دھوکے اور فریب کی سیاست
حکمران طبقات تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ نظام کی وہ ساری ''خوبیاں'' موجود ہیں، جن سے دنیا کے اربوں انسان استفادہ کر رہے ہیں۔ان خوبیوں میں جھوٹے وعدے جھوٹی تسلیاں قدم قدم پر فریب، قدم قدم پرکرپشن ایسی خوبیاں ہیں جو جمہوریت کی پیشانی پر چاند ستاروں کی طرح چمکتی ہیں۔ ہماری مقدس جمہوریت میں حکمران طبقات عوام کو جو خوشنما فریب دیتے ہیں ان میں ترقیاتی کام سرفہرست ہیں۔
حکمران طبقات تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ ان شعبوں میں ترقی سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے برخلاف شاہراہیں بنانا، انڈر پاس بنانا اوور ہیڈ برج بنانے میں حکمران طبقات اس لیے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کہ یہ ترقیاتی کام نظر آتے ہیں اور ان میں بہت ''بڑی بچتیں'' ہوتی ہیں ۔ سی پیک جیسے بہت بڑے ترقیاتی پروگرام کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کی تعمیر ہے اور یہ شعبہ اس قدر منافع بخش ہے کہ حکمران دیکھتے ہی دیکھتے اربوں روپے میں کھیلنے لگتے ہیں۔
مثلاً رائے ونڈ روڈ، آج کل میڈیا میں یہ خبریں شایع ہو رہی ہیں کہ نیب نے اس روڈ کے حوالے سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو طلب کرلیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس پروجیکٹ میں 12کروڑ56 لاکھ سے زیادہ رقم خورد برد کرلی گئی ہے، اسی طرح آشیانہ اسکیم میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے بھی نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھ گچھ شروع کی ہے ۔ اس کے علاوہ ملک کے قومی اداروں میں اربوں کی کرپشن کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ خبریں شایع ہو رہی ہیں، پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے قومی ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہیں۔
اس قسم کے مسائل کسی ایک ملک میں وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ جہاں جہاں سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے وہاں لوٹ مارکا کلچر عام ہے۔ حال ہی میں پاناما لیکس کے نام سے مختلف ملکوں کے حکمران طبقات کی منی لانڈرنگ ٹیکس بچانے کی وارداتوں سے میڈیا بھرا ہوا ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے حکمرانوں پر بھی آف شورکمپنیاں بنانے اور بھارتی منی لانڈرنگ کی داستانوں سے میڈیا بھرا پڑا ہے۔ خاص طور پر ترقی پسند ملکوں کے حکمران طبقات کے نام اس حوالے سے میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
میڈیا ہی کی خبروں کے مطابق پاناما اسکینڈل میں مجموعی طور پر 435 اشرافیائی محترمین کے نام شامل ہیں اور ان کے خلاف انکوائری کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی تاریخ کے ترقی یافتہ نظام جمہوریت میں یہ ساری برائیاں موجود ہیں تو پھر وہ کون سا نظام رہ جاتا ہے جوکرپشن سے پاک ہو اور جس پر عوام یقین کرلیں؟
جیساکہ ہم نے نشاندہی کی ہے سیاسی تاریخ میں جمہوریت ہی ایک ایسا نظام ہے جو عوام کے مسائل حل کرنے کا دعویدار ہے لیکن دنیا کی ڈھائی سو سالہ جمہوریت اور پاکستان اور بھارت کی ستر سالہ جمہوریت لوٹ مار سے عبارت ہے اور عوام کے مسائل حل ہونے یا ان میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہوتا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ عموماً کوئی نظام بذات خود برا نہیں ہوتا بلکہ اس کو چلانے والے اسے اچھا یا برا بنا دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نظام کو چلانے والے کون ہیں؟
جمہوری مفکرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت اکثریت کی حکومت کا نام ہے، اسی حوالے سے کہا گیا ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے کا نام جمہوریت ہے۔کیا پسماندہ ملکوں کی جمہوریت اس معیار پر پوری اترتی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ پسماندہ ملکوں میں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اشرافیائی حکومتیں موجود ہیں جن کا عوام سے تعلق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انتخابات میں عوام اپنے طبقاتی دشمنوں کو منتخب کرتے ہیں اس کے بعد عوامی جمہوریت ختم ہوجاتی ہے اور ''اشرافیائی جمہوریت '' شروع ہوجاتی ہے۔
پسماندہ ملکوں کی جمہوریت میں ایک دلچسپ روایت یہ ہے کہ یہاں حکمران طبقہ بحیثیت خادم عوام جو ذمے داریاں پوری کرتا ہے جو اس کا فرض ہے اس کا کریڈٹ لینے کی پرفریب کوشش کرتا ہے۔ مثلاً پروجیکٹ کوئی شاہراہ کوئی پاور پروجیکٹ کوئی ڈیم کوئی ایئرپورٹ تعمیرکیا جاتا ہے تو اس کا افتتاح اور افتتاح کے مقام پر اپنے نام کی تختی لگانے پر کروڑوں بلکہ بعض صورتوں میں اربوں روپے اس کی پبلسٹی پر جھونک دیتا ہے اورکروڑوں کے سپلیمنٹ نکالے جاتے ہیں۔ جن میں حکمران خاندان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ پروجیکٹ یہ ترقیاتی کام حکمرانوں نے اپنی جیب خاص سے انجام دیا ہے، اس قسم کی غلط اور فریب پر مبنی مہم کے ذریعے عوام پر یہ نفسیاتی اثر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکمران اپنی ڈیوٹی نہیں بلکہ عوام پر احسان کر رہے ہیں۔
ہم نے ابتدا میں اس بات کی نشان دہی کردی تھی کہ عوام کی اصل ضرورتوں مثلاً تعلیم صحت جیسے ضروری شعبوں میں برائے نام بہت کم بجٹ رکھا جاتا ہے اس لیے کہ ان کاموں میں بچت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے ۔اس کے مقابلے میں سیکڑوں کلومیٹر کے موٹروے بجلی کے پروجیکٹس اورنج اور گرین بسیں اور ٹرین سروس کے پروجیکٹس پر بھاری بچت کا یقین ہوتا ہے، ایئرپورٹ اور بندرگاہوں جیسے پروجیکٹ میں بھاری بچت کی گنجائش ہوتی ہے ۔اس کے مقابلے میں کالج اسپتال جیسے عوامی خدمات کے پروجیکٹس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ پروجیکٹ عوام کی لازمی ضرورت ہونے کے باوجود منافع بخش نہیں ہوتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں کی لاگت سے بننے والے موٹر وے سے عوام کوکیا فائدہ ہو رہا ہے؟ عوام کی کون سی ضرورت پوری ہو رہی ہے؟ اعلیٰ تعلیم کے ادارے بجٹ کی کمی کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں ۔ صحت عوام کا بنیادی مسئلہ ہے، لیکن اس شعبے کا حال یہ ہے کہ یہاں دواؤں کی قلت ہے، ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ، سرکاری اسپتالوں میں ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔
ڈاکٹروں کو مناسب تنخواہیں ملتی ہیں نہ سہولتیں میسر ہیں جس کی وجہ سے آئے دن ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہڑتالیں کرتا نظر آتا ہے اور حکمران طبقہ ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ان پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج، آنسو گیس، واٹر کینن استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے ہماری جمہوریت کا اصلی چہرہ۔
حکمران طبقات تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ ان شعبوں میں ترقی سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے برخلاف شاہراہیں بنانا، انڈر پاس بنانا اوور ہیڈ برج بنانے میں حکمران طبقات اس لیے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کہ یہ ترقیاتی کام نظر آتے ہیں اور ان میں بہت ''بڑی بچتیں'' ہوتی ہیں ۔ سی پیک جیسے بہت بڑے ترقیاتی پروگرام کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کی تعمیر ہے اور یہ شعبہ اس قدر منافع بخش ہے کہ حکمران دیکھتے ہی دیکھتے اربوں روپے میں کھیلنے لگتے ہیں۔
مثلاً رائے ونڈ روڈ، آج کل میڈیا میں یہ خبریں شایع ہو رہی ہیں کہ نیب نے اس روڈ کے حوالے سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو طلب کرلیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس پروجیکٹ میں 12کروڑ56 لاکھ سے زیادہ رقم خورد برد کرلی گئی ہے، اسی طرح آشیانہ اسکیم میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے بھی نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھ گچھ شروع کی ہے ۔ اس کے علاوہ ملک کے قومی اداروں میں اربوں کی کرپشن کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ خبریں شایع ہو رہی ہیں، پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے قومی ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہیں۔
اس قسم کے مسائل کسی ایک ملک میں وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ جہاں جہاں سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے وہاں لوٹ مارکا کلچر عام ہے۔ حال ہی میں پاناما لیکس کے نام سے مختلف ملکوں کے حکمران طبقات کی منی لانڈرنگ ٹیکس بچانے کی وارداتوں سے میڈیا بھرا ہوا ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے حکمرانوں پر بھی آف شورکمپنیاں بنانے اور بھارتی منی لانڈرنگ کی داستانوں سے میڈیا بھرا پڑا ہے۔ خاص طور پر ترقی پسند ملکوں کے حکمران طبقات کے نام اس حوالے سے میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
میڈیا ہی کی خبروں کے مطابق پاناما اسکینڈل میں مجموعی طور پر 435 اشرافیائی محترمین کے نام شامل ہیں اور ان کے خلاف انکوائری کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی تاریخ کے ترقی یافتہ نظام جمہوریت میں یہ ساری برائیاں موجود ہیں تو پھر وہ کون سا نظام رہ جاتا ہے جوکرپشن سے پاک ہو اور جس پر عوام یقین کرلیں؟
جیساکہ ہم نے نشاندہی کی ہے سیاسی تاریخ میں جمہوریت ہی ایک ایسا نظام ہے جو عوام کے مسائل حل کرنے کا دعویدار ہے لیکن دنیا کی ڈھائی سو سالہ جمہوریت اور پاکستان اور بھارت کی ستر سالہ جمہوریت لوٹ مار سے عبارت ہے اور عوام کے مسائل حل ہونے یا ان میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہوتا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ عموماً کوئی نظام بذات خود برا نہیں ہوتا بلکہ اس کو چلانے والے اسے اچھا یا برا بنا دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نظام کو چلانے والے کون ہیں؟
جمہوری مفکرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت اکثریت کی حکومت کا نام ہے، اسی حوالے سے کہا گیا ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے کا نام جمہوریت ہے۔کیا پسماندہ ملکوں کی جمہوریت اس معیار پر پوری اترتی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ پسماندہ ملکوں میں جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اشرافیائی حکومتیں موجود ہیں جن کا عوام سے تعلق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انتخابات میں عوام اپنے طبقاتی دشمنوں کو منتخب کرتے ہیں اس کے بعد عوامی جمہوریت ختم ہوجاتی ہے اور ''اشرافیائی جمہوریت '' شروع ہوجاتی ہے۔
پسماندہ ملکوں کی جمہوریت میں ایک دلچسپ روایت یہ ہے کہ یہاں حکمران طبقہ بحیثیت خادم عوام جو ذمے داریاں پوری کرتا ہے جو اس کا فرض ہے اس کا کریڈٹ لینے کی پرفریب کوشش کرتا ہے۔ مثلاً پروجیکٹ کوئی شاہراہ کوئی پاور پروجیکٹ کوئی ڈیم کوئی ایئرپورٹ تعمیرکیا جاتا ہے تو اس کا افتتاح اور افتتاح کے مقام پر اپنے نام کی تختی لگانے پر کروڑوں بلکہ بعض صورتوں میں اربوں روپے اس کی پبلسٹی پر جھونک دیتا ہے اورکروڑوں کے سپلیمنٹ نکالے جاتے ہیں۔ جن میں حکمران خاندان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ پروجیکٹ یہ ترقیاتی کام حکمرانوں نے اپنی جیب خاص سے انجام دیا ہے، اس قسم کی غلط اور فریب پر مبنی مہم کے ذریعے عوام پر یہ نفسیاتی اثر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکمران اپنی ڈیوٹی نہیں بلکہ عوام پر احسان کر رہے ہیں۔
ہم نے ابتدا میں اس بات کی نشان دہی کردی تھی کہ عوام کی اصل ضرورتوں مثلاً تعلیم صحت جیسے ضروری شعبوں میں برائے نام بہت کم بجٹ رکھا جاتا ہے اس لیے کہ ان کاموں میں بچت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے ۔اس کے مقابلے میں سیکڑوں کلومیٹر کے موٹروے بجلی کے پروجیکٹس اورنج اور گرین بسیں اور ٹرین سروس کے پروجیکٹس پر بھاری بچت کا یقین ہوتا ہے، ایئرپورٹ اور بندرگاہوں جیسے پروجیکٹ میں بھاری بچت کی گنجائش ہوتی ہے ۔اس کے مقابلے میں کالج اسپتال جیسے عوامی خدمات کے پروجیکٹس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ پروجیکٹ عوام کی لازمی ضرورت ہونے کے باوجود منافع بخش نہیں ہوتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں کی لاگت سے بننے والے موٹر وے سے عوام کوکیا فائدہ ہو رہا ہے؟ عوام کی کون سی ضرورت پوری ہو رہی ہے؟ اعلیٰ تعلیم کے ادارے بجٹ کی کمی کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں ۔ صحت عوام کا بنیادی مسئلہ ہے، لیکن اس شعبے کا حال یہ ہے کہ یہاں دواؤں کی قلت ہے، ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ، سرکاری اسپتالوں میں ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔
ڈاکٹروں کو مناسب تنخواہیں ملتی ہیں نہ سہولتیں میسر ہیں جس کی وجہ سے آئے دن ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہڑتالیں کرتا نظر آتا ہے اور حکمران طبقہ ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ان پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج، آنسو گیس، واٹر کینن استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے ہماری جمہوریت کا اصلی چہرہ۔