نقل پر قابو پانے کیلئے میٹرک کے امتحانی مراکز کی تعداد کم کر دی گئی
220 اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ،مقصد پرچے آؤٹ ہونےسے روکنا ہے، ویجیلنس کمیٹیاں قائم کردیں، حور مظہر.
220 اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ،مقصد پرچے آؤٹ ہونے سے روکنا ہے، ویجیلنس کمیٹیاں قائم کردیں، حور مظہر. فوٹو: فائل
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نقل پرقابو پانے کے لیے میٹرک کے امتحانی مراکز کی تعداد مزید15فیصدکم کردی ۔
بورڈکی سابق ناظم امتحانات رفعیہ ملاح کی جانب سے گزشتہ برس 258امتحانی مراکز میں میٹرک کے امتحانات لیے گئے تھے تاہم اس بار اس تعدادکوکم کرکے 220 اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور بورڈ کی تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کہ نقل پرقابو پانے اورامتحانی پرچے کے آؤٹ ہونے کے امکانات کو محدودکرنے کے لیے مراکزکی تعداد15فیصدکم کردی گئی ہے۔
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی سیکریٹری حورمظہر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ حکومت سندھ کے احکامات اوراسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں امتحانی مراکز کی تعداد کو مزید کم کیا گیا ہے، انھوں نے بتایاکہ بورڈ کی جانب سے امتحانات کی نگرانی اورشفافیت برقراررکھنے کیلیے ویجیلنس کے علاوہ سپرویجیلنس کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں جو مراکزکا دورہ بھی کریں گی۔
بورڈکی سابق ناظم امتحانات رفعیہ ملاح کی جانب سے گزشتہ برس 258امتحانی مراکز میں میٹرک کے امتحانات لیے گئے تھے تاہم اس بار اس تعدادکوکم کرکے 220 اسکولوں میں امتحانی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور بورڈ کی تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کہ نقل پرقابو پانے اورامتحانی پرچے کے آؤٹ ہونے کے امکانات کو محدودکرنے کے لیے مراکزکی تعداد15فیصدکم کردی گئی ہے۔
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی سیکریٹری حورمظہر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ حکومت سندھ کے احکامات اوراسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں امتحانی مراکز کی تعداد کو مزید کم کیا گیا ہے، انھوں نے بتایاکہ بورڈ کی جانب سے امتحانات کی نگرانی اورشفافیت برقراررکھنے کیلیے ویجیلنس کے علاوہ سپرویجیلنس کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں جو مراکزکا دورہ بھی کریں گی۔