اسٹیٹ بینک کی زرعی پالیسی اور معاشی حقائق

حقیقی شعبے میں پیشرفت سے ظاہر ہے کہ شعبہ زراعت کی کارکردگی مسلسل دوسرے سال بہتر رہے گی۔

حقیقی شعبے میں پیشرفت سے ظاہر ہے کہ شعبہ زراعت کی کارکردگی مسلسل دوسرے سال بہتر رہے گی۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ یعنی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کر کے 6 فیصد کر دیا ہے، یہ اضافہ 20 ماہ بعد کیا گیا ہے جس کے بعد پالیسی ریٹ بڑھ کر 6 فیصد ہو گیا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے جمعے کو مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا پاکستان کی معیشت کے 4 کلیدی عوامل میں نومبر 2017ء سے اب تک اہم تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو پالیسی ریٹ سے متعلق فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

یعنی پاکستانی روپے کی قدر میں 5 فیصدکمی ہوئی، تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے، کئی ممالک کے مرکزی بینکوں نے اپنی پالیسی ریٹس میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے جو ان کی کرنسیوںکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح سودکے فرق پر منفی اثر ڈال رہا ہے نیز پیداواری فرق خاصا کم ہو گیا ہے جس سے طلب کے دباؤ میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔ چنانچہ زری پالیسی کمیٹی کے مطابق معیشت کو اوورہیٹنگ سے بچانے خاطر ایسا کیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے دعویٰ کیا کہ ملکی معاشی نمو گزشتہ11برسوںکی بلند ترین سطح حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ مالی سال2018ء کی پہلی ششماہی کا مالیاتی خسارہ پچھلے سال کی شرح 2.5 فیصد کے قریب رہے گا۔ برآمدی نمو میں نمایاں بہتری رہی ہے اور ترسیلات تھوڑی زیادہ ہیں تاہم درآمدات کی بلند سطح کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ دباؤ میں ہے۔ حقیقی شعبے میں پیشرفت سے ظاہر ہے کہ شعبہ زراعت کی کارکردگی مسلسل دوسرے سال بہتر رہے گی۔


مکئی کے سوا خریف کی تمام فصلوں کی پیداوار مالی سال 2017ء کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ کے شعبے میں جولائی تا نومبر مالی سال 2018ء کے دوران 7.2 فیصد کی بھرپور وسیع البنیاد نمو دیکھی گئی۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی زرعی پالیسی میں پاکستانی معیشت کے حوالے سے جو اعداد و شمار دیے ہیں وہ درست ہوں گے لیکن اگر گراس روٹ لیول پر دیکھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ ملک میں ترقی کا عمل ناہموار ہے۔ چند شعبوں میں ترقی کے اعداد و شمار کو غور سے دیکھا جائے تو یہ مخصوص گروپوں تک محدود ہو گا۔

زرعی شعبے پر غور کیا جائے تو چھوٹا کسان بدحال ہو رہا ہے اس کے لیے زرعی مداخل مہنگے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح صنعتی مینوفیکچرنگ شعبے کو دیکھا جائے تو وہاں بھی چند مخصوص صنعتوں میں بڑھوتری نظر آئے گی۔ عوامی سطح پر دیکھا جائے تو بیروزگاری میں اضافہ نظر آئے گا اور مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔ حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسی بناتے وقت عوام کے مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ اگر عوام خوشحال ہوں گے ان کی پر چیزنگ پاور بڑھے گی تب ہی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جس سے معیشت پھلے پھولے گی۔

 
Load Next Story