ایک تیرہ سالہ بچے کی جدوجہد

بچے کے حالات جاننے کے بعد نہ صرف مجھے انتہائی دکھ ہوا بلکہ میرے دل میں اس کے حالات سدھارنے کی خواہش بھی پیدا ہوئی

غربت اور حالات کیسے انسان کے خواب توڑنے اور ایک بچے کو چائلڈ لیبر بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

DOHA:
آج میں آپ کو ایک تیرہ سالہ بچے کی کہانی سناتا ہوں جو اپنے بڑے بھائی کے ساتھ سڑکیں بنانے میں استعمال ہونے والے مواد کو پیسنے کا کام کرتا ہے۔ عمر نامی یہ بچہ سلم (slum) اسکول میں میرا طالب علم بھی ہے۔ ایک مرتبہ کلاس ختم ہونے کے بعد میں نے اس بچے کے حالات جاننے کےلیے اسے اپنے پاس روک لیا۔ ہر بچے کی طرح اس کا خواب بھی ایک آرام دہ و خوشگوار اور پریشانیوں سے ماورا زندگی کا تھا۔ لیکن ہمیشہ ہمیں وہ نہیں مل پاتا جس کی ہمیں تمنا ہوتی ہے۔ عمر کی والدہ خاتونِ خانہ ہیں جبکہ اس کے والد دیہاڑی دار مزدور ہیں۔

اوائل عمری سے ہی وہ بچہ اپنے گھر والوں کےلیے کمائی کر رہا تھا۔ شروع میں اس نے ایک نان کی دکان پر کام کیا جہاں وہ روزانہ 14-12 گھنٹے کی مزدوری کے بعد بھی محض 3000 روپے ماہانہ کما پاتا۔ اس کی زندگی میں ایسا مشکل وقت بھی آیا جب تین مہینے تک یہ معمولی اجرت بھی اسے نہیں ملی تھی۔ اس کا مالک ان زیادتیوں کے ساتھ ساتھ اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بناتا مگر عمر یہ ملازمت نہیں چھوڑنا چاہتا تھا؛ کیونکہ اس کے والدین، چار بھائی اور پانچ بہنوں کا انحصار اسی کی کمائی پر تھا۔ پھر جب حالات مزید ابتر ہوگئے تو عمر کےلیے کام کرنا ناممکن ہوگیا، لہذا اس نے نوکری چھوڑنے کا سخت فیصلہ کیا۔



کچھ مہینے بے روزگار رہنے کے بعد اسے ایک ملازمت مل گئی جو پچھلی ملازمت جیسی ہی تھی لیکن ایک مختلف میدان میں تھی۔ اس بار اس نے دودھ کی دوکان پر کام کیا۔ اس دوکان پر عمر کے حالات قدرے بہتر تھے اور تنخواہ بھی زیادہ تھی۔ یہاں اس نے 5000 روپے ماہانہ کے عوض تین سال کام کیا لیکن یہ کام بھی چھوڑنا پڑا، کیونکہ اس کا بھائی اسے اپنے ساتھ کام پر رکھنا چاہتا تھا۔

عمر کا بڑا بھائی علی بھی اپنے پچھلے مالکان سے تنگ تھا، اس لیے اس نے چھوٹے پیمانے پر سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں استعمال ہونے والے مواد کو پیسنے کا کام شروع کردیا۔ علی نے اپنے بھائی عمر کو بھی اپنے ساتھ کام پر رکھ لیا۔ عمر اپنی تمام کمائی اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔


میں نے عمر سے اس کی تعلیم کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ سلم اسکول سے پہلے وہ ایک خاتون سے قرآن پاک پڑھتا اور بنیادی تعلیم حاصل کرتا رہا، تاہم وہ خاتون اب اس جگہ نہیں رہتیں۔ یہ بتاتے ہوئے وہ جذباتی ہوگیا اورکہا کہ میں آج بھی ان کے پڑھانے کے انداز کو یاد کرتا ہوں۔ میں نے اس سے اس کے فارغ وقت کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ کام سے واپسی اور سلم سکول سے پڑھائی کے بعد وقت نہیں بچتا، پانی کے حصول کےلیے اسے صبح ہی کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے، کیونکہ اس کے رہائشی علاقے میں صاف پانی کی ترسیل نہیں ہوتی۔ اس کے حالات جاننے کے بعد نہ صرف مجھے انتہائی دکھ ہوا بلکہ میرے دل میں اس کے حالات سدھارنے کی خواہش بھی پیدا ہوئی۔



اس کہانی کا مقصد یہ بتانا ہے کہ غربت اور حالات کیسے انسان کے خواب توڑنے اور ایک بچے کو چائلڈ لیبر بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ میری منشا ایسی دنیا کا قیام ہے جہاں بچے اپنے بچپن کے سنہری دور سے بھرپور لطف اٹھائیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ کسی بھی بچے کو کسی قیمت پر اس کے بنیادی فطری حقوق سے محروم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آنے والے حالات سے مقابلہ کرنے کےلیے اپنی تعلیمی بنیاد مضبوط کرنی چاہیے۔

آئیے! ایسی دنیا کی امید پیدا کرتے ہیں اور اس کے بننے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Load Next Story