ایوان صدر کراچی کے اطراف رکھے گئے کنٹینرز واپس کرنیکا حکم

ہوم سیکریٹری کنٹینرز کا کرایہ طے کر کے کمپنی کو ادائیگی بھی یقینی بنائیں، سندھ ہائی کورٹ

ہوم سیکریٹری کنٹینرز کا کرایہ طے کر کے کمپنی کو ادائیگی بھی یقینی بنائیں، سندھ ہائی کورٹ. فوٹو ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ نے ایوان صدر کراچی بلاول ہاؤس کے اطراف میں سیکیورٹی مقاصد کے لیے رکھے گئے کنٹینرز 7یوم میں متعلقہ کمپنی کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس مشیر عالم اور جسٹس فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ہوم سیکریٹری سندھ کو مزید ہدایت کی ہے کہ وہ ان کنٹینرز کا کرایہ متعین کرکے کمپنی کو ادائیگی یقینی بنائیں۔

اراسا شپنگ کمپنی نے سید باقر علی ایڈووکیٹ کے توسط سے چیف سیکریٹری سندھ ، سی سی پی او کراچی ، ایس ایچ او ماڑی پور پولیس اسٹیشن اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیارکیا تھا کہ 5جنوری 2011ء کو اے ایس آئی گلزار کی سربراہی میں پولیس پارٹی ان کے ویئر ہاؤس سے 19کنٹینرز زبردستی لے گئی تھی۔ پولیس حکام نے مؤقف اختیارکیا کہ یہ کنٹینرز صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے ہیں۔


درخواست گزار کے مطابق ایک شپنگ کمپنی کی حیثیت سے وہ کنٹینرز بیرون ملک درآمد و برآمد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آئین پاکستان میں کاروبار کی آزادی کا حق دیا گیا ہے لیکن مدعا علیہان کی جانب سے آئین کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ درخواست گزار نے کنٹینرز کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو متعدد بار خطوط لکھے لیکن ان پر کوئی کارروائی تو درکنار مدعا علیہان نے ان خطوط کا جواب تک نہیں دیا۔ درخواست گزار کے مطابق 200 فٹ کے کنٹینر کی قیمت مارکیٹ میں تقریبا 2لاکھ روپے ہے اور اس طرح کمپنی کو 38لاکھ روپے کے اثاثے سے محروم کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ مدعا علیہان کو فی کنٹینر 8 ڈالر یومیہ ادا کرنے کی ہدایت کی جائے، فاضل بنچ نے اپنے حکم میں آبزرو کیا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر یا معاوضہ ادا کیے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کمپنی کے کنٹینرز درست حالت میں 7 یوم کے اندر واپس کردیے جائیں اور ان کا معاوضہ بھی طے کرکے ادائیگی ریکارڈ پر لائی جائے۔
Load Next Story