میری قیمت ایک کروڑ لگانے والوں کے سر کی قیمت2کروڑ لگاتا ہوں پرویز مشرف
عافیہ کوامریکاکے حوالے کرنیوالاغدارہے،بینظیروبگٹی کے قتل کاالزام بے بنیادہے،
کراچی :اے پی ایم ایل کے سربراہ پرویز مشرف پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں فوٹو : اے ایف پی
آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اورسابق صدرپرویزمشرف نے کہاہے کہ میرے سر کی ایک کروڑروپے قیمت لگانے والوں کے سرکی قیمت میں2 کروڑروپے لگاتاہوں۔
وہ پہاڑوں میں چھپ کرنہ بیٹھیں، سامنے آکرمقابلہ کریں،ڈاکٹرعافیہ کوامریکاکے حوالے کرنے والے غدارہیں، ڈاکٹرعبدالقدیراوردیگر فوج کے ریٹائرہونے والے جوکتابیں لکھ رہے ہیں انہیں میرااحسان مند ہونا چاہیے کہ میں نے انہیں بچایا،عام انتخابات کے بعدملک میں رہنے کافیصلہ کروں گا،اکبربگٹی کے قتل ہونے کے بعدمجھے اس بارے میں اطلاع ملی،ممکن ہے اکبربگٹی نے خودکشی کی ہو،کارگل میں بھارت کوگردن سے پکڑ لیاتھا۔
اس پرفخرہے،لال مسجد کے واقعے میں کوئی عورت اوربچہ نہیں مرا،اگرکوئی دعویٰ کرتاہے تووہ میرے سامنے آئے،پاکستان واپسی کیلیے کسی سے کوئی ڈیل نہیں کی،قوم اورملک کیلیے پاکستان واپس آیاہوں،سونامی لانے کادعویٰ نہیںکرسکتا،چاروں صوبوں میں امیدوارکھڑے کریںگے،امیدہے کہ مجھے کافی نشستیں مل جائیںگی،میں نے کسی جج کونظربندنہیں کیااورمجھے12مئی کے واقعات میں ملوث کرناسراسر غلط ہے۔بدھ کوکراچی کے مقامی ہوٹل میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویزمشرف نے کہاکہ انتخابات قریب آرہے ہیں اور29مارچ کومجھے عدالت میں بھی پیش ہوناہے،میں جماعت بنانے کے بعدسے اسے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے چلارہا تھا۔
عام انتخابات میں حصہ لینے کیلیے بہت سے امیدوارموجود ہیں اکثرامیدواروں کومیں جانتا نہیں ہوں لیکن ہر صوبے میں جاکرعوام سے رابطہ کریں گے اوراپنے امیدواروںکیلیے ووٹ مانگوں گا،سپریم کورٹ کے ججز کو نظر بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ، ان کے گھرکی طرف لوگوں کے رش کی وجہ سے رکاوٹیں کھڑی کرنی پڑیں،ہمیں اپنے ذہن کو تبدیل کرناہے ملک اور قوم کے لیے سوچنا ہے میں ملک اور قوم کی سوچتا ہوں اورملک میں واپسی عوام کیلیے آیا ہوں،8سالہ دورحکومت میں قوم کوخوشحالی دی اورملک کو بلندیوں پر لے گیالیکن وہ پاکستان اب کہاں گیا؟۔
انھوں نے کہاکہ میری کسی بھی ملک سے ڈیل نہیں ہوئی،میری تمام لیڈروں سے دوستی ہے اگرخود کچھ کیاہوگاتومیں کچھ نہیں کہہ سکتا،ہمیں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی،جلسہ منسوخ ہونے کی بناپرمیرا ملک میں آنے کااستقبالیہ متاثر ہوا۔ پرویزمشرف نے کہاکہ12مئی میں نے نہیں کروایاتھامجھے نہیں معلوم آج تک کس نے گولیاں چلائیں، حکومت صدرنہیں چلاتا،وزیر اعظم چلاتا ہے،بینظیربھٹوکامجھ پرمقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی،چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس وزیراعظم نے بھیجاتھا،آئین میں طریقہ کاردرج ہے،اورمیں نے یہ آئین کے مطابق فیصلہ کیا،مجھے امیدہے کہ عوام5سال میں جاگ گئے ہوںگے،کراچی میں ایک نشست سے انتخاب لڑوں گا۔
متحدہ قومی موومنٹ سے99ء سے تعلقات اچھے ہیں،کراچی کے حلقہNA250سے انتخاب لڑنے کافیصلہ کیاہے لیکن اس کیلیے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے،ملک میں جتنے بھی بڑے سیاست دان ہیں وہ سب فوجی رہے ہیں،ہر جماعت میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ، 9/11کے بعدملک کی صورتحال تبدیل ہوئی ہم اگر بروقت فیصلہ نہ کرتے ت تنہا رہ جاتے، چین اورمسلم ممالک اگر فیصلہ نہیں کرتے تو پاکستان کی صورتحال اس سے خراب ترہوجاتی توکشمیر بھی ہمارے ہاتھ سے جاتا،ایٹمی اثاثے فوج کی حفاظت میں ہیں اوراگر 18 کروڑعوام یکجارہی توکوئی اس کی طرف نظراٹھاکر نہیں دیکھ سکتا۔
ہرملک ہمارے ایٹمی اثاثوںکے خلاف آواز اٹھا رہاہے،آج جو بڑی بڑی کتابیں لکھ رہے ہیں انہیں یہ سوچ لیناچاہیے کہ ملک میں نے ہی بچایاتھا۔پرویز مشرف نے کہاکہ میں نے 65,71اورسیاچن میں لڑائی لڑی ہے،کارگل میں ہم5جگہ سے داخل ہوچکے تھے،ہندوستان کو معلوم نہیں تھا ہم نے اپنی فوج کوفخر دلایا تھا لیکن ہمیں سیاسی طورپرشکست ہوئی، جس کی وجہ سے ہم کارکل جنگ ہارے،لال مسجد میں125لوگوں میں سے 94لوگ مارے گئے بچوں اور عورتوں کوبچانے کیلیے ہمارا ایک کرنل شہیدہوا،چوہدری شجاعت اور امام کعبہ سمیت دیگرلوگوں کوبھیجا،چوہدری شجاعت اگر یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ساری باتیں منوالی تھیں تو یہ ان کا کہنا جھوٹ ہے۔
لال مسجد میں کارروائی وزیراعظم کی ایڈوائزپرہوئی،لال مسجدکے آپریشن کی مخالفت کرنے والے اس وقت آپریشن کی حمایت کررہے تھے۔اکبربگٹی کیخلاف کارروائی میں ایک کرنل،میجراورکیپٹن بھی شہید ہوئے ،میراذاتی خیال ہے کہ اکبربگٹی نے دھماکاخیزموادکے ذریعے خودکشی کی جس کی زدمیں فوجی اہلکاربھی آئے،بلوچستان کی صورتحال سے واقف ہوں،نواب اکبربگٹی نے اپنے مخالفین کوعلاقہ بدرکیاتھامیں ان کوواپس لے کرآیا۔
وہ پہاڑوں میں چھپ کرنہ بیٹھیں، سامنے آکرمقابلہ کریں،ڈاکٹرعافیہ کوامریکاکے حوالے کرنے والے غدارہیں، ڈاکٹرعبدالقدیراوردیگر فوج کے ریٹائرہونے والے جوکتابیں لکھ رہے ہیں انہیں میرااحسان مند ہونا چاہیے کہ میں نے انہیں بچایا،عام انتخابات کے بعدملک میں رہنے کافیصلہ کروں گا،اکبربگٹی کے قتل ہونے کے بعدمجھے اس بارے میں اطلاع ملی،ممکن ہے اکبربگٹی نے خودکشی کی ہو،کارگل میں بھارت کوگردن سے پکڑ لیاتھا۔
اس پرفخرہے،لال مسجد کے واقعے میں کوئی عورت اوربچہ نہیں مرا،اگرکوئی دعویٰ کرتاہے تووہ میرے سامنے آئے،پاکستان واپسی کیلیے کسی سے کوئی ڈیل نہیں کی،قوم اورملک کیلیے پاکستان واپس آیاہوں،سونامی لانے کادعویٰ نہیںکرسکتا،چاروں صوبوں میں امیدوارکھڑے کریںگے،امیدہے کہ مجھے کافی نشستیں مل جائیںگی،میں نے کسی جج کونظربندنہیں کیااورمجھے12مئی کے واقعات میں ملوث کرناسراسر غلط ہے۔بدھ کوکراچی کے مقامی ہوٹل میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویزمشرف نے کہاکہ انتخابات قریب آرہے ہیں اور29مارچ کومجھے عدالت میں بھی پیش ہوناہے،میں جماعت بنانے کے بعدسے اسے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے چلارہا تھا۔
عام انتخابات میں حصہ لینے کیلیے بہت سے امیدوارموجود ہیں اکثرامیدواروں کومیں جانتا نہیں ہوں لیکن ہر صوبے میں جاکرعوام سے رابطہ کریں گے اوراپنے امیدواروںکیلیے ووٹ مانگوں گا،سپریم کورٹ کے ججز کو نظر بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ، ان کے گھرکی طرف لوگوں کے رش کی وجہ سے رکاوٹیں کھڑی کرنی پڑیں،ہمیں اپنے ذہن کو تبدیل کرناہے ملک اور قوم کے لیے سوچنا ہے میں ملک اور قوم کی سوچتا ہوں اورملک میں واپسی عوام کیلیے آیا ہوں،8سالہ دورحکومت میں قوم کوخوشحالی دی اورملک کو بلندیوں پر لے گیالیکن وہ پاکستان اب کہاں گیا؟۔
انھوں نے کہاکہ میری کسی بھی ملک سے ڈیل نہیں ہوئی،میری تمام لیڈروں سے دوستی ہے اگرخود کچھ کیاہوگاتومیں کچھ نہیں کہہ سکتا،ہمیں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی،جلسہ منسوخ ہونے کی بناپرمیرا ملک میں آنے کااستقبالیہ متاثر ہوا۔ پرویزمشرف نے کہاکہ12مئی میں نے نہیں کروایاتھامجھے نہیں معلوم آج تک کس نے گولیاں چلائیں، حکومت صدرنہیں چلاتا،وزیر اعظم چلاتا ہے،بینظیربھٹوکامجھ پرمقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی،چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس وزیراعظم نے بھیجاتھا،آئین میں طریقہ کاردرج ہے،اورمیں نے یہ آئین کے مطابق فیصلہ کیا،مجھے امیدہے کہ عوام5سال میں جاگ گئے ہوںگے،کراچی میں ایک نشست سے انتخاب لڑوں گا۔
متحدہ قومی موومنٹ سے99ء سے تعلقات اچھے ہیں،کراچی کے حلقہNA250سے انتخاب لڑنے کافیصلہ کیاہے لیکن اس کیلیے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے،ملک میں جتنے بھی بڑے سیاست دان ہیں وہ سب فوجی رہے ہیں،ہر جماعت میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ، 9/11کے بعدملک کی صورتحال تبدیل ہوئی ہم اگر بروقت فیصلہ نہ کرتے ت تنہا رہ جاتے، چین اورمسلم ممالک اگر فیصلہ نہیں کرتے تو پاکستان کی صورتحال اس سے خراب ترہوجاتی توکشمیر بھی ہمارے ہاتھ سے جاتا،ایٹمی اثاثے فوج کی حفاظت میں ہیں اوراگر 18 کروڑعوام یکجارہی توکوئی اس کی طرف نظراٹھاکر نہیں دیکھ سکتا۔
ہرملک ہمارے ایٹمی اثاثوںکے خلاف آواز اٹھا رہاہے،آج جو بڑی بڑی کتابیں لکھ رہے ہیں انہیں یہ سوچ لیناچاہیے کہ ملک میں نے ہی بچایاتھا۔پرویز مشرف نے کہاکہ میں نے 65,71اورسیاچن میں لڑائی لڑی ہے،کارگل میں ہم5جگہ سے داخل ہوچکے تھے،ہندوستان کو معلوم نہیں تھا ہم نے اپنی فوج کوفخر دلایا تھا لیکن ہمیں سیاسی طورپرشکست ہوئی، جس کی وجہ سے ہم کارکل جنگ ہارے،لال مسجد میں125لوگوں میں سے 94لوگ مارے گئے بچوں اور عورتوں کوبچانے کیلیے ہمارا ایک کرنل شہیدہوا،چوہدری شجاعت اور امام کعبہ سمیت دیگرلوگوں کوبھیجا،چوہدری شجاعت اگر یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ساری باتیں منوالی تھیں تو یہ ان کا کہنا جھوٹ ہے۔
لال مسجد میں کارروائی وزیراعظم کی ایڈوائزپرہوئی،لال مسجدکے آپریشن کی مخالفت کرنے والے اس وقت آپریشن کی حمایت کررہے تھے۔اکبربگٹی کیخلاف کارروائی میں ایک کرنل،میجراورکیپٹن بھی شہید ہوئے ،میراذاتی خیال ہے کہ اکبربگٹی نے دھماکاخیزموادکے ذریعے خودکشی کی جس کی زدمیں فوجی اہلکاربھی آئے،بلوچستان کی صورتحال سے واقف ہوں،نواب اکبربگٹی نے اپنے مخالفین کوعلاقہ بدرکیاتھامیں ان کوواپس لے کرآیا۔