انفارمیشن ٹیکنالوجی میں نئی تبدیلیوں کے اشارے
پاکستان کوبھی دنیا میں اس شعبے میں جاری جدیدیت کے اس رجحان کے ساتھ چلنا چاہیے
پاکستان کوبھی دنیا میں اس شعبے میں جاری جدیدیت کے اس رجحان کے ساتھ چلنا چاہیے۔فوٹو: فائل
دنیا بھر میں اپنی مخیرانہ سرگرمیوں کے حوالے سے خاص پہچان رکھنے والے ارب پتی شخص جارج سورس نے پیش گوئی کی ہے کہ نئے ٹیکسوں کی بھرمار اور سخت ضوابط کے نفاذ کے باعث فیس بک اور گوگل کا مستقبل مخدوش ہو گیا ہے کیونکہ ٹیکنالوجیکل انڈسٹری نے کہا ہے کہ مذکورہ نیٹ سروسز عام لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نئی نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کی وجہ سے مستقبل میں متذکرہ سروسز کو غالباً بند ہونا پڑ سکتا ہے۔
یہ نکات سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں سامنے لائے گئے۔ جارج سورس بھی ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک تھے جنہوں نے نئی نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنا اندازہ پیش کیا۔ ادھر گوگل اور فیس بک کی طرف سے پیشکش کی گئی ہے کہ ان کی سروسز حکومتی جائزے کے لیے کھلی ہیں لہٰذا اگر شک کی کوئی بات ہے تو حکومت تحقیقات کر سکتی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے حکام بھی اس مسئلہ پر غور کر رہے ہیں جن کے لیے مذکورہ سروس میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ ان کا اس سلسلے میں یورپی کمپٹیشن کمشنر مارگریتھ ویسٹنر کے ساتھ رابطہ ہوا ہے جنہوں نے ان سروسز میں پانے والے شکوک کو درست قرار دیا ہے۔
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں نئی سے نئی جدتیں آ رہی ہیں' جارج سورس کے خیالات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر کوئی گروپ یا کمپنی جدیدیت کے ساتھ چلتی ہے اور نئی نئی جدتیں متعارف کراتی رہتی ہے اور اپنی خامیوں اور کمیوں کو دور کرتی رہتی ہے اور عوام کا اعتماد ان پر برقرار رہتا ہے تو یہ اپنی زندگی میں اضافہ بھی کرتی رہیں گی' اس لیے کوئی حتمی بات ممکن نہیں ہے۔
اصل چیز ٹیکنالوجی خصوصا انفارمیشن کے ساتھ چلنا ہے' پاکستان بھی کو دنیا میں اس شعبے میں جاری جدیدیت کے اس رجحان کے ساتھ چلنا چاہیے اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ مستقبل میں وہی قومیں ترقی کریں گی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنے والی نت نئی تبدیلیوں کو قبول کریں گے اور ان کے ساتھ چلنا سیکھیں گی۔
یہ نکات سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں سامنے لائے گئے۔ جارج سورس بھی ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک تھے جنہوں نے نئی نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنا اندازہ پیش کیا۔ ادھر گوگل اور فیس بک کی طرف سے پیشکش کی گئی ہے کہ ان کی سروسز حکومتی جائزے کے لیے کھلی ہیں لہٰذا اگر شک کی کوئی بات ہے تو حکومت تحقیقات کر سکتی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے حکام بھی اس مسئلہ پر غور کر رہے ہیں جن کے لیے مذکورہ سروس میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ ان کا اس سلسلے میں یورپی کمپٹیشن کمشنر مارگریتھ ویسٹنر کے ساتھ رابطہ ہوا ہے جنہوں نے ان سروسز میں پانے والے شکوک کو درست قرار دیا ہے۔
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں نئی سے نئی جدتیں آ رہی ہیں' جارج سورس کے خیالات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر کوئی گروپ یا کمپنی جدیدیت کے ساتھ چلتی ہے اور نئی نئی جدتیں متعارف کراتی رہتی ہے اور اپنی خامیوں اور کمیوں کو دور کرتی رہتی ہے اور عوام کا اعتماد ان پر برقرار رہتا ہے تو یہ اپنی زندگی میں اضافہ بھی کرتی رہیں گی' اس لیے کوئی حتمی بات ممکن نہیں ہے۔
اصل چیز ٹیکنالوجی خصوصا انفارمیشن کے ساتھ چلنا ہے' پاکستان بھی کو دنیا میں اس شعبے میں جاری جدیدیت کے اس رجحان کے ساتھ چلنا چاہیے اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ مستقبل میں وہی قومیں ترقی کریں گی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنے والی نت نئی تبدیلیوں کو قبول کریں گے اور ان کے ساتھ چلنا سیکھیں گی۔