ووٹر لسٹوں میں غلطیاں اسپیکر چیف الیکشن کمشنر و دیگر کو نوٹس
سندھ ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف سے بھی 28 اگست کو جواب طلب کرلیا
سندھ ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف سے بھی 28 اگست کو جواب طلب کرلیا. فوٹو ایکسپریس
RAWALPINDI:
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئی ووٹرلسٹ کے خلاف دائر درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، قائدحزب اختلاف چوہدری نثار اور چیف الیکشن کمشنر کو 28اگست کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
حاجی گل نے دائرکردہ متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کراچی کے 40 فیصد ووٹرز کا رہائشی پتہ تبدیل کردیا گیا ہے۔ انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے۔تمام ریکارڈ عدالت طلب کرکے جا ئزہ لیا جائے اور درستی تک انتخابات روکے جائیں۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن میں ایک کروڑ ایسے ووٹر رجسٹرڈ ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور تقریباً 75 لاکھ ووٹرز نادرا کے ریکارڈ کے مطابق رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ غلط پتوں والے ووٹروں کی تعداد بھی تقریبا ً10لاکھ ہے ۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نئی ووٹر لسٹ کے اندراجات غیر تصدیق شدہ اور اغلاط سے بھرپور ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کسی نے کچھ خاص مفادات کیلیے 2002ء کی ووٹر لسٹوں کو موجودہ ووٹر لسٹوں سے تبدیل کردیا ہے کیونکہ 2008ء کی ووٹر لسٹ میں میرے شناختی کارڈ میں دیے گئے پتے کے مطابق ووٹر لسٹ میں میرا نام ضلع شرقی میں درج تھا لیکن حالیہ لسٹ میں نام ضلع جنوبی میں درج کردیا گیا۔ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان، چیئر مین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف ، چیف الیکشن کمشنر اور تمام سیاسی پارٹیوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئی ووٹرلسٹ کے خلاف دائر درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، قائدحزب اختلاف چوہدری نثار اور چیف الیکشن کمشنر کو 28اگست کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
حاجی گل نے دائرکردہ متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کراچی کے 40 فیصد ووٹرز کا رہائشی پتہ تبدیل کردیا گیا ہے۔ انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے۔تمام ریکارڈ عدالت طلب کرکے جا ئزہ لیا جائے اور درستی تک انتخابات روکے جائیں۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن میں ایک کروڑ ایسے ووٹر رجسٹرڈ ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور تقریباً 75 لاکھ ووٹرز نادرا کے ریکارڈ کے مطابق رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ غلط پتوں والے ووٹروں کی تعداد بھی تقریبا ً10لاکھ ہے ۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نئی ووٹر لسٹ کے اندراجات غیر تصدیق شدہ اور اغلاط سے بھرپور ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کسی نے کچھ خاص مفادات کیلیے 2002ء کی ووٹر لسٹوں کو موجودہ ووٹر لسٹوں سے تبدیل کردیا ہے کیونکہ 2008ء کی ووٹر لسٹ میں میرے شناختی کارڈ میں دیے گئے پتے کے مطابق ووٹر لسٹ میں میرا نام ضلع شرقی میں درج تھا لیکن حالیہ لسٹ میں نام ضلع جنوبی میں درج کردیا گیا۔ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان، چیئر مین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف ، چیف الیکشن کمشنر اور تمام سیاسی پارٹیوں کو فریق بنایا گیا ہے۔