عاصمہ قتل کیس 200 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل
6ملزم گرفتار،عاصمہ سے زیادتی کی گئی،ضلع ناظم ،کوئی شواہد نہیں، ڈی پی او
6ملزم گرفتار،عاصمہ سے زیادتی کی گئی،ضلع ناظم ،کوئی شواہد نہیں، ڈی پی او۔ فوٹو: فائل
مردان پولیس نے کمسن عاصمہ کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلیے اقدامات کرتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے 200 افرادکے نمونے حاصل کرلیے۔
مردان کے ضلعی ناظم نے دعویٰ کیاتھاکہ15جنوری کوقتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 4 سالہ بچی عاصمہ سے زیادتی کی گئی جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوئی جبکہ ڈی پی او مردان میاں سعید کا موقف ہے کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی اورپوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عاصمہ کی مردان میں واقع رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا اورملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
ادھر راولپنڈی کے علاقے بینک کالونی میں آٹھویں جماعت کے طالبعلم حافظ قرآن کو اغوا اور بدفعلی میں ملوث مرکزی ملزم چوہدری ارباب کوگرفتار کرلیا گیا۔
مردان کے ضلعی ناظم نے دعویٰ کیاتھاکہ15جنوری کوقتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 4 سالہ بچی عاصمہ سے زیادتی کی گئی جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوئی جبکہ ڈی پی او مردان میاں سعید کا موقف ہے کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی اورپوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عاصمہ کی مردان میں واقع رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا اورملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
ادھر راولپنڈی کے علاقے بینک کالونی میں آٹھویں جماعت کے طالبعلم حافظ قرآن کو اغوا اور بدفعلی میں ملوث مرکزی ملزم چوہدری ارباب کوگرفتار کرلیا گیا۔