افغان مہاجرین کی بلا تاخیر واپسی یقینی بنائی جائے
وفاقی کابینہ مہاجرین کے قیام میں بار بار توسیع کی غلطی دہرانے کے بجائے ان کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائے۔
وفاقی کابینہ مہاجرین کے قیام میں بار بار توسیع کی غلطی دہرانے کے بجائے ان کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائے۔ فوٹو : فائل
کابل میں حالیہ حملوں کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بدھ کو وفاقی کابینہ نے پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام میں مزیددو ماہ کی توسیع کردی۔
رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی 31دسمبر 2017ء کو پاکستان میں قیام کی مدت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے مزید 30دن کی توسیع کر دی جو 30جنوری کو ختم ہو گئی' اب سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس میں کئی افغان مہاجرین کی دہشت گردانہ' پرتشدد اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کے بعد وفاقی کابینہ نے مہاجرین کے قیام میں 31جنوری سے 31مارچ تک صرف 60دن کے لیے توسیع کی منظوری دی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث کافی عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ شد ومد سے کیا جا رہا تھا کہ افغان مہاجرین کو جلد از جلد ان کے ملک واپس بھیجا جائے' اب جب افغانستان میں حالات معمول پر آ چکے ہیں اور وہاں ترقیاتی کام بھی جاری ہیں تو ایسی صورت میں افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی کوئی وجہ سامنے نہیں آتی۔
گزشتہ دنوں امریکا نے پاکستان میں ایک افغان مہاجر کیمپ پر ڈرون حملہ کیا جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہاں دہشت گرد موجود تھے۔ اس واقعہ اورسیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کہ افغان مہاجرین کے کیمپوں میں دہشت گرد باآسانی پناہ لے لیتے اور وہاں سے نکل کر اپنی مذموم کارروائیاں کرتے ہیں' اس کے بعد یہ ناگزیر ہوگیا ہے کہ افغان مہاجرین کو جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجنے میں تاخیر نہ کی جائے۔
پاکستان' افغانستان اور اقوام متحدہ کے مابین سہ فریقی معاہدے کے تحت پاکستان نے افغان مہاجرین کو ''پروف آف رجسٹریشن کارڈ'' جاری کیے تھے جس کے تحت وہ یہاں پر روز گار کے حصول کے علاوہ جائیدادیں بھی خرید سکتے تھے' اس 'پی او آر کارڈ' کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان مہاجرین پورے ملک میں پھیل گئے اور انھوں نے یہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے کے علاوہ جائیدادیں بھی خرید لیں' بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ انھوں نے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک حاصل کر لیے۔ پی او آر کارڈ جاری کرنے کی غلطی کا خمیازہ آج دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ایران نے درست پالیسی اپناتے ہوئے افغان مہاجرین کو ایک خاص علاقے میں موجود کیمپوں تک محدود رکھا اور انھیں پورے ملک میں پھیلنے نہیں دیا۔ لیکن افسوس پاکستانی پالیسی سازوں کے غلط فیصلوں نے اس ملک کے مسائل میں اضافہ کیا۔ وفاقی کابینہ مہاجرین کے قیام میں بار بار توسیع کی غلطی دہرانے کے بجائے ان کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائے یہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔
رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی 31دسمبر 2017ء کو پاکستان میں قیام کی مدت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے مزید 30دن کی توسیع کر دی جو 30جنوری کو ختم ہو گئی' اب سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس میں کئی افغان مہاجرین کی دہشت گردانہ' پرتشدد اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کے بعد وفاقی کابینہ نے مہاجرین کے قیام میں 31جنوری سے 31مارچ تک صرف 60دن کے لیے توسیع کی منظوری دی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث کافی عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ شد ومد سے کیا جا رہا تھا کہ افغان مہاجرین کو جلد از جلد ان کے ملک واپس بھیجا جائے' اب جب افغانستان میں حالات معمول پر آ چکے ہیں اور وہاں ترقیاتی کام بھی جاری ہیں تو ایسی صورت میں افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی کوئی وجہ سامنے نہیں آتی۔
گزشتہ دنوں امریکا نے پاکستان میں ایک افغان مہاجر کیمپ پر ڈرون حملہ کیا جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہاں دہشت گرد موجود تھے۔ اس واقعہ اورسیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کہ افغان مہاجرین کے کیمپوں میں دہشت گرد باآسانی پناہ لے لیتے اور وہاں سے نکل کر اپنی مذموم کارروائیاں کرتے ہیں' اس کے بعد یہ ناگزیر ہوگیا ہے کہ افغان مہاجرین کو جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجنے میں تاخیر نہ کی جائے۔
پاکستان' افغانستان اور اقوام متحدہ کے مابین سہ فریقی معاہدے کے تحت پاکستان نے افغان مہاجرین کو ''پروف آف رجسٹریشن کارڈ'' جاری کیے تھے جس کے تحت وہ یہاں پر روز گار کے حصول کے علاوہ جائیدادیں بھی خرید سکتے تھے' اس 'پی او آر کارڈ' کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان مہاجرین پورے ملک میں پھیل گئے اور انھوں نے یہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے کے علاوہ جائیدادیں بھی خرید لیں' بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ انھوں نے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک حاصل کر لیے۔ پی او آر کارڈ جاری کرنے کی غلطی کا خمیازہ آج دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ایران نے درست پالیسی اپناتے ہوئے افغان مہاجرین کو ایک خاص علاقے میں موجود کیمپوں تک محدود رکھا اور انھیں پورے ملک میں پھیلنے نہیں دیا۔ لیکن افسوس پاکستانی پالیسی سازوں کے غلط فیصلوں نے اس ملک کے مسائل میں اضافہ کیا۔ وفاقی کابینہ مہاجرین کے قیام میں بار بار توسیع کی غلطی دہرانے کے بجائے ان کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائے یہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔