لاہور متحدہ کے وفد کی تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات
لاہور میں بھی بھتہ خوری جاری ہے، گول میز کانفرنس کا اقدام قابل تحسین ہے، جاوید ہاشمی، شاہ محمود
لاہور:متحدہ کے رہنما فاروق ستار، شاہ محمود اورجاوید ہاشمی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستارکی سربراہی میںمنگل کو ایم کیوایم کے نمائندہ وفد نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں مخدوم جاوید ہاشمی اورمخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ملاقات میں موجودہ صورتحال، داخلی وخارجی خطرات، توانائی بحران اوربلوچستان کے تشویشناک حالات پرتفصیلی تبادلۂ خیال کیاگیا۔
ایم کیو ایم کے وفد میں رابطہ کمیٹی کے ارکا ن رضا ہارون، افتخاراکبر رندھاوا، واسع جلیل اور لاہور زون کے انچارج ملک وسیم کھوکھر شامل تھے۔ فاروق ستار نے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے، اندرونی و بیرونی خطرات منڈلا رہے ہیں، یہی موقع ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سرجوڑکربیٹھیں،گفت وشنید کے ذریعے معاملات طے کریں اور بحرانوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالیں اور یہ ضروری ہے کہ قومی اتفاق رائے پیدا کرکے یک نکاتی ایجنڈے پرمتفق ہوا جائے۔
تحریک انصاف کے رہنمائوں جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ایم کیو ایم نے جمہوریت اور پاکستان کو بچانے کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے کراچی کی طرح لاہور میں بھی بینک ڈکیتیاں اور بھتہ خوری عام ہوگئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی آنیوالی نسل خوف کے سائے میں پل رہی ہے۔ ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک قومی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔
ایم کیو ایم کے وفد میں رابطہ کمیٹی کے ارکا ن رضا ہارون، افتخاراکبر رندھاوا، واسع جلیل اور لاہور زون کے انچارج ملک وسیم کھوکھر شامل تھے۔ فاروق ستار نے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے، اندرونی و بیرونی خطرات منڈلا رہے ہیں، یہی موقع ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سرجوڑکربیٹھیں،گفت وشنید کے ذریعے معاملات طے کریں اور بحرانوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالیں اور یہ ضروری ہے کہ قومی اتفاق رائے پیدا کرکے یک نکاتی ایجنڈے پرمتفق ہوا جائے۔
تحریک انصاف کے رہنمائوں جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ایم کیو ایم نے جمہوریت اور پاکستان کو بچانے کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے کراچی کی طرح لاہور میں بھی بینک ڈکیتیاں اور بھتہ خوری عام ہوگئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی آنیوالی نسل خوف کے سائے میں پل رہی ہے۔ ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک قومی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔