مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواستیں سپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی
چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بینچ قائم، سابق آمر نے2بار آئین پامال، ججز کو قید کیا، ایمرجنسی لگائی
آئین توڑنے والا الیکشن لڑ رہا ہے،وکیل مبشرحسن، مشرف کا فیصلہ اب الیکشن کمیشن کریگا، اس سے رجوع کریں، ڈگری کی شرط ختم ہوچکی،فضول نااہلیاں نہ کروائیں، چیف جسٹس فوٹو: فائل
سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دی گئیں۔
پہلی درخواست مولوی اقبال حیدر نے دائر کی جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ آج ابتدائی سماعت کرے گا، درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ پرویزمشرف نے2دفعہ آئین کو پامال کیا، اس لیے ان کیخلاف غداری کے الزام میں کارروائی ہونی چاہیے۔ سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ نے2010میں انھیں اس کیلیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا اور دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث درخواست خارج کردی تھی۔
اقبال حیدر نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے، دوسری درخواست ہائیکورٹ بار راولپنڈی کے صدر توفیق آصف نے دائر کی جس میں وفاق اور پرویزمشرف کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق صدر نے آئین توڑا، ججوں کو قید کیا، ایمرجنسی نافذ کی جبکہ آئین سے ماوراء کئی دیگر اقدامات بھی کیے،
سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ بار کیس کے فیصلے میں ان کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں اور نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیساتھ انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے الیکشن لڑنے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرکے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ اگر انھیں سابق صدر کے الیکشن پر اعتراض ہے تو مناسب فورم سے رجوع کریں۔ عام انتخابات میں آرٹیکل 62اور63کا اطلاق یقینی بنانے کیلیے دائر ڈاکٹر مبشر حسن کی درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل اے کے ڈوگر نے سابق صدر کے الیکشن لڑنے پر اعتراض اٹھایا اور کہا سندھ ہائیکورٹ بارکیس کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کو معطل کرنا غداری ہے اور غداری کے مرتکب شخص کے خلاف آرٹیکل6کا اطلاق ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلہ پرویز مشرف کیخلاف ڈیکلریشن ہے لیکن آئین معطل کرنے والا شخص الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ شخص اب کس پوزیشن میں ہے، نہ ہی ہمارے سامنے ان کا مقدمہ لگا ہوا ہے ، زیر سماعت کیس آرٹیکل 62اور63 کے اطلاق سے متعلق ہے اور اس کیلئے آئین نے فورم قائم کیا ہوا ہے۔ سابق صدر جہاں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں وہاں ان کے خلاف اعتراض جمع کرایا جائے۔
کسی خاص شخص کیخلاف ریلیف کیلیے مناسب فورم موجود ہے۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63کا اطلاق الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، پرویز مشرف جہاں کاغذات نامزدگی جمع کر ا رہے ہیں وہاں اعتراض اٹھایا جائے۔ درخواست کا بنیادی مقصد آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے ،عدالت ووٹر کو امیدوار کے کوائف تک رسائی کے احکام جاری کر چکی ہے، وہ بتائیں کہ مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن لڑنے کیلیے ڈگری کی عائد شرط ختم ہو چکی ہے' ایسے فضول میں امیدواروں کو نااہل نہ کرائیں، باہمی احترام کا رشتہ برقرار رکھنا ہے' عدالت قانون بنا سکتی ہے اور نہ ایس او پی جاری کر سکتی ہے۔
اسکروٹنی کرنے والے بہتر جانتے ہیں کہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق کیسے کرنا ہے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 اور63 کو الیکشن کمیشن نے نظرانداز کیا تو بلالیں گے ٗ قانون بنانا یا طریقہ کار کا تعین کرنا ہمارا کام نہیں۔ ثناء نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف عدالت فیصلہ دے چکی ہے، ان کے انتخاب لڑنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والوں کے خلاف غلط بیانی کررہاہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن پیشیاں بھگتے یا الیکشن کرائے، اگر درخواست گزار کو کوئی اعتراض ہے تو ان لوگوں کی نشاندہی کرے جن کے بارے میں غلط بیانی کی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست میں ترمیم کرکے دوبارہ دائرکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کردی۔
پہلی درخواست مولوی اقبال حیدر نے دائر کی جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ آج ابتدائی سماعت کرے گا، درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ پرویزمشرف نے2دفعہ آئین کو پامال کیا، اس لیے ان کیخلاف غداری کے الزام میں کارروائی ہونی چاہیے۔ سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ نے2010میں انھیں اس کیلیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا اور دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث درخواست خارج کردی تھی۔
اقبال حیدر نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے، دوسری درخواست ہائیکورٹ بار راولپنڈی کے صدر توفیق آصف نے دائر کی جس میں وفاق اور پرویزمشرف کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق صدر نے آئین توڑا، ججوں کو قید کیا، ایمرجنسی نافذ کی جبکہ آئین سے ماوراء کئی دیگر اقدامات بھی کیے،
سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ بار کیس کے فیصلے میں ان کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں اور نام ای سی ایل میں شامل کرنے کیساتھ انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے الیکشن لڑنے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرکے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ اگر انھیں سابق صدر کے الیکشن پر اعتراض ہے تو مناسب فورم سے رجوع کریں۔ عام انتخابات میں آرٹیکل 62اور63کا اطلاق یقینی بنانے کیلیے دائر ڈاکٹر مبشر حسن کی درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل اے کے ڈوگر نے سابق صدر کے الیکشن لڑنے پر اعتراض اٹھایا اور کہا سندھ ہائیکورٹ بارکیس کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کو معطل کرنا غداری ہے اور غداری کے مرتکب شخص کے خلاف آرٹیکل6کا اطلاق ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلہ پرویز مشرف کیخلاف ڈیکلریشن ہے لیکن آئین معطل کرنے والا شخص الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ شخص اب کس پوزیشن میں ہے، نہ ہی ہمارے سامنے ان کا مقدمہ لگا ہوا ہے ، زیر سماعت کیس آرٹیکل 62اور63 کے اطلاق سے متعلق ہے اور اس کیلئے آئین نے فورم قائم کیا ہوا ہے۔ سابق صدر جہاں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں وہاں ان کے خلاف اعتراض جمع کرایا جائے۔
کسی خاص شخص کیخلاف ریلیف کیلیے مناسب فورم موجود ہے۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63کا اطلاق الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، پرویز مشرف جہاں کاغذات نامزدگی جمع کر ا رہے ہیں وہاں اعتراض اٹھایا جائے۔ درخواست کا بنیادی مقصد آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے ،عدالت ووٹر کو امیدوار کے کوائف تک رسائی کے احکام جاری کر چکی ہے، وہ بتائیں کہ مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن لڑنے کیلیے ڈگری کی عائد شرط ختم ہو چکی ہے' ایسے فضول میں امیدواروں کو نااہل نہ کرائیں، باہمی احترام کا رشتہ برقرار رکھنا ہے' عدالت قانون بنا سکتی ہے اور نہ ایس او پی جاری کر سکتی ہے۔
اسکروٹنی کرنے والے بہتر جانتے ہیں کہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق کیسے کرنا ہے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 اور63 کو الیکشن کمیشن نے نظرانداز کیا تو بلالیں گے ٗ قانون بنانا یا طریقہ کار کا تعین کرنا ہمارا کام نہیں۔ ثناء نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف عدالت فیصلہ دے چکی ہے، ان کے انتخاب لڑنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والوں کے خلاف غلط بیانی کررہاہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن پیشیاں بھگتے یا الیکشن کرائے، اگر درخواست گزار کو کوئی اعتراض ہے تو ان لوگوں کی نشاندہی کرے جن کے بارے میں غلط بیانی کی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست میں ترمیم کرکے دوبارہ دائرکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کردی۔