برڈ فلو کا خطرہ 35ممالک سے پولٹری اور پولٹری مصنوعات درآمد کرنے پر پابندی
چین،افغانستان، ایران، عراق، تھائی لینڈ،انڈونیشیا، ملائیشیا،ترکی، یونان،ا ٹلی، فرانس، جرمنی، برطانیہ ودیگرممالک شامل.
پابندی تاحکم ثانی لگی ،پالتوپرندے بھی نہیں منگوائے جاسکیں گے،ڈے اولڈلیئر برائلرزچکس وبریڈرزاورہیچنگ ایگزدرآمد کیے جاسکیں گے،امپورٹ پالیسی آرڈ جاری ۔ فوٹو : فائل
پاکستان نے برڈ فلو( ایوین انفلونزا )کے خدشات کے باعث چین، ایران اور افغانستان سمیت دنیا کے 35 ممالک سے پولٹری اور پولٹری مصنوعات کے علاوہ دیگر پالتو پرندوں کی درآمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔
وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ پولٹری و پولٹری مصنوعات اور پالتو زندہ پرندوں کی درآمد پر پابندی کے حوالے سے امپورٹ پالیسی آرڈ جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برڈ فلو (H5N1) کے خطرے کے پیش نظر غیر معینہ مدت کے لیے یہ پابندی عائد کی گئی ہے تاہم چین سے انڈہ پاوڈر درآمد کرنے اور ملائیشیا و جنوبی افریقہ سے پکی ہوئی پولٹری مصنوعات درآمد کی جاسکیں گی لیکن اس کے لیے ہانگ کانگ میں قائم مجاز لیبارٹریوں کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوں گے۔
جس میں یہ سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ جو پکی ہوئی پولٹری مصنوعات درآمد کی جارہی ہیں وہ برڈ فلو سے پاک ہیں، اس کے علاوہ فرانس، جرمنی، ایران اور برطانیہ سے لیئر، برائلرز کے ڈے اولڈ پیئرنٹ اسٹاک چکس اور ڈے اولڈ پیئرنٹ اسٹاک بریڈرز کے ساتھ ساتھ ہیچنگ کے لیے استعمال ہونے والے انڈے درآمد کیے جاسکیں گے، اس کے لیے بھی برآمدی ممالک کی ویٹرنری اتھارٹیز کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔
جس میں یہ بتانا ہوگا کہ یہ برڈ فلو سے پاک ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ برڈفلو کے خدشے کے باعث دنیا کے جن 35 ممالک سے پولٹری اور پولٹری مصنوعات کے علاوہ دیگر پالتو پرندوںکی درآمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے ان میں افغانستان، ایران، عراق، ویتنام، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، جاپان، انڈونیشیا، میانمر، کمبوڈیا، لاؤس، تائیوان، ہانگ کانگ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، روس، قازقستان، منگولیا، ترکی، یونان، رومانیہ، کروشیا، اٹلی،آذربائیجان، یوکرائن، بلغاریہ، فرانس، نائجیریا، سلوانیا، آسٹریا، سلواکیہ، بوسنیا ہرزوگوینیہ، جرمنی، اسکاٹ لینڈ، یوکے اور چین شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ سے فینسی برڈز اور شوقیہ طور پر گھروں میں رکھے جانے والے پرندے درآمد کیے جاسکیں گے مگر اس کے لیے بھی جنوبی افریقہ کی ویٹرنری اتھارٹیز کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہو گا کہ جو پرندے بھجوائے جارہے ہیں وہ ایوین انفلونزا فری زونز سے بھجوائے جارہے ہیں۔
وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ پولٹری و پولٹری مصنوعات اور پالتو زندہ پرندوں کی درآمد پر پابندی کے حوالے سے امپورٹ پالیسی آرڈ جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برڈ فلو (H5N1) کے خطرے کے پیش نظر غیر معینہ مدت کے لیے یہ پابندی عائد کی گئی ہے تاہم چین سے انڈہ پاوڈر درآمد کرنے اور ملائیشیا و جنوبی افریقہ سے پکی ہوئی پولٹری مصنوعات درآمد کی جاسکیں گی لیکن اس کے لیے ہانگ کانگ میں قائم مجاز لیبارٹریوں کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوں گے۔
جس میں یہ سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ جو پکی ہوئی پولٹری مصنوعات درآمد کی جارہی ہیں وہ برڈ فلو سے پاک ہیں، اس کے علاوہ فرانس، جرمنی، ایران اور برطانیہ سے لیئر، برائلرز کے ڈے اولڈ پیئرنٹ اسٹاک چکس اور ڈے اولڈ پیئرنٹ اسٹاک بریڈرز کے ساتھ ساتھ ہیچنگ کے لیے استعمال ہونے والے انڈے درآمد کیے جاسکیں گے، اس کے لیے بھی برآمدی ممالک کی ویٹرنری اتھارٹیز کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔
جس میں یہ بتانا ہوگا کہ یہ برڈ فلو سے پاک ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ برڈفلو کے خدشے کے باعث دنیا کے جن 35 ممالک سے پولٹری اور پولٹری مصنوعات کے علاوہ دیگر پالتو پرندوںکی درآمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے ان میں افغانستان، ایران، عراق، ویتنام، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، جاپان، انڈونیشیا، میانمر، کمبوڈیا، لاؤس، تائیوان، ہانگ کانگ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، روس، قازقستان، منگولیا، ترکی، یونان، رومانیہ، کروشیا، اٹلی،آذربائیجان، یوکرائن، بلغاریہ، فرانس، نائجیریا، سلوانیا، آسٹریا، سلواکیہ، بوسنیا ہرزوگوینیہ، جرمنی، اسکاٹ لینڈ، یوکے اور چین شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ سے فینسی برڈز اور شوقیہ طور پر گھروں میں رکھے جانے والے پرندے درآمد کیے جاسکیں گے مگر اس کے لیے بھی جنوبی افریقہ کی ویٹرنری اتھارٹیز کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہو گا کہ جو پرندے بھجوائے جارہے ہیں وہ ایوین انفلونزا فری زونز سے بھجوائے جارہے ہیں۔