چینی کمیونسٹ پارٹی کی نئی ہدایات
گرماگرم آن لائن بحث کا آغاز ہو گیا۔
گرماگرم آن لائن بحث کا آغاز ہو گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنی پارٹی کے ارکان کے لیے شادی اور اموات کے مواقع پر برتاؤ کے رہنما اصول جاری کیے ہیں جس پر آن لائن بحث چھڑ گئی۔
کچھ عرصہ قبل پارٹی نے اپنے آٹھ کروڑاسی لاکھ ارکان کے لیے رہنما اصول جاری کیے تو اس کا مقصد کفایت شعاری تھا۔گو تب ان رہنما اصولوں کے لیے مبہم الفاظ استعمال کیے گئے تھے، تاہم اب ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان رہنما اصولوں کو پارٹی کی سنجیدہ روایات کے ساتھ کس طرح لاگو کیا جانا چاہیے۔
یہ سب بظاہر کرپشن کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن زندگی کی سب سے اہم رسومات کے بارے میں دی جانے والی ہدایات نے گرماگرم آن لائن بحث کا آغاز کر دیا ۔شادی اور مرگ کو چین کے معاشرے میں دو ایسے موقع سمجھا جاتا ہے جن میں شرکت کرنے سے کسی کی سماجی حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔بعض رہنما اصول یہ ہیں:
1: شادی اور موت پر منافع نہ کمایا جائے
چین کی روایات کا حصہ ہے کہ شادی کے موقع پر دولھا دلھن، جبکہ موت پر لواحقین کو رقم دی جاتی ہے۔شادی کے موقع پر اسے دولھا دلھن کے لیے تحفہ سمجھا جاتا ہے جبکہ موت کی صورت میں یہ لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور آخری رسومات کی ادائیگی کے اخراجات میں مدد تصور کیا جاتا ہے۔شادی اور موت کو چینی معاشرے میں دو ایسے مواقع سمجھا جاتا ہے جن کے ذریعے کسی کی سماجی حیثیت ظاہر ہوتی ہے اور پارٹی کا اصرار ہے کہ ان موقعوں پر اسراف کو روکا جائے۔
اب پارٹی کے ارکان کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بڑی پارٹیاں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انھیں ایسے مواقع پر اپنے عملے اور ملازمین کو استعمال کرنے کی بھی ممانعت ہو گی۔انھیں شادیوں اور اموات کو پیسے بنانے کے موقع کے طور پر بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے ان موقعوں پر پیسے لینے اور دینے کا رواج بھی اس زد میں آئے گا۔پارٹی کے نگراں ادارے کے مطابق پارٹی ارکان بعض اوقات بہت بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ زیادہ مقدار میں تحائف وصول کر سکیں۔
2: دوسروں کے لیے مشکل نہ بنیں
چھوٹے دیہات میں شادیاں اور سوگ کئی دن تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے ہجوم لگا رہتا ہے۔ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ان تقریبات کی وجہ سے روز مرہ کے کام، معمولاتِ زندگی، ملازمتیں، تجارت، تدریس، تحقیق، ٹریفک وغیرہ میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔اس ہدایت نامے میں کئی اچھے کاموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق پارٹی ارکان کسی کو زخمی یا ہلاک نہیں کر سکتے اور نہ ہی ملک اور لوگوں کے مفادات کے خلاف جا سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق ''پارٹی ارکان خصوصاً قائدین اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ عوام میں برا تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔''
3: پرانی روایات کو پیچھے چھوڑنا
پارٹی ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی ثقافتی روایات کی اندھا دھند پیروی نہ کریں۔ تاہم نگراں ادارے نے زور دیا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مقامی روایات پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔تاہم اس وضاحت کے بعد بھی آئن لائن ہونے والے بحث میں کوئی فرق نہیں پڑا۔مائکرو بلاگنگ کی سائٹ، ویبو پر کئی صارفین نے لکھا کہ یہ اصول ناقابلِ برداشت اور خوفناک ہیں۔
کچھ عرصہ قبل پارٹی نے اپنے آٹھ کروڑاسی لاکھ ارکان کے لیے رہنما اصول جاری کیے تو اس کا مقصد کفایت شعاری تھا۔گو تب ان رہنما اصولوں کے لیے مبہم الفاظ استعمال کیے گئے تھے، تاہم اب ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان رہنما اصولوں کو پارٹی کی سنجیدہ روایات کے ساتھ کس طرح لاگو کیا جانا چاہیے۔
یہ سب بظاہر کرپشن کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن زندگی کی سب سے اہم رسومات کے بارے میں دی جانے والی ہدایات نے گرماگرم آن لائن بحث کا آغاز کر دیا ۔شادی اور مرگ کو چین کے معاشرے میں دو ایسے موقع سمجھا جاتا ہے جن میں شرکت کرنے سے کسی کی سماجی حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔بعض رہنما اصول یہ ہیں:
1: شادی اور موت پر منافع نہ کمایا جائے
چین کی روایات کا حصہ ہے کہ شادی کے موقع پر دولھا دلھن، جبکہ موت پر لواحقین کو رقم دی جاتی ہے۔شادی کے موقع پر اسے دولھا دلھن کے لیے تحفہ سمجھا جاتا ہے جبکہ موت کی صورت میں یہ لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور آخری رسومات کی ادائیگی کے اخراجات میں مدد تصور کیا جاتا ہے۔شادی اور موت کو چینی معاشرے میں دو ایسے مواقع سمجھا جاتا ہے جن کے ذریعے کسی کی سماجی حیثیت ظاہر ہوتی ہے اور پارٹی کا اصرار ہے کہ ان موقعوں پر اسراف کو روکا جائے۔
اب پارٹی کے ارکان کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بڑی پارٹیاں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انھیں ایسے مواقع پر اپنے عملے اور ملازمین کو استعمال کرنے کی بھی ممانعت ہو گی۔انھیں شادیوں اور اموات کو پیسے بنانے کے موقع کے طور پر بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے ان موقعوں پر پیسے لینے اور دینے کا رواج بھی اس زد میں آئے گا۔پارٹی کے نگراں ادارے کے مطابق پارٹی ارکان بعض اوقات بہت بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ زیادہ مقدار میں تحائف وصول کر سکیں۔
2: دوسروں کے لیے مشکل نہ بنیں
چھوٹے دیہات میں شادیاں اور سوگ کئی دن تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے ہجوم لگا رہتا ہے۔ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ان تقریبات کی وجہ سے روز مرہ کے کام، معمولاتِ زندگی، ملازمتیں، تجارت، تدریس، تحقیق، ٹریفک وغیرہ میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔اس ہدایت نامے میں کئی اچھے کاموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق پارٹی ارکان کسی کو زخمی یا ہلاک نہیں کر سکتے اور نہ ہی ملک اور لوگوں کے مفادات کے خلاف جا سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق ''پارٹی ارکان خصوصاً قائدین اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ عوام میں برا تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔''
3: پرانی روایات کو پیچھے چھوڑنا
پارٹی ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی ثقافتی روایات کی اندھا دھند پیروی نہ کریں۔ تاہم نگراں ادارے نے زور دیا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مقامی روایات پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔تاہم اس وضاحت کے بعد بھی آئن لائن ہونے والے بحث میں کوئی فرق نہیں پڑا۔مائکرو بلاگنگ کی سائٹ، ویبو پر کئی صارفین نے لکھا کہ یہ اصول ناقابلِ برداشت اور خوفناک ہیں۔