مہنگا دودھ بیچنے والوں کی گرفتاری و رہائی مقدمات درج
ڈیری فارمرز کے خلاف شہری انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے شہر میں دودھ کی خوردہ قیمت میں اضافہ نہیں ہوا۔
گرفتار اور ایف آئی آر میں نامزد ڈیری فارمرز نے ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کرالی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
دودھ کی قیمت میں غیر قانونی اضافہ کرنے والے ڈیری فارمرز کے خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں شہر میں دودھ کی خوردہ قیمت میں اضافہ نہیں ہوا اور بدھ کو شہر بھر میں تازہ دودھ 85روپے لیٹر کی سرکاری قیمت پر فروخت ہوتا رہا۔
ڈیری فارمرز کے ایک گروپ نے گذشتہ شب پیداواری قیمت 90روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا جس پر شہری انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے قیمتوں میں غیرقانونی اضافہ کرنے والے ڈیری فارمرز کو حراست میں لے لیا اور ان کے خلاف قیمتوں میں اضافہ، سرکاری کام میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی کی ایف آئی آر درج کرلی،گرفتار ہونے والے ڈیری فارمرز کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
بعد ازاں گرفتار ہونے والے اور ایف آئی آر میں نامزد ڈیری فارمرز نے بعد ازاں اپنی ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کرلی، انتظامیہ کی فوری کارروائی کے نتیجے میں ڈیری فارمرز وقتی طور پر پسپا ہوگئے۔
دوسری جانب ڈیری فارمرز کے اعلان کردہ نرخوں پر عمل درآمد نہ ہوسکا، ڈیری فارمرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ پرائس کنٹرول ایکٹ کے ساتھ عدالتی احکام کی بھی خلاف ورزی ہے، دودھ کی قیمتوںمیں اضافے کے خلاف کنزیومر کمیٹی ایمنیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست 5943/2015 زیر سماعت ہے۔
درخواست گزار عمران شہزادکے مطابق اس درخواست کی اگلی سماعت 19فروری کو ہوگی،اسی درخواست کے سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے کمشنر کراچی نے 2فروری کو ہونے والے اجلاس میں ڈیری فارمرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا تاہم ڈیری فارمرز نے از خود قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا جو توہین عدالت کے مترادف ہے اور اگلی سماعت پرقیمتیں بڑھانے والے ڈیری فارمرز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی اپیل کی جائے گی۔
ادھر ڈیری فارمرزہول سیلرز اور ریٹیلرز کے ایک گروپ نے کمشنر ہائوس میں تحریری حلف نامہ داخل کرایا جس میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ شہر بھر میں دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد جاری ہے حلف نامہ ڈیری فارمر سکندر ناگوری ،ہول سیلر جنید اور ریٹیلرز خلیل کی جانب سے جمع کرائے گئے، دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنے والے ڈیری فارمرز حاجی اختر اور شاکر عمر کی جانب سے دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد کا کوئی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا۔
صارفین کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ نے شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں غیرقانونی اضافہ کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے،دودھ جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاکی قیمتوں کا اختیار کنٹرولرجنرل آف پرائسز کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں دودھ کی یومیہ گھریلو کھپت 50لاکھ لیٹر ہے جس میں ایک روپیہ اضافے سے صارفین پر یومیہ 50لاکھ روپے جبکہ ڈیری فارمرز کی جانب سے بدھ کی شب کیے گئے20روپے اضافے سے 10کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔
خیال رہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دودھ سے تیار ہونے والی دیگر تمام اشیاکی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جن میں مکھن، دہی،لسی،آئس کریم، مٹھائیاں اور دودھ سے تیار ہونے والی دیگر اشیا شامل ہیں۔
دودھ کی قیمت میں غیر قانونی اضافہ کرنے والے ڈیری فارمرز کے خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں شہر میں دودھ کی خوردہ قیمت میں اضافہ نہیں ہوا اور بدھ کو شہر بھر میں تازہ دودھ 85روپے لیٹر کی سرکاری قیمت پر فروخت ہوتا رہا۔
ڈیری فارمرز کے ایک گروپ نے گذشتہ شب پیداواری قیمت 90روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا جس پر شہری انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے قیمتوں میں غیرقانونی اضافہ کرنے والے ڈیری فارمرز کو حراست میں لے لیا اور ان کے خلاف قیمتوں میں اضافہ، سرکاری کام میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی کی ایف آئی آر درج کرلی،گرفتار ہونے والے ڈیری فارمرز کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
بعد ازاں گرفتار ہونے والے اور ایف آئی آر میں نامزد ڈیری فارمرز نے بعد ازاں اپنی ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کرلی، انتظامیہ کی فوری کارروائی کے نتیجے میں ڈیری فارمرز وقتی طور پر پسپا ہوگئے۔
دوسری جانب ڈیری فارمرز کے اعلان کردہ نرخوں پر عمل درآمد نہ ہوسکا، ڈیری فارمرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ پرائس کنٹرول ایکٹ کے ساتھ عدالتی احکام کی بھی خلاف ورزی ہے، دودھ کی قیمتوںمیں اضافے کے خلاف کنزیومر کمیٹی ایمنیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست 5943/2015 زیر سماعت ہے۔
درخواست گزار عمران شہزادکے مطابق اس درخواست کی اگلی سماعت 19فروری کو ہوگی،اسی درخواست کے سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے کمشنر کراچی نے 2فروری کو ہونے والے اجلاس میں ڈیری فارمرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا تاہم ڈیری فارمرز نے از خود قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا جو توہین عدالت کے مترادف ہے اور اگلی سماعت پرقیمتیں بڑھانے والے ڈیری فارمرز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی اپیل کی جائے گی۔
ادھر ڈیری فارمرزہول سیلرز اور ریٹیلرز کے ایک گروپ نے کمشنر ہائوس میں تحریری حلف نامہ داخل کرایا جس میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ شہر بھر میں دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد جاری ہے حلف نامہ ڈیری فارمر سکندر ناگوری ،ہول سیلر جنید اور ریٹیلرز خلیل کی جانب سے جمع کرائے گئے، دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنے والے ڈیری فارمرز حاجی اختر اور شاکر عمر کی جانب سے دودھ کی سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد کا کوئی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا۔
صارفین کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ نے شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں غیرقانونی اضافہ کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے،دودھ جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاکی قیمتوں کا اختیار کنٹرولرجنرل آف پرائسز کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں دودھ کی یومیہ گھریلو کھپت 50لاکھ لیٹر ہے جس میں ایک روپیہ اضافے سے صارفین پر یومیہ 50لاکھ روپے جبکہ ڈیری فارمرز کی جانب سے بدھ کی شب کیے گئے20روپے اضافے سے 10کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔
خیال رہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دودھ سے تیار ہونے والی دیگر تمام اشیاکی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جن میں مکھن، دہی،لسی،آئس کریم، مٹھائیاں اور دودھ سے تیار ہونے والی دیگر اشیا شامل ہیں۔