نوجوان فنکاروں کو سکھانیوالے ادارے نہیں بشریٰ انصاری
ہمارے یہاں پڑوسی ملک کی طرح ادارے نہ ہونے کے باوجود بہترین ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے، بشریٰ انصاری
ہمارے یہاں پڑوسی ملک کی طرح ادارے نہ ہونے کے باوجود بہترین ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے، بشریٰ انصاری فوٹو : فائل
معروف اداکارہ ومیزبان بشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں فن اداکاری سکھانے کے لیے اگرکوئی ادارہ ہو تو بہت سا ٹیلنٹ سامنے لایا جاسکتا ہے۔
ملک کے دوردراز علاقوں میں اداکاری، گلوکاری، موسیقی، مصوری سمیت دیگرفنون کی صلاحیتوں سے مالامال نوجوان موجود ہیں لیکن ان کو اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہاراوراس کو نکھارنے کے لیے ایسے پلیٹ فارم نہیں مل پاتے جوان کو درست سمت میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرسکیں۔ اگر فن وثقافت کے فروغ کے لیے بنائے گئے ادارے اس سلسلہ میں اپنا کردارادا کریں تواس کے بہترین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ان خیالات کااظہار بشریٰ انصاری نے '' ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں اداکاری کی تعلیم کے لیے باقاعدہ اسکول قائم ہیں جہاں پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کواداکاری اور تکنیکی شعبوں کی تعلیم دی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں ایسے ادارے نہ ہونے کے باوجود بہترین ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے۔
ملک کے دوردراز علاقوں میں اداکاری، گلوکاری، موسیقی، مصوری سمیت دیگرفنون کی صلاحیتوں سے مالامال نوجوان موجود ہیں لیکن ان کو اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہاراوراس کو نکھارنے کے لیے ایسے پلیٹ فارم نہیں مل پاتے جوان کو درست سمت میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرسکیں۔ اگر فن وثقافت کے فروغ کے لیے بنائے گئے ادارے اس سلسلہ میں اپنا کردارادا کریں تواس کے بہترین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ان خیالات کااظہار بشریٰ انصاری نے '' ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں اداکاری کی تعلیم کے لیے باقاعدہ اسکول قائم ہیں جہاں پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کواداکاری اور تکنیکی شعبوں کی تعلیم دی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں ایسے ادارے نہ ہونے کے باوجود بہترین ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے۔