قانون نافذ کرنے والے ادارے کمزور کیوں

ملک کے دیگر صوبوں میں بھی بہیمانہ جرائم وقوع پذیر ہورہے ہیں

ملک کے دیگر صوبوں میں بھی بہیمانہ جرائم وقوع پذیر ہورہے ہیں: فوٹو : فائل

ملک میں پے درپے ہونے والے قانون شکن واقعات اور لرزہ خیز جرائم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ملک میں قانون کی رٹ کمزور اور ریاستی ادارے افراتفری کا شکار ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرکردہ اور طاقتور عناصر بھی ہولناک جرائم میں ملوث پائے جارہے ہیں جس سے اداروں کی ساکھ اور انصاف و قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان پیدا ہورہے ہیں، عوام میں شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

بلاشبہ عدلیہ اپنا کردار بحسن خوبی ادا کررہی ہے اور راست اقدامات اور فیصلوں کے باعث جرائم پیشہ عناصر کی گوشمالی بھی کی جارہی ہے لیکن محکمہ پولیس کی کمزوری اور پولیس افسران کا جرائم کی پشت پناہی کرنے جیسے الزامات سے عوام کا اعتبار اداروں سے اٹھتا جارہا ہے۔ قانون کی بے قدری کا یہ عالم کسی ایک صوبہ میں نہیں بلکہ ملک کا کوئی بھی صوبہ اس کمزوری سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ سندھ میں نقیب اﷲ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے واقعے کے بعد سندھ پولیس کو عوامی تنقید کا سامنا ہے۔


سندھ حکومت نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کردیا ہے، لیکن چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سندھ پولیس کو گرفتاری کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود اب تک مفرور راؤ انوار سمیت پولیس پارٹی قانون کی گرفت میں نہیں آسکی۔ یہ پولیس محکمے کی کمزوری ہی ہے کہ وزیر داخلہ سندھ کو راؤ انوار، ان کی پولیس پارٹی اور سر کی قیمت لگانے والے شخص کی گرفتاری کے لیے چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انتظامیہ کو خط لکھ کر معاونت کی درخواست کرنا پڑی۔ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی بہیمانہ جرائم وقوع پذیر ہورہے ہیں۔

کوہاٹ میں رشتے سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو قتل کرنے والا ملزم مجاہد آفریدی سعودی عرب فرار ہوگیا ہے، جب کہ مردان میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی اسما کے ملزم بھی تاحال مفرور ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی زوال کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل میں 13 سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کرنے والا اس کا بھائی نکلا۔ بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جو اعدادو شمار ہیں وہ کافی خوفناک ہیں۔ زینب کو قتل کرنے والے ملزم عمران علی نے 10 وارداتیں دو، اڑھائی کلومیٹر کے دائرے میں کیں، وہ ہر واردات کے بعد بڑے اطمینان سے اسی علاقے میں گھومتا پھرتا رہا، پولیس نے اگر پہلی واردات کے بعد ہی درست انداز میں تفتیش کی ہوتی تو مزید 9 بچیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ اس سے قبل قصور ہی میں 280 بچوں کی فحش ویڈیوز کا اسکینڈل سامنے آچکا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملک میں بچوں کی فحش فلمیں بنانے اور ان کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے معاملات میں صوبہ پنجاب سب سے آگے ہے۔ ان مقدمات میں اب تک جتنے بھی افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں کھوئی ہوئی اقدار کو واپس لانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص کر محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے، نیز جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی ہی حالات بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
Load Next Story