کراچی میں ٹارگٹ کلنگ لمحہ فکریہ
غیرملکی قوتیں مقامی دہشتگردوں کو استعمال کرکے ’سی پیک‘ کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں
غیرملکی قوتیں مقامی دہشتگردوں کو استعمال کرکے ’سی پیک‘ کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
کراچی میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے امن وامان کی صورتحال اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پوش علاقے کلفٹن میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے کار میں سوار ایک چینی باشندہ ہلاک جب کہ دوسرے نے بھاگ کر جان بچائی ۔ فائرنگ کی زد میں آکر رکشا ڈرائیور زخمی ہوا، واقعہ سہ پہر میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والا نجی شپنگ کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر تھا ۔کراچی میں امن کی بحالی کے بعد ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کا سراٹھانا اس بات کی دلیل ہے کہ پولیس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔
رینجرز نے شب و روز محنت کرکے کراچی میں دہشتگردوں کا صفایا گیا تھا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے ۔ جرائم کی شرح میں اضافہ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہونا لمحہ فکریہ ہے ۔ چین ہمارا بہترین دوست ملک ہے، اس طرح کے واقعات کے پیچھے یقینا غیرملکی قوتیں ہوسکتی ہیں جو مقامی دہشتگردوں کو استعمال کرکے 'سی پیک' کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چینی باشندوں کو محکمہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہمی کے باوجود ، جس وقت ان پر حملہ ہوا ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھے، آخرکیوں ایسا ہوا، اس کا جواب تو محکمہ پولیس کو خود تلاش کرنا چاہیے ۔
جب قانون کے رکھوالے سڑکوں ، چوراہوں اور پلوں کے نیچے عام شہریوں کو ڈرا دھمکا کر مال بٹورنے پر مصروف ہوں تو پھر دہشتگرد دن دھاڑے ایسی وارداتیں آسانی سے کرسکتے ہیں ۔ اس شہر میں سی ٹی ڈی، اے وی سی سی، اسپیشل برانچ اورایس آئی یو پولیس موجود ہے ، لیکن دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں بری طرح سے ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمانہ سطح پر ان کے درمیان مربوط اور منظم رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے ، ورنہ یوں شاہراہیں مقتل نہ بنتیں،اسٹریٹ کرائمزکاشکار شہری خوف وہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتے ۔کراچی پولیس کا جو حال ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس کے مفرور ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار اوران کی ٹیم کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں ۔
تفتیشی ٹیم نے سائٹ ، سپرہائی وے، شاہ لطیف ٹاؤن سمیت دیگرمقامات اوران کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارے گئے تاہم تفتیشی ٹیم کومکمل طور پر ناکامی کا سامناکرنا پڑا ۔ سابق پولیس آفیسر پر ماورائے عدالت کے الزامات پہلے بھی لگے ہیں وہ پہلے بھی معطل ہوگئے ہیں اور پھر بحال ہوئے ہیں۔ جب قانون کا احترام اور پاسداری وردی پہننے والے نہیں کریں گے تو پورا معاشرہ جنگل کا منظر پیش کرتا ہے جہاں پرکوئی قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ کراچی پہلے ہی کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار چلا آرہا ہے ، گزشتہ دو تین برس سے نسبتا پرسکون گزرے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ پولیس ان ساری کاوشوں اور قربانیوں پر پانی پھیرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کو کراچی میں امن کی بحال کے لیے فوری اور دورس اقدامات کرنے ہوں گے۔
کراچی میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے امن وامان کی صورتحال اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پوش علاقے کلفٹن میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے کار میں سوار ایک چینی باشندہ ہلاک جب کہ دوسرے نے بھاگ کر جان بچائی ۔ فائرنگ کی زد میں آکر رکشا ڈرائیور زخمی ہوا، واقعہ سہ پہر میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والا نجی شپنگ کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر تھا ۔کراچی میں امن کی بحالی کے بعد ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کا سراٹھانا اس بات کی دلیل ہے کہ پولیس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔
رینجرز نے شب و روز محنت کرکے کراچی میں دہشتگردوں کا صفایا گیا تھا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے ۔ جرائم کی شرح میں اضافہ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہونا لمحہ فکریہ ہے ۔ چین ہمارا بہترین دوست ملک ہے، اس طرح کے واقعات کے پیچھے یقینا غیرملکی قوتیں ہوسکتی ہیں جو مقامی دہشتگردوں کو استعمال کرکے 'سی پیک' کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چینی باشندوں کو محکمہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہمی کے باوجود ، جس وقت ان پر حملہ ہوا ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھے، آخرکیوں ایسا ہوا، اس کا جواب تو محکمہ پولیس کو خود تلاش کرنا چاہیے ۔
جب قانون کے رکھوالے سڑکوں ، چوراہوں اور پلوں کے نیچے عام شہریوں کو ڈرا دھمکا کر مال بٹورنے پر مصروف ہوں تو پھر دہشتگرد دن دھاڑے ایسی وارداتیں آسانی سے کرسکتے ہیں ۔ اس شہر میں سی ٹی ڈی، اے وی سی سی، اسپیشل برانچ اورایس آئی یو پولیس موجود ہے ، لیکن دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں بری طرح سے ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمانہ سطح پر ان کے درمیان مربوط اور منظم رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے ، ورنہ یوں شاہراہیں مقتل نہ بنتیں،اسٹریٹ کرائمزکاشکار شہری خوف وہراس کی زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتے ۔کراچی پولیس کا جو حال ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس کے مفرور ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار اوران کی ٹیم کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں ۔
تفتیشی ٹیم نے سائٹ ، سپرہائی وے، شاہ لطیف ٹاؤن سمیت دیگرمقامات اوران کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارے گئے تاہم تفتیشی ٹیم کومکمل طور پر ناکامی کا سامناکرنا پڑا ۔ سابق پولیس آفیسر پر ماورائے عدالت کے الزامات پہلے بھی لگے ہیں وہ پہلے بھی معطل ہوگئے ہیں اور پھر بحال ہوئے ہیں۔ جب قانون کا احترام اور پاسداری وردی پہننے والے نہیں کریں گے تو پورا معاشرہ جنگل کا منظر پیش کرتا ہے جہاں پرکوئی قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ کراچی پہلے ہی کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار چلا آرہا ہے ، گزشتہ دو تین برس سے نسبتا پرسکون گزرے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ پولیس ان ساری کاوشوں اور قربانیوں پر پانی پھیرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کو کراچی میں امن کی بحال کے لیے فوری اور دورس اقدامات کرنے ہوں گے۔