بلوغت کو پہنچنے والے بچوں کو معلومات دی جائیں جواد ہادی
والدین و اساتذہ جسمانی تبدیلیوں سے متعلق بچوں کو مکمل آگاہی فراہم کریں.
مناسب رہنمائی کے بغیرصحت وصفائی کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو سکتی. فوٹو :میرا اقبال
ISLAMABAD:
ممتاز مذہبی اسکالراور مدرسہ شہید عارف الحسینی کے سربراہ مولانا علامہ سید محمد جواد ہادی نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمے داریوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور سنِ بلوغت کو پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کوان کے اندر رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان چاہے مرد ہو یا عورت، لڑکا ہو یا لڑکی، جب بالغ ہو جاتے ہیںتو ان میں جسمانی اور فکری دونوں اعتبار سے ایک خاص تبدیلی رونما ہوجاتی ہے، واضح رہے کہ بلوغت کے آغاز کا دور اکثر بچوں کیلیے بڑا مشکل ہوتا ہے، ہمارے ہاں بچے عموماً 12 سے 15 سال کی عمر میں جبکہ بچیاں10سے 14 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں، اس دور میں اکثر بچوں اور بچیوں میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مناسب معلومات نہیں ہوتیں، ان حالات میں صحت اور صفائی کی بنیادی ضروریات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پورا کرنا تقریباً نا ممکن ہو جاتا ہے۔
والدین کی جانب سے معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث اکثر بچے اور بچیاں دیگر ذرائع تک پہنچتے ہیں جس میں بسا اوقات بچوں کا نقصان ہو جاتا ہے، واضح رہے کہ پاکستانی معاشرے کی سماجی اور روایتی پابندیوں کے باعث اس نوعیت کے معاملات کو زیرِ بحث لانا انتہائی مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ صرف 29 فیصد لڑکیاں اور41 فیصد لڑکے بلوغت اور حفظانِ صحت کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کر پاتے ہیں، باقی لاکھوں لڑکے اور لڑکیاں غیر مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں استحصال اور جان لیوا امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ممتاز مذہبی اسکالراور مدرسہ شہید عارف الحسینی کے سربراہ مولانا علامہ سید محمد جواد ہادی نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمے داریوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور سنِ بلوغت کو پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کوان کے اندر رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان چاہے مرد ہو یا عورت، لڑکا ہو یا لڑکی، جب بالغ ہو جاتے ہیںتو ان میں جسمانی اور فکری دونوں اعتبار سے ایک خاص تبدیلی رونما ہوجاتی ہے، واضح رہے کہ بلوغت کے آغاز کا دور اکثر بچوں کیلیے بڑا مشکل ہوتا ہے، ہمارے ہاں بچے عموماً 12 سے 15 سال کی عمر میں جبکہ بچیاں10سے 14 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں، اس دور میں اکثر بچوں اور بچیوں میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مناسب معلومات نہیں ہوتیں، ان حالات میں صحت اور صفائی کی بنیادی ضروریات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پورا کرنا تقریباً نا ممکن ہو جاتا ہے۔
والدین کی جانب سے معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث اکثر بچے اور بچیاں دیگر ذرائع تک پہنچتے ہیں جس میں بسا اوقات بچوں کا نقصان ہو جاتا ہے، واضح رہے کہ پاکستانی معاشرے کی سماجی اور روایتی پابندیوں کے باعث اس نوعیت کے معاملات کو زیرِ بحث لانا انتہائی مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ صرف 29 فیصد لڑکیاں اور41 فیصد لڑکے بلوغت اور حفظانِ صحت کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کر پاتے ہیں، باقی لاکھوں لڑکے اور لڑکیاں غیر مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں استحصال اور جان لیوا امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔