تارکین وطن کے ووٹ کیلیے نگراں حکومت آرڈیننس لائے سپریم کورٹ
الیکشن کمیشن، نادرا، متعلقہ سیکریٹریز مل کر2روز میں طریق کاروضع کریں، عدالت.
الیکشن کمیشن، نادرا، متعلقہ سیکریٹریز مل کر2روز میں طریق کاروضع کریں، عدالت . فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کیلیے الیکشن کمیشن کو دو دن کی مہلت دی ہے اوراپنے حکم میںکہا ہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق آرڈیننس کے تحت قانون سازی کرے۔
عدالت نے انچارج سیکرٹری قانون، سیکرٹری خارجہ،سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، چیئرمین نادرا اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو مل کرطریقہ کاروضع کرکے اس مسئلے کا حل نکالنے کاکہاہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا کہ اگر تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کیلیے قانون میں ترمیم کی ضرورت پڑے تو الیکشن کمیشن حکومت سے رابطہ کرے ۔سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل منیرپراچہ نے آئندہ عام انتخابات میں تارکین وطن کیلیے ووٹ کی سہولت دینے سے معذوری ظاہرکی۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں بہت سے ممالک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ضروری ہے لیکن فی الوقت ایسا ممکن نہیں۔درخواست گزارکے وکیل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کہتے ہیںکہ ایک ماہ میں بندوبست ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل یہ بات لکھ کر دے دیں۔ منیرپراچہ نے بتایا کہ حکومت بندوبست کرے تو الیکشن کمیشن کو اعتراض نہیں۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہا الیکشن کمیشن نے رپورٹ میں اس عمل کو طویل بتایا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے گلی کوچوں نہیں، سفارتخانوں میں پولنگ کیلیے تجویز دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کیلیے وزارت خارجہ کی رائے لی جائے اور ووٹرکی شناخت کیلیے نادرا حکام کی مشاورت سے طریقہ کار وضع کیا جائے۔
عدالت نے انچارج سیکرٹری قانون، سیکرٹری خارجہ،سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، چیئرمین نادرا اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو مل کرطریقہ کاروضع کرکے اس مسئلے کا حل نکالنے کاکہاہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا کہ اگر تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کیلیے قانون میں ترمیم کی ضرورت پڑے تو الیکشن کمیشن حکومت سے رابطہ کرے ۔سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل منیرپراچہ نے آئندہ عام انتخابات میں تارکین وطن کیلیے ووٹ کی سہولت دینے سے معذوری ظاہرکی۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں بہت سے ممالک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ضروری ہے لیکن فی الوقت ایسا ممکن نہیں۔درخواست گزارکے وکیل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کہتے ہیںکہ ایک ماہ میں بندوبست ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل یہ بات لکھ کر دے دیں۔ منیرپراچہ نے بتایا کہ حکومت بندوبست کرے تو الیکشن کمیشن کو اعتراض نہیں۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہا الیکشن کمیشن نے رپورٹ میں اس عمل کو طویل بتایا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے گلی کوچوں نہیں، سفارتخانوں میں پولنگ کیلیے تجویز دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کیلیے وزارت خارجہ کی رائے لی جائے اور ووٹرکی شناخت کیلیے نادرا حکام کی مشاورت سے طریقہ کار وضع کیا جائے۔