح پاکستان سے لوگ افغانستان میں داخل ہوتے ہیں' اس آمدورفت کو روکنا بھی انتہائی اہم ہے۔

صائب یہی ہے کہ چند برسوں کے لیے دونوں ملک پیدل کراسنگ اور بذریعہ کار کراسنگ مکمل طور پر بند کر دیں' صرف ہوائی جہاز کے ذریعے ہی آمدورفت کا آپریشن کھلا رکھا جائے' اس طریقہ سے دہشت گردوں کا سرحد پار آنا جانا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا' اس کے علاوہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو بھی واپس بھجوانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور اس معاملے میں کوئی دباؤ یا مصلحت کو خاطر میں نہ لایا جائے' پاک افغان سرحد بند ہو گی تو پاکستان سے افغانستان جانے والے مہاجرین کی واپسی بھی ممکن نہیں ہو سکے گی' اگر ہم پاکستان کو پرامن بنانا چاہتے ہیں اور قبائلی علاقوں کو ترقی دینا چاہیے ہیں تو یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑے گا۔

 
Load Next Story