کور کمانڈرز کانفرنس قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

کور کمانڈرز کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت اولین ترجیح رہے گا

کور کمانڈرز کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت اولین ترجیح رہے گا۔فوٹو: فائل

پاکستان کو خارجی اور داخلی ہر دو سطح پر امن و سلامتی کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک جانب امریکی حکام کی جانب سے حملے کی دھمکیاں اور پھر دوستی کی باتیں جہاں پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں وہیں دوسری جانب بھارتی فوجی حکام کی جانب سے بھی دھمکیاں' سرجیکل اسٹرائیکس کے شوشے اور سرحدوں پر آئے دن ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری سے فہمیدہ حلقوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک عرصے سے مسلسل جاری ان سب اشتعال انگیزیوں کے مفہوم و معنی کیا ہیں اور ان سب کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں۔ اس قسم کے ماحول سے تشویش کی لہر کا ابھرنا قدرتی امر ہے۔

ان تشویشناک حالات کے تناظر میں قوم کا حوصلہ بلند کرنے اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بری فوج کی اعلیٰ قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا موثر جواب دیا جائے گا اور خطے کے امن و استحکام کے لیے فریقین کے ساتھ تعاون کے دوران قومی مفادات کو ہر صورت میں مقدم رکھا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت 208 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں خطے سے متعلق امریکی پالیسیوں کے تناظر میں سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور سرحدوں کی حفاظت' داخلی و بیرونی سلامتی کے امور' آپریشن رد الفساد میں پیشرفت' ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بڑھتی ہوئی بھارتی اشتعال انگیزیوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کانفرنس نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کے ثمرات کو مستحکم کرنے کا عزم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور خطے میں امن واستحکام یقینی بنایا جائے گا، بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔


کور کمانڈرز کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت اولین ترجیح رہے گا۔ مشرقی اور شمال مغربی سرحد پر بھارت اور افغانستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیوں کے سبب پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے درپیش چیلنجز نے پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید زک پہنچائی ہے۔ پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں میں کوئی کمی نہیں آ رہی اور بھارتی فوجی حکام سرحدوں پر اشتعال انگیزیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا مسلسل تاثر دے رہے ہیں۔

یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ اور شرانگیزیوں کے پس منظر میں امریکی ماسٹر مائنڈ موجود ہے جو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے اس لیے وہ اپنی سرحدوں کے دفاع پر بھرپور توجہ دے رہا' افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ خار دار تار کی تنصیب بھی سرحدی دفاعی مینجمنٹ کو بہتر بنانے کا ایک حصہ ہے۔ بھارت' امریکا اور افغانستان کے گٹھ جوڑ میں اب اسرائیل کا ہاتھ بھی شامل ہو گیا ہے، اس پریشان کن صورت حال نے پاکستان کو چین اور روس کے ساتھ اپنے دفاعی اور معاشی تعلقات مضبوط بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ملکی دفاع کا پختہ عزم کیے ہوئے ہے اور اسی عزم اور یقین کے بل بوتے پر کور کمانڈرز کانفرنس نے واضح کیا ہے کہ اپنی ملکی سلامتی کے حوالے سے کسی قسم کے بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
Load Next Story