کیا مظلومیت ہی پاکستانی کسان کا مقدر ہے
نہری پانی پر بااثر وڈیروں کا راج ہوتا ہے جو محکمہ آبپاشی کی ملی بھگت سے عام کسان کو پانی سے محروم کردیتے ہیں
نہری پانی پر بااثر وڈیروں کا راج ہوتا ہے جو محکمہ آبپاشی کی ملی بھگت سے آسانی کے ساتھ پانی چوری کرتے ہیں اور عام کسان نہری پانی سے محروم رہتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
KARACHI:
زراعت کا نام سنتے ہی ذہن میں فوری طور پر کسی دیہات کا تصورابھر آتا ہے جہاص کے وسیع کھیتوں میں محنتی کسان مختلف فصلیں اگاتے ہیں تاکہ بنی نوع انسان کا پیٹ پال سکیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی کا تقریبا 70 فیصد حصہ زراعت سے منسلک ہے۔ زراعت مجموعی ملکی پیداوار میں 21 فیصد حصہ ڈالتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بسنے والے 68 فیصد لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہےتو ہاری اور کسان اس کا بنیادی جز ہیں۔
ملکی صنعت کا تقریباً 60 فیصد حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ ملکی معیشت میں زراعت کے اس قدر اہم کردار کے باوجود ہمارے ملک میں کسان بے پناہ مشکالات سے دوچار ہیں۔ غذائی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ضروری ہے کہ کسان فصلیں اگاتے رہیں۔ خدانخواستہ اگر کسان کاشتکاری کرنا بند کردیں تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ بنی نوع انسان پر کیا گزرے گی، کیونکہ غذا حاصل کرنے کا واحد راستہ، جو ابھی تک حضرت انسان کے پاس ہے، وہ کھیتوں میں کاشتکاری سے پیدا ہونے والی غذائی اجناس ہی ہیں۔ جفاکش کسان، زمین کے سینے پر ہل چلا کر اپنےخون پسینے سے بنجر زمین کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ پھل، سبزیاں اور دوسری غذائی اجناس پیدا کرسکے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ کاشت کاری کے طور طریقے بھی بدلے ہیں۔ کاشتکاری کے دیسی اور پرانے طریقوں کے ساتھ ساتھ اب مشنیری اور کاشتکاری کے نئے طریقے بھی نظرآنے لگے ہیں لیکن وسائل کی کمی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے اب بھی زیادہ ترکسان پرانے طریقے ہی استعمال کررہے ہیں؛ جن میں نہ صرف کسانوں کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے بلکہ ان کی فی ایکڑ پیداوار بھی نہایت کم ہوتی ہے۔ کسانوں کو ان فرسودہ طریقہ ہائے کاشتکاری سے نجات دلانا ضروری ہے اور اس کےلیے حکومت کو کسانوں اور دیہی لوگوں کے لیے ''تربیتی و ترقیاتی'' پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔
ملک میں محکمہ توسیع زراعت (ایگریکلچرل ایکسٹینشن) کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی جانب سے ''دیہی زراعت اور صنعتی ترقی'' اور ''دیہی ترقی'' جیسے پروگرام شروع کیے گئے جو نامناسب منصوبہ بندی اور اداروں کی باہمی چپقلش کے باعث بے نتیجہ ہی ختم ہوگئے۔
موجودہ حکومت کو ان پروگراموں کی ناکامی کے اسباب سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے پروگرام تشکیل دینے چاہئیں جو کسانوں، دیہی عوام اور پاکستان کے لیے سود مند ثابت ہوسکیں۔
کسان غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کرنےلگے ہیں۔ بات اگر بیٹیوں کی شادی کی ہو تو غریب کسانوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرسکیں۔ قرضوں میں دبے کسان کی ساری عمر قرضے اتارتے اتارتے ہی گزر جاتی ہے لیکن قرضے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ غریب کسان کو ان پریشان کن حالات سے نکالنے کےلیے حکومت کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو کسان کی حالت زار بہتر بنانے کےلیے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اول تو کسانوں، خصوصا چھوٹے کاشتکاروں کو قرضوں کے بجائے امداد دی جانی چاہیے، لیکن اگر قرضے ہی دینے ہیں تو بلاسود، آسان اقساط پر قرضے دینے چاہئیں۔ یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں دوگنی ہوچکی ہیں؛ کسان کو فصل اگانے کےلیے کھاد، اچھے تصدیق شدہ بیج، پانی، ضار کش دوائیں (پیسٹی سائیڈز)، نبات کش دوائیں (Weedicides) اور زرعی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو ان تمام اشیا پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرنی چاہیے۔
آبپاشی کا نظام بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ نہری پانی پر بااثر وڈیروں کا راج ہوتا ہے جو محکمہ آبپاشی کی ملی بھگت سے آسانی کے ساتھ پانی چوری کرتے ہیں اور عام کسان نہری پانی سے محروم رہتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے کاشتکاروں کی فصل کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
بھارت کی آبی جارحیت اور تیزی سےختم ہوتے آبی وسائل ملکی زراعت کےلیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آبی ذخائر کی کمی نہ صرف زراعت کےلیے خطرناک ہے بلکہ ملک میں بجلی کے بحران کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہے۔ ملک میں ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بارشوں کے پانی اور سیلاب کی صورت میں ضائع ہوجانے والے پانی کو محفوظ کیا جاسکے؛ اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچا جاسکے۔
کسان ہمارے ملک کا ایک نہایت ہی مظلوم طبقہ ہے جس کے مسائل پر مین اسٹریم میڈیا میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کے حق کےلیے اٹھنے والی آواز کو مناسب کوریج دی جاتی ہے۔ حقوق کی عدم فراہمی اور ظالمانہ حکومتی اقدامات کے خلاف کسانوں کا احتجاج کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ کسانوں کو کبھی پارلیمنٹ کے سامنے پولیس سے مار پڑتی ہے تو کبھی ان کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، لیکن میڈیا نے کبھی انہیں مناسب کوریج نہیں دی۔ کسان اگر اپنے حقوق کےلیے آواز اٹھائیں تو انتظامیہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیتی ہے۔
حکومت کو کسانوں کی مشکلات حل کرنے کےلیے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خوشحال کسان، خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ پاکستان اس وقت تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا کہ جب تک اس ملک میں دوسرے عوامی طبقات کے ساتھ ساتھ کسان بھی خوشحال نہ ہوجائیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
زراعت کا نام سنتے ہی ذہن میں فوری طور پر کسی دیہات کا تصورابھر آتا ہے جہاص کے وسیع کھیتوں میں محنتی کسان مختلف فصلیں اگاتے ہیں تاکہ بنی نوع انسان کا پیٹ پال سکیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی کا تقریبا 70 فیصد حصہ زراعت سے منسلک ہے۔ زراعت مجموعی ملکی پیداوار میں 21 فیصد حصہ ڈالتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بسنے والے 68 فیصد لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہےتو ہاری اور کسان اس کا بنیادی جز ہیں۔
ملکی صنعت کا تقریباً 60 فیصد حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ ملکی معیشت میں زراعت کے اس قدر اہم کردار کے باوجود ہمارے ملک میں کسان بے پناہ مشکالات سے دوچار ہیں۔ غذائی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ضروری ہے کہ کسان فصلیں اگاتے رہیں۔ خدانخواستہ اگر کسان کاشتکاری کرنا بند کردیں تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ بنی نوع انسان پر کیا گزرے گی، کیونکہ غذا حاصل کرنے کا واحد راستہ، جو ابھی تک حضرت انسان کے پاس ہے، وہ کھیتوں میں کاشتکاری سے پیدا ہونے والی غذائی اجناس ہی ہیں۔ جفاکش کسان، زمین کے سینے پر ہل چلا کر اپنےخون پسینے سے بنجر زمین کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ پھل، سبزیاں اور دوسری غذائی اجناس پیدا کرسکے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ کاشت کاری کے طور طریقے بھی بدلے ہیں۔ کاشتکاری کے دیسی اور پرانے طریقوں کے ساتھ ساتھ اب مشنیری اور کاشتکاری کے نئے طریقے بھی نظرآنے لگے ہیں لیکن وسائل کی کمی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے اب بھی زیادہ ترکسان پرانے طریقے ہی استعمال کررہے ہیں؛ جن میں نہ صرف کسانوں کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے بلکہ ان کی فی ایکڑ پیداوار بھی نہایت کم ہوتی ہے۔ کسانوں کو ان فرسودہ طریقہ ہائے کاشتکاری سے نجات دلانا ضروری ہے اور اس کےلیے حکومت کو کسانوں اور دیہی لوگوں کے لیے ''تربیتی و ترقیاتی'' پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔
ملک میں محکمہ توسیع زراعت (ایگریکلچرل ایکسٹینشن) کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی جانب سے ''دیہی زراعت اور صنعتی ترقی'' اور ''دیہی ترقی'' جیسے پروگرام شروع کیے گئے جو نامناسب منصوبہ بندی اور اداروں کی باہمی چپقلش کے باعث بے نتیجہ ہی ختم ہوگئے۔
موجودہ حکومت کو ان پروگراموں کی ناکامی کے اسباب سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے پروگرام تشکیل دینے چاہئیں جو کسانوں، دیہی عوام اور پاکستان کے لیے سود مند ثابت ہوسکیں۔
کسان غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کرنےلگے ہیں۔ بات اگر بیٹیوں کی شادی کی ہو تو غریب کسانوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرسکیں۔ قرضوں میں دبے کسان کی ساری عمر قرضے اتارتے اتارتے ہی گزر جاتی ہے لیکن قرضے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ غریب کسان کو ان پریشان کن حالات سے نکالنے کےلیے حکومت کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو کسان کی حالت زار بہتر بنانے کےلیے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اول تو کسانوں، خصوصا چھوٹے کاشتکاروں کو قرضوں کے بجائے امداد دی جانی چاہیے، لیکن اگر قرضے ہی دینے ہیں تو بلاسود، آسان اقساط پر قرضے دینے چاہئیں۔ یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں دوگنی ہوچکی ہیں؛ کسان کو فصل اگانے کےلیے کھاد، اچھے تصدیق شدہ بیج، پانی، ضار کش دوائیں (پیسٹی سائیڈز)، نبات کش دوائیں (Weedicides) اور زرعی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو ان تمام اشیا پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرنی چاہیے۔
آبپاشی کا نظام بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ نہری پانی پر بااثر وڈیروں کا راج ہوتا ہے جو محکمہ آبپاشی کی ملی بھگت سے آسانی کے ساتھ پانی چوری کرتے ہیں اور عام کسان نہری پانی سے محروم رہتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے کاشتکاروں کی فصل کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
بھارت کی آبی جارحیت اور تیزی سےختم ہوتے آبی وسائل ملکی زراعت کےلیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آبی ذخائر کی کمی نہ صرف زراعت کےلیے خطرناک ہے بلکہ ملک میں بجلی کے بحران کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہے۔ ملک میں ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بارشوں کے پانی اور سیلاب کی صورت میں ضائع ہوجانے والے پانی کو محفوظ کیا جاسکے؛ اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچا جاسکے۔
کسان ہمارے ملک کا ایک نہایت ہی مظلوم طبقہ ہے جس کے مسائل پر مین اسٹریم میڈیا میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کے حق کےلیے اٹھنے والی آواز کو مناسب کوریج دی جاتی ہے۔ حقوق کی عدم فراہمی اور ظالمانہ حکومتی اقدامات کے خلاف کسانوں کا احتجاج کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ کسانوں کو کبھی پارلیمنٹ کے سامنے پولیس سے مار پڑتی ہے تو کبھی ان کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، لیکن میڈیا نے کبھی انہیں مناسب کوریج نہیں دی۔ کسان اگر اپنے حقوق کےلیے آواز اٹھائیں تو انتظامیہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیتی ہے۔
حکومت کو کسانوں کی مشکلات حل کرنے کےلیے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خوشحال کسان، خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ پاکستان اس وقت تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا کہ جب تک اس ملک میں دوسرے عوامی طبقات کے ساتھ ساتھ کسان بھی خوشحال نہ ہوجائیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔