عدلیہ کا احترام اور اختلاف رائے

توہین عدالت قانون پر عمل درآمد ججز کو مجبور کردیتی ہے کہ کوئی عدالی فیصلوں کی روح سے کھلواڑ نہ کرے۔

توہین عدالت قانون پر عمل درآمد ججز کو مجبور کردیتی ہے کہ کوئی عدالی فیصلوں کی روح سے کھلواڑ نہ کرے۔ فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک ماہ قید، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی اور آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت 5 سال کے لیے نااہل قرار دیدیا، انھیں احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا، عدالت نے نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت قید، جرمانہ اور نااہلی کی سزا سنائی۔

نہال ہاشمی پیشہ کے لحاط سے سینئر وکیل ہیں اور ن لیگ کے سرگرم سیاسی کارکن شمار ہوتے ہیں، ان کا سیاسی کیریئر عمومی تناظر میں انسانی حقوق اور جمہوری جدوجہد سے مشروط رہا ہے مگر نہ معلوم کس جوش جنوں میں وہ ایک بند کمرے میں شعلہ نوائی پر مائل ہوئے اور عدلیہ ان کی تقریر کا ہدف بنی۔ نہال ہاشمی نے عدالت عظمیٰ سے معافی مانگتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کا مقصد عدلیہ کی تضحیک نہ تھا۔

بہرحال عدالتی فیصلہ اس بات کا عندیہ ہے کہ توہین عدالت کا قانون ایک بیریئر ہے، اس نادانستہ طرز عمل کے خلاف جس سے عدلیہ کے وقار پر کوئی حرف آئے۔ ادھر بعض ماہرین قانون کہتے ہیں کہ مغرب میں توہین عدالت کے قانون پر عملدرآمد کی شدت کم ہوگئی ہے، تاہم ملکی سیاست میں سیاسی تلخی نے عجیب مناظرے کی صورت پیدا کی ہے، سب آستینیں چڑھائے بیٹھے ہیں اور جہاں نہال ہاشمی نے اکیلے عدلیہ یا سیاسی مخالفین کو للکارنے کی روش اختیارنہیں کی، سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت ن لیگ کے دیگر سیاسی رہنما پاناما کیس بشمول دیگر مقدمات کو ٹارگٹڈ عدالتی فعالیت کے سیاق و سباق میں دیکھتے ہیں اور عدالتی فیصلوں پر تنقید ہورہی ہے۔

دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی عدلیہ، الیکشن کمیش، سٹیبلشمنٹ اور سیاسی نظام سمیت عدل کی عدم فراہمی کے وسیع تناظر میں عدالتی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے مگر عدلیہ کو بطور مجموعی ٹارگٹ نہیں کیا جاتا اور جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ اس مین اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ملکی سیاست میں اشتعال انگیز تقریروں کی ایسی وبا پھوٹ پڑی ہے کہ دوبدو مکالمہ بھی بلند آہنگی کی نذر ہوجاتا ہے، جب کہ پارلیمانی روایت یہ ہے کہ ریاستی اداروں سمیت ایوان زیریں و بالا میں انداز تکلم شائستگی کا آئینہ دار اور دل آزاری سے پاک ہو۔

اسی طرح ججز کی دانستہ تضحیک جمہوریت کی خدمت نہیں، اس سے انارکی پھیل سکتی ہے اور نقصان جمہوری اقدار، سیاسی رواداری اور ریاستی اداروں کا ہوگا۔ سیاست دانوں سے ہمیشہ تعمیری اور ذمے دارانہ طرز عمل کی توقع رکھی جاتی ہے۔ وہ معاشرے میں رول ماڈل ہونے چاہئیں، انھیں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی حساسیت کا خیال رکھنا چاہیے، حقیقت یہ ہے کہ بیشتر سیاست دان اپنا سارا وقت ٹی وی ٹاکس میں شرکت کے لیے مختص کیے ہوئے ہیں، سیاست عوام کی خدمت سے عبارت ہے، وہ ڈیلیور کرنے پر توجہ دیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید سے فاضل ججزنے بھی کلی منع نہیں کیا، عدالت سے باہر عدالتیں لگتی رہی ہیں، لیکن ضرورت تحمل و برداشت restraint کی ہے۔


سڑکوں، جلسے جلوسوں، پریس کانفرنس اور میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں تحمل اور تدبر کا مظاہرہ احسن ترین پیش رفت ہوگی، کرپشن کے لاتعداد مقدمات کی سماعت سے جہاں ملکی سیاست میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کی شدت کم کرنے کے لیے جمہوری رویے کی متبادل اشتعال انگیز تقاریر ہرگز نہیں ہوسکتیں۔

واضح رہے عدالت نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے، جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 24 جنوری کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیس کا فیصلہ 2-1 سے آیا، 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس آصف کھوسہ نے پڑھ کر سنایا، جب کہ جسٹس دوست محمد نے اس سے اختلاف کیا، وہ فیصلے میں خاموش رہے اور ذاتی وجوہات کی بناء پر کوئی رائے نہیں دی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نہال ہاشمی کی تقریر عدلیہ، ججزاور عدالتی احکامات پر عمل کرنے والوں کے خلاف تھی، جس میں براہ راست دھمکی دی گئی، نہال ہاشمی نے کیس میں گواہیاں ریکارڈ ہونے کے بعد معافی مانگی، ادھر طلال چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں توہین عدالت کا نوٹس نہیں ملا، ہم نظام عدل پر بالکل تنقید کرتے ہیں لیکن ججوں کا نام لے کر کبھی ٹارگٹ نہیں کیا۔ نظام عدل میں تبدیلیاں آنی چاہئیں، کیونکہ عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا۔ لیکن صائب طریقہ اداروں کی حرمت اور عدلیہ کی توقیر اور اس کے وقار پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں۔

جمہوریت نازک دورانیے سے گزر رہی ہے، ارباب اختیار اور ان سیاست دانوں کو جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں وہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی پیروی کریں اور اختلاف اور تنقید کی آزادی کو ذمے داری سمجھتے ہوئے اس لکیر کو عبور کرنے کی سیاسی کارکنوں کو بھی اجازت نہ دیں، جس سے جمہوریت اور ملک کو کوئی نقصان پہنچے۔ توہین عدالت قانون پر عمل درآمد ججز کو مجبور کردیتی ہے کہ کوئی عدالی فیصلوں کی روح سے کھلواڑ نہ کرے، عدلیہ اور سیاست دانوں کے لیے تاریخ کا سبق اوپن ہے کہ سب اپنی حد میں رہیں۔

 
Load Next Story