پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ
حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر رہی ہے۔
حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر رہی ہے۔ فوٹو؛ فائل
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ہر بار تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ رد و بدل اصولی طور پر تو سالانہ بجٹ کے ساتھ ہی ہونا چاہیے یا ششماہی طور پر اور کم از کم سہ ماہی بنیادوں میں کیونکہ ماہوار اور پندرہ روزہ تبدیلی صارفین کے لیے بہت دقت کا موجب ہوتی ہے آخر حکومت کو عوام کے مفادات کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ گزشتہ ماہ سے یہ مسلسل اضافہ ہے۔
ایک سوال تو یہ ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا اضافہ ہوا اور حکومت نے اس اضافے کی بنیاد یا کسوٹی پر خود کتنا اضافہ کیا، مزید برآں اس اضافے سے سرکاری خزانے میں کتنا ریونیو جمع ہو گا؟ وزارت خزانہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5روپے 92 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 94 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 93 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 84 روپے 51 پیسے فی لٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 95 روپے 83 پیسے فی لٹر، مٹی کا تیل 70 روپے 26 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 64 روپے 30 پیسے فی لٹر ہو گی۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اوگرا نے قیمتوں میں اضافے کی جو سمری ارسال کی تھی تاہم حکومت نے قیمتوں میں بہت کم اضافہ کیا ہے بلکہ لیویز میں ردوبدل کرکے صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کی ہے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی منڈی میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
ایک بات جس کی بار بار گزارش کی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافے سے تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس اضافے کا کوئی تناسب پٹرولیم کی قیمت میں اضافے کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ مہنگائی میں اضافہ بے مہار ہوتا ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا میکنزم ہے جس سے وہ قیمتوں میں اضافے کا کوئی حساب کتاب رکھ سکے یا اسے کنٹرول کر کے ایک حد سے آگے نہ بڑھنے دے۔
اپوزیشن جماعتوں، بزنس کمیونٹی اور ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے کے خلا ف شدید احتجاج کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے لیگی حکومت نے چار سال تک عوام کو عالمی مارکیٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کا کوئی ریلیف نہیں دیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آئے گا۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھانے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی تمام ترذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، اصولی طور پر حکومت کو ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے ایک طرف تو مسافر بسوں کے کرایے بڑھ جائیں گے تو دوسری طرف اشیاء کی ٹرانسپورٹیشن بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔
بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی جس سے اشیاء کے نرخ بڑھ جائیں گے۔ حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر رہی ہے جس کے باعث ہماری معیشت کو مستقبل میں سنگین چیلنجز درپیش ہونگے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششیں بھی نظر نہیں آتیں۔
بہرحال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ شاید حکومت کی مجبوری ہو لیکن اگر عوامی اور کاروباری پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس سے عام شہری کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ہموار معاشی ترقی کے لیے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے دیگر ذرایع کے نرخوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہی اصول چل رہا ہے' ہر مہینے عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو سامنے رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا معیشت کی ہموار ترقی کے لیے شاید مناسب نہیں ہے۔ حکومت کو اس پہلو پر لازماً غور کرنا چاہیے۔
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ہر بار تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ رد و بدل اصولی طور پر تو سالانہ بجٹ کے ساتھ ہی ہونا چاہیے یا ششماہی طور پر اور کم از کم سہ ماہی بنیادوں میں کیونکہ ماہوار اور پندرہ روزہ تبدیلی صارفین کے لیے بہت دقت کا موجب ہوتی ہے آخر حکومت کو عوام کے مفادات کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ گزشتہ ماہ سے یہ مسلسل اضافہ ہے۔
ایک سوال تو یہ ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا اضافہ ہوا اور حکومت نے اس اضافے کی بنیاد یا کسوٹی پر خود کتنا اضافہ کیا، مزید برآں اس اضافے سے سرکاری خزانے میں کتنا ریونیو جمع ہو گا؟ وزارت خزانہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5روپے 92 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 94 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 93 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 84 روپے 51 پیسے فی لٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 95 روپے 83 پیسے فی لٹر، مٹی کا تیل 70 روپے 26 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 64 روپے 30 پیسے فی لٹر ہو گی۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اوگرا نے قیمتوں میں اضافے کی جو سمری ارسال کی تھی تاہم حکومت نے قیمتوں میں بہت کم اضافہ کیا ہے بلکہ لیویز میں ردوبدل کرکے صارفین کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کی ہے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی منڈی میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
ایک بات جس کی بار بار گزارش کی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافے سے تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس اضافے کا کوئی تناسب پٹرولیم کی قیمت میں اضافے کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ مہنگائی میں اضافہ بے مہار ہوتا ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا میکنزم ہے جس سے وہ قیمتوں میں اضافے کا کوئی حساب کتاب رکھ سکے یا اسے کنٹرول کر کے ایک حد سے آگے نہ بڑھنے دے۔
اپوزیشن جماعتوں، بزنس کمیونٹی اور ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے کے خلا ف شدید احتجاج کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے لیگی حکومت نے چار سال تک عوام کو عالمی مارکیٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کا کوئی ریلیف نہیں دیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا ایک نیا سیلاب آئے گا۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھانے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی تمام ترذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، اصولی طور پر حکومت کو ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے ایک طرف تو مسافر بسوں کے کرایے بڑھ جائیں گے تو دوسری طرف اشیاء کی ٹرانسپورٹیشن بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔
بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی جس سے اشیاء کے نرخ بڑھ جائیں گے۔ حکومت مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کر رہی ہے جس کے باعث ہماری معیشت کو مستقبل میں سنگین چیلنجز درپیش ہونگے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششیں بھی نظر نہیں آتیں۔
بہرحال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ شاید حکومت کی مجبوری ہو لیکن اگر عوامی اور کاروباری پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس سے عام شہری کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ہموار معاشی ترقی کے لیے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے دیگر ذرایع کے نرخوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہی اصول چل رہا ہے' ہر مہینے عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو سامنے رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا معیشت کی ہموار ترقی کے لیے شاید مناسب نہیں ہے۔ حکومت کو اس پہلو پر لازماً غور کرنا چاہیے۔