انٹر نیشنل کھیلوں کی بحالی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا شرکا فورم
پی سی بی کے بین الاقوامی سطح پر کمزور کردار کی وجہ سے بہتری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی , خالد محمود.
امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ دیے بغیر غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا (عبدالرزاق) بھارتی لابی کے اثرات سے نکلیں، امجد علی نون فوٹو : فائل
پاکستان میں انٹرنیشنل کھیلوں کی بحالی حکومتی تعاون اور مخلصانہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں،اس کیلیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
سابق چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ پی سی بی کے انٹرنیشنل سطح پر کمزور کردار کی وجہ سے بھی بہتری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی،ڈی جی اسپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور کے مطابق مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو سفر آسان بن سکتا ہے، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے کوارڈینیٹر خالد محمود نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات دور کرنے کیلیے وزارت خارجہ، داخلہ اور اسپورٹس تنظیموں میں بہترین روابط ہونا چاہیں۔
پاکستان سپر لیگ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سلمان بٹ نے کہا کہ غیر ملکی کلبز یا کھلاڑیوں کی شمولیت ممکن بناکر راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے، آل راؤنڈر عبد الرزاق نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ دیے بغیر غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ڈاکٹر اسد عباس نے کہا کہ انڈور اسپورٹس اور ایک ایک ملک کے ساتھ سیریز کھیلنے کو ترجیح دی جائے۔ پنجاب اسکواش ایسوسی ایشن کے صدر امجد علی نون نے کہا کہ آرگنائزرز کو انٹرنیشنل سطح پر اپنی نمائندگی یقینی بنانا ہوگی۔
سیکریٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ادریس حیدر خواجہ نے کہا کہ بھارتی ٹیموں کو بلانے کے بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے رابطے اور اعتماد بڑھایا جائے۔ بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری خاور شاہ نے کہا کہ کرکٹ ٹیموں کے انکار کو مثال بناکر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسپورٹس سے وابستہ اہم شخصیات نے ''ایکسپریس فورم'' میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال میں کھیلوں کی بحالی کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، حکومتی سرپرستی ہو تو فیڈریشز مخلصانہ کوششوں سے میدانوں کی ویرانی دور کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ خالد محمود نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پر حملے نے ملکی کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،بعد ازاں پی سی بی کے انٹرنیشنل سطح پر کمزور کردار کی وجہ سے بھی بہتری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی،ڈی جی اسپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور نے کہا کہ سارا ملبہ حالات پر ڈال دینا درست نہیں، مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو مشکل سفر آسان کیا جاسکتا ہے، انھوں نے کہا کہ حکومت اور کھیلوں کی تنظیموں کا باہمی تعاون ملک بھر میں ہو تو انٹرنیشنل مقابلوں کی بحالی ناممکن نہیں رہے گی۔
پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے کوارڈینیٹر خالد محمود نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات تو ہر فیڈریشن کو ہوتے ہیں جنھیں دور کرنے کیلیے وزارت خارجہ، داخلہ اور اسپورٹس تنظیموں میں بہترین روابط ہونے چاہیئں، بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال برعکس نظر آتی ہے، کرکٹ اور ہاکی کے سوا دیگر کھیلوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، ہم پہلے مرحلے میں انفرادی کھیلوں کے چھوٹے ایونٹس کراکے اعتماد کی بحالی کا سفر شروع کرسکتے ہیں، مگر اس کیلیے حکومتی سرپرستی اور مختلف اداروں میں تعاون کی فضا بہترین ہونی چاہیے۔
پاکستان سپر لیگ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سلمان بٹ نے کہا کہ کسی بھی اسپورٹس ایونٹ میں عوام تفریح ،اسپانسرز اپنی مصنوعات کیلیے پلیٹ فارم اور میڈیا کے افراد کوریج میٹیریل کے متلاشی ہوتے ہیں، تینوں چیزوں پر مشتمل ایک پیکیج بناکر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، کھیلوں کے مقابلے ملکی سطح پر بھی ہوں تو چند غیر ملکی کلبز یا کھلاڑیوں کی شمولیت ممکن بناکر حالات میں بہتری کے سفر کا آغاز ممکن ہے، ایک بار سلسلہ شروع ہوگیا تو بتدریج انٹرنیشنل مقابلوں کی واپسی کے راستے بھی نکل آئیں گے۔
آل راؤنڈر عبد الرزاق نے کہا کہ سیکیورٹی ہمارا قومی مسئلہ ہے، ہر سطح پر اجتماعی کوشش سے ہم حالات پر کنٹرول کرسکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ دیے بغیر غیر ملکی ٹیموں اور کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا، تحفظات دور کرنے کیلیے پوری قوم کو یکجا ہو کر منفی عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ قومی ہاکی ٹیم کے فزیو ڈاکٹر اسد عباس نے کہا کہ جب تک حکومت خود آگے نہیں آتی ملکی میدانوں کی ویرانی دور کرنا مشکل ہوگا، عوام کھیلوں کے شیدائی ہیں، شائقین نے ایشیا کبڈی کپ میں بھرپور دلچسپی دکھائی، اسی طرح کے متعدد مقابلوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد ہونا چاہیے، انڈور اسپورٹس میں سیکیورٹی خدشات کم ہوتے ہیں۔
انٹرنیشنل سطح کے چند ایونٹس اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بعد ازاں دیگر کھیلوں میں بھی زیادہ ٹیموں کو بلانے کے بجائے ایک ملک سے سیریزکو ترجیح دی جائے، کامیاب تجربات سے مزید مثبت پیش رفت کا موقع بھی ملے گا۔ پنجاب اسکواش ایسوسی ایشن کے صدر امجد علی نون نے کہا کہ ملکی میدانوں کی رونقیں بڑھانے کیلیے ہمارے آرگنائزرز کو انٹرنیشنل سطح پر اپنی نمائندگی یقینی بنانا ہوگی، بھارتی لابی کے اثرات سے نکلنے کیلیے عالمی تنظیموں میں اپنے تعلقات بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
ایشین اسکواش میں نائب صدارت ملنے کے بعد ہم اپنی متعدد کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سیکریٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ادریس حیدر خواجہ نے کہا کہ بھارتی ٹیموں کو بلانے کی کوشش اور بار بار دھوکا کھانے کے بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے رابطے اور اعتماد بڑھا کر مقابلوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کرنا بہتر ہوگا، یوتھ فیسٹیول سے ثابت ہوگیا کہ ملکی انفرا اسٹرکچر بہتر بناکر اچھا ماحول تشکیل دیا جائے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کو لانے میں کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری خاور شاہ نے کہا کہ ہمیں کرکٹ ٹیموں کے انکار کو ہی مثال بناکر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بیس بال ایشیا کپ سے قبل بھی ٹیموں کو خدشات تھے جو دور کرکے مقابلوں کا انعقاد کیا، وسائل کی کمی اور حکومتی عدم تعاون جیسے مسائل نہ ہوں تو ہمیں کامن ویلتھ گیمز گیمز کرانے کی بھی پیشکش ہے، کم ازکم 50 فیصد اخراجات برداشت کرنے کی حامی بھر لی جائے تو ایونٹ کرا دیں گے۔ سابق ہاکی کوچ خواجہ جنید نے کہا کہ کھیلوں کی بحالی ہر پاکستانی کا خواب ہے ۔
مگر ہمیں سب سے پہلے حالات ٹھیک کرنے پر توجہ دینا ہوگی، اس دوران نیوٹرل وینیوز پر کھیل کر اپنی پرفارمنس کی دھاک بٹھانا ہی ملکی کھیلوں کے مفاد میں ہوگا۔ سابق انٹرنیشنل امپائر میاں اسلم نے کہا کہ کرکٹ کی بڑی ٹیمیں نہیں آتیں تو جونیئر اور اے سائیڈز کے ساتھ مقابلوں سے بہتر مستقبل کیلیے راستہ کھولا جائے۔ پاکستان جوجسٹو فیڈریشن کے صدر خلیل احمد نے کہا کہ انفرادی کھیلوں کے انٹرنیشنل مقابلے ناممکن نہیں مگر ارباب اختیار کوئی دلچسپی نہیں لیتے، مہمان کھلاڑیوں کے ویزوں سمیت متعلقہ وزارتیں کئی معاملات میں روڑے اٹکاتی ہیں، حکومت سپورٹ کرے تو 40 ممالک کا ایونٹ کرا سکتے ہیں۔
بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ نفیس احمد نے کہا کہ ملکی میدان آباد کرنے کیلیے سیاسی اور سفارتی سطح پر کوششیں کرنا ہوں گی، ہم بھارت، نیپال اور سری لنکا کی میزبانی کرچکے، اسپورٹس فیڈریشنز اپنے تعلقات بہتر بناکر غیر ملکی ٹیموں کو قائل کرسکتی ہیں۔ ٹگ آف وار ایسوسی ایشن کے صدر رانا جمیل نے کہا کہ نیک نیتی ہو تو کوئی کام مشکل نہیں، انڈور مقابلوں کی حوصلہ افزائی بہترین حل ہے۔
سابق چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ پی سی بی کے انٹرنیشنل سطح پر کمزور کردار کی وجہ سے بھی بہتری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی،ڈی جی اسپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور کے مطابق مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو سفر آسان بن سکتا ہے، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے کوارڈینیٹر خالد محمود نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات دور کرنے کیلیے وزارت خارجہ، داخلہ اور اسپورٹس تنظیموں میں بہترین روابط ہونا چاہیں۔
پاکستان سپر لیگ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سلمان بٹ نے کہا کہ غیر ملکی کلبز یا کھلاڑیوں کی شمولیت ممکن بناکر راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے، آل راؤنڈر عبد الرزاق نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ دیے بغیر غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ڈاکٹر اسد عباس نے کہا کہ انڈور اسپورٹس اور ایک ایک ملک کے ساتھ سیریز کھیلنے کو ترجیح دی جائے۔ پنجاب اسکواش ایسوسی ایشن کے صدر امجد علی نون نے کہا کہ آرگنائزرز کو انٹرنیشنل سطح پر اپنی نمائندگی یقینی بنانا ہوگی۔
سیکریٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ادریس حیدر خواجہ نے کہا کہ بھارتی ٹیموں کو بلانے کے بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے رابطے اور اعتماد بڑھایا جائے۔ بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری خاور شاہ نے کہا کہ کرکٹ ٹیموں کے انکار کو مثال بناکر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسپورٹس سے وابستہ اہم شخصیات نے ''ایکسپریس فورم'' میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال میں کھیلوں کی بحالی کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، حکومتی سرپرستی ہو تو فیڈریشز مخلصانہ کوششوں سے میدانوں کی ویرانی دور کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ خالد محمود نے کہا کہ سری لنکن ٹیم پر حملے نے ملکی کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،بعد ازاں پی سی بی کے انٹرنیشنل سطح پر کمزور کردار کی وجہ سے بھی بہتری کی صورتحال پیدا نہ ہوسکی،ڈی جی اسپورٹس بورڈ پنجاب عثمان انور نے کہا کہ سارا ملبہ حالات پر ڈال دینا درست نہیں، مثبت سوچ کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تو مشکل سفر آسان کیا جاسکتا ہے، انھوں نے کہا کہ حکومت اور کھیلوں کی تنظیموں کا باہمی تعاون ملک بھر میں ہو تو انٹرنیشنل مقابلوں کی بحالی ناممکن نہیں رہے گی۔
پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے کوارڈینیٹر خالد محمود نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات تو ہر فیڈریشن کو ہوتے ہیں جنھیں دور کرنے کیلیے وزارت خارجہ، داخلہ اور اسپورٹس تنظیموں میں بہترین روابط ہونے چاہیئں، بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال برعکس نظر آتی ہے، کرکٹ اور ہاکی کے سوا دیگر کھیلوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، ہم پہلے مرحلے میں انفرادی کھیلوں کے چھوٹے ایونٹس کراکے اعتماد کی بحالی کا سفر شروع کرسکتے ہیں، مگر اس کیلیے حکومتی سرپرستی اور مختلف اداروں میں تعاون کی فضا بہترین ہونی چاہیے۔
پاکستان سپر لیگ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سلمان بٹ نے کہا کہ کسی بھی اسپورٹس ایونٹ میں عوام تفریح ،اسپانسرز اپنی مصنوعات کیلیے پلیٹ فارم اور میڈیا کے افراد کوریج میٹیریل کے متلاشی ہوتے ہیں، تینوں چیزوں پر مشتمل ایک پیکیج بناکر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، کھیلوں کے مقابلے ملکی سطح پر بھی ہوں تو چند غیر ملکی کلبز یا کھلاڑیوں کی شمولیت ممکن بناکر حالات میں بہتری کے سفر کا آغاز ممکن ہے، ایک بار سلسلہ شروع ہوگیا تو بتدریج انٹرنیشنل مقابلوں کی واپسی کے راستے بھی نکل آئیں گے۔
آل راؤنڈر عبد الرزاق نے کہا کہ سیکیورٹی ہمارا قومی مسئلہ ہے، ہر سطح پر اجتماعی کوشش سے ہم حالات پر کنٹرول کرسکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ دیے بغیر غیر ملکی ٹیموں اور کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا، تحفظات دور کرنے کیلیے پوری قوم کو یکجا ہو کر منفی عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ قومی ہاکی ٹیم کے فزیو ڈاکٹر اسد عباس نے کہا کہ جب تک حکومت خود آگے نہیں آتی ملکی میدانوں کی ویرانی دور کرنا مشکل ہوگا، عوام کھیلوں کے شیدائی ہیں، شائقین نے ایشیا کبڈی کپ میں بھرپور دلچسپی دکھائی، اسی طرح کے متعدد مقابلوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد ہونا چاہیے، انڈور اسپورٹس میں سیکیورٹی خدشات کم ہوتے ہیں۔
انٹرنیشنل سطح کے چند ایونٹس اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بعد ازاں دیگر کھیلوں میں بھی زیادہ ٹیموں کو بلانے کے بجائے ایک ملک سے سیریزکو ترجیح دی جائے، کامیاب تجربات سے مزید مثبت پیش رفت کا موقع بھی ملے گا۔ پنجاب اسکواش ایسوسی ایشن کے صدر امجد علی نون نے کہا کہ ملکی میدانوں کی رونقیں بڑھانے کیلیے ہمارے آرگنائزرز کو انٹرنیشنل سطح پر اپنی نمائندگی یقینی بنانا ہوگی، بھارتی لابی کے اثرات سے نکلنے کیلیے عالمی تنظیموں میں اپنے تعلقات بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
ایشین اسکواش میں نائب صدارت ملنے کے بعد ہم اپنی متعدد کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سیکریٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ادریس حیدر خواجہ نے کہا کہ بھارتی ٹیموں کو بلانے کی کوشش اور بار بار دھوکا کھانے کے بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے رابطے اور اعتماد بڑھا کر مقابلوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کرنا بہتر ہوگا، یوتھ فیسٹیول سے ثابت ہوگیا کہ ملکی انفرا اسٹرکچر بہتر بناکر اچھا ماحول تشکیل دیا جائے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کو لانے میں کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری خاور شاہ نے کہا کہ ہمیں کرکٹ ٹیموں کے انکار کو ہی مثال بناکر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بیس بال ایشیا کپ سے قبل بھی ٹیموں کو خدشات تھے جو دور کرکے مقابلوں کا انعقاد کیا، وسائل کی کمی اور حکومتی عدم تعاون جیسے مسائل نہ ہوں تو ہمیں کامن ویلتھ گیمز گیمز کرانے کی بھی پیشکش ہے، کم ازکم 50 فیصد اخراجات برداشت کرنے کی حامی بھر لی جائے تو ایونٹ کرا دیں گے۔ سابق ہاکی کوچ خواجہ جنید نے کہا کہ کھیلوں کی بحالی ہر پاکستانی کا خواب ہے ۔
مگر ہمیں سب سے پہلے حالات ٹھیک کرنے پر توجہ دینا ہوگی، اس دوران نیوٹرل وینیوز پر کھیل کر اپنی پرفارمنس کی دھاک بٹھانا ہی ملکی کھیلوں کے مفاد میں ہوگا۔ سابق انٹرنیشنل امپائر میاں اسلم نے کہا کہ کرکٹ کی بڑی ٹیمیں نہیں آتیں تو جونیئر اور اے سائیڈز کے ساتھ مقابلوں سے بہتر مستقبل کیلیے راستہ کھولا جائے۔ پاکستان جوجسٹو فیڈریشن کے صدر خلیل احمد نے کہا کہ انفرادی کھیلوں کے انٹرنیشنل مقابلے ناممکن نہیں مگر ارباب اختیار کوئی دلچسپی نہیں لیتے، مہمان کھلاڑیوں کے ویزوں سمیت متعلقہ وزارتیں کئی معاملات میں روڑے اٹکاتی ہیں، حکومت سپورٹ کرے تو 40 ممالک کا ایونٹ کرا سکتے ہیں۔
بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ نفیس احمد نے کہا کہ ملکی میدان آباد کرنے کیلیے سیاسی اور سفارتی سطح پر کوششیں کرنا ہوں گی، ہم بھارت، نیپال اور سری لنکا کی میزبانی کرچکے، اسپورٹس فیڈریشنز اپنے تعلقات بہتر بناکر غیر ملکی ٹیموں کو قائل کرسکتی ہیں۔ ٹگ آف وار ایسوسی ایشن کے صدر رانا جمیل نے کہا کہ نیک نیتی ہو تو کوئی کام مشکل نہیں، انڈور مقابلوں کی حوصلہ افزائی بہترین حل ہے۔