بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا جنگی جنون کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا جنگی جنون کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ فوٹو : فائل

بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے' پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود اس کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا' دونوں ممالک کے درمیان 2003ء کا سیز فائر معاہدہ موجود ہے مگر بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی مطالبے اور معاہدے کو خاطر میں نہیں لا رہا اور سرحدوں پر کشیدگی کا ماحول مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جمعرات کو بھی لائن آف کنٹرول کے کھوئی رٹہ سیکٹر کے مختلف سرحدی علاقوں میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 9نہتے شہری زخمی ہو گئے جن میں سے 4کی حالت تشویشناک ہے۔ پاک فوج نے بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا اور اس کی فائرنگ کا موثر جواب دیا ۔ گزشتہ ماہ بھی لائن آف کنٹرول پر کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 4پاکستانی فوجی شہید ہو گئے جس پر بھارتی ڈپٹی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس واقعے پر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا جنگی جنون کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے' کبھی وہ کنٹرول لائن کے پاس آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے تو کبھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ بھارت کی جنگی تیاریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ پاکستان اور چین کو اپنا دشمن گردانتے ہوئے جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں کی تیاریوں میں مصروف ہے' اب وہ خلائی ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا اور اسے جنگی مقاصد کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔


بھارتی حکومت نے جمعرات کو وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 7.81فیصد کے اضافے کے ساتھ 2018-2019 کے لیے 2,95511 کروڑ روپے مختص کیے ہیں' اس طرح دفاعی بجٹ میں مجموعی طور پر 30کھرب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بھارت میں روز گار کے نئے مواقع محدود ہونے کے باعث غربت اور بیروز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے مگر بھارتی حکومت اپنے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے بجائے خطے کی بڑی طاقت بننے کے جنون میں خطیر رقم دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بھارت نے پاکستان اور چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے ایک مخصوص مقصد کے تحت کشیدگی کا ماحول پیدا کر رکھا ہے اگر وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لا کر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے اپنی دفاعی تیاریوں پر اتنا کثیر سرمایہ خرچ کرنا پڑے۔ بھارتی جنگی جنون پورے خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ، آخر وہ سرحدی خلاف ورزیاں کر کے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا۔

اگر اس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے تو اسے ایسے ارادوں سے باز آ جانا چاہیے کیونکہ وہ اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کا معاملہ عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھانا چاہیے بظاہر یہ سلسلہ رکتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

 
Load Next Story