بلدیہ کو گرانٹ ہر ماہ کی10تاریخ سے پہلے دینے کا حکم
عدالت نے آبزرو کیا کہ کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ایک ہی فرد ہے مگر کوئی ذمے داری اور کام نہیں ہورہا ہے۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ایک ہی فرد ہے مگر کوئی ذمے داری اور کام نہیں ہورہا ہے۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے بدھ کو کے ایم سی کے 54 ہزار ملازمین و پنشنرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست پر چیف سیکریٹری کو صوبائی فنانس کمیشن کا مسئلہ عام انتخابات سے قبل حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کے ایم سی اور پانچوں ڈی ایم سیزسے لوکل ٹیکسز اور دیگر مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ایک ہی فرد ہے مگر کوئی ذمے داری اور کام نہیں ہورہا ہے، اس ضمن میں ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے جو آزادانہ کام کرے ، عدالت نے کے ایم سی کے وکیل بہزاد حیدر کی تجویز کی حمایت کی کہ ممکن ہو تو صوبائی حکومت کے ایم سی کو ماہانہ گرانٹ ہر ماہ کی10تاریخ سے قبل ادا کی جا ئے تاکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرزکو ادائیگی کی جاسکے، فاضل بینچ نے یہ ہدایات بدھ کو ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے چیف سیکریٹری ، سیکریٹری خزانہ ، سیکریٹری بلدیات ، چیف افسر اور فنانشل ایڈوائزرکے ایم سی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی۔
اس موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے موقف ا ختیار کیا کہ کے ایم سی کو وفاق کی جانب سے صوبا ئی فنانس ایوارڈ کی مد میں رقم فراہم کی جاتی تھی تاہم 17ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے اجرا کے بعد حکومت سندھ کے ایم سی کو رقم فراہم کرتی ہے، کے ایم سی کو ماہانہ 500 ملین روپے ماہانہ ادا کیے جارہے ہیں ، کے ایم سی کی جانب سے بہزاد حیدر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اگر یہ ادائیگی باقاعدگی سے ہوتی تو معاملہ عدالت میں نہ آتا ، صوبائی حکومت کو باقاعدگی سے ادائیگی کی ہدایت کی جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت ہر ماہ کی 10تاریخ سے قبل ادائیگی کو یقینی بنائے تاکہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیزکے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جاسکے، عدالت نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں تاخیر نہ کی جائے، اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری خزانہ شکیل احمد اور ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی اور ضلع میونسپل کارپوریشنزکے پاس بل بورڈز ، اشتہارات سمیت لوکل ٹیکس کی مد میں 17محکمے ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی اور کمشنرکا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہے، عدالت نے آبزروکیا کہ در حقیقت کوئی اپنی ذمے داری ادا کرنے کو تیار نہیں۔
اس حوالے سے ایک آزاد ادارہ قائم ہونا چاہیے جو آزادانہ اپنا کام کرے ،کے ایم سی کے وکیل خورشید جاوید نے استفسارپر بتایا کہ شہر میں کچرا اٹھانے اور گندگی صاف کرنے کا کام جاری ہے، عدالت نے 17اپریل کیلیے سماعت ملتوی کردی ، بدھ کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے باہر کے ایم سی سے تعلق رکھنے والے ہندوبرادری کے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی جنھوں نے ہولی کے موقع پر عملی طور پر مظاہرہ کیا کہ واجبات کے بغیر انکے مذہبی تہوار کس طرح گزر رہے ہیں، بعد ازاں پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ایک ہی فرد ہے مگر کوئی ذمے داری اور کام نہیں ہورہا ہے، اس ضمن میں ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے جو آزادانہ کام کرے ، عدالت نے کے ایم سی کے وکیل بہزاد حیدر کی تجویز کی حمایت کی کہ ممکن ہو تو صوبائی حکومت کے ایم سی کو ماہانہ گرانٹ ہر ماہ کی10تاریخ سے قبل ادا کی جا ئے تاکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرزکو ادائیگی کی جاسکے، فاضل بینچ نے یہ ہدایات بدھ کو ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے چیف سیکریٹری ، سیکریٹری خزانہ ، سیکریٹری بلدیات ، چیف افسر اور فنانشل ایڈوائزرکے ایم سی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی۔
اس موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے موقف ا ختیار کیا کہ کے ایم سی کو وفاق کی جانب سے صوبا ئی فنانس ایوارڈ کی مد میں رقم فراہم کی جاتی تھی تاہم 17ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے اجرا کے بعد حکومت سندھ کے ایم سی کو رقم فراہم کرتی ہے، کے ایم سی کو ماہانہ 500 ملین روپے ماہانہ ادا کیے جارہے ہیں ، کے ایم سی کی جانب سے بہزاد حیدر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اگر یہ ادائیگی باقاعدگی سے ہوتی تو معاملہ عدالت میں نہ آتا ، صوبائی حکومت کو باقاعدگی سے ادائیگی کی ہدایت کی جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت ہر ماہ کی 10تاریخ سے قبل ادائیگی کو یقینی بنائے تاکہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیزکے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جاسکے، عدالت نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں تاخیر نہ کی جائے، اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری خزانہ شکیل احمد اور ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی اور ضلع میونسپل کارپوریشنزکے پاس بل بورڈز ، اشتہارات سمیت لوکل ٹیکس کی مد میں 17محکمے ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی اور کمشنرکا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہے، عدالت نے آبزروکیا کہ در حقیقت کوئی اپنی ذمے داری ادا کرنے کو تیار نہیں۔
اس حوالے سے ایک آزاد ادارہ قائم ہونا چاہیے جو آزادانہ اپنا کام کرے ،کے ایم سی کے وکیل خورشید جاوید نے استفسارپر بتایا کہ شہر میں کچرا اٹھانے اور گندگی صاف کرنے کا کام جاری ہے، عدالت نے 17اپریل کیلیے سماعت ملتوی کردی ، بدھ کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے باہر کے ایم سی سے تعلق رکھنے والے ہندوبرادری کے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی جنھوں نے ہولی کے موقع پر عملی طور پر مظاہرہ کیا کہ واجبات کے بغیر انکے مذہبی تہوار کس طرح گزر رہے ہیں، بعد ازاں پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔