مشال قتل کیس کا فیصلہ

سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھایا

سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھایا۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، ایک ملزم کو دو بار سزائے موت، 5 ملزمان کو 25 سال قید، 25 ملزمان کو چار چار سال قیدکی سزا جب کہ 26 ملزمان کو بری کرنے کے احکامات جاری کردیے، سینٹرل جیل میں ایک ملزم پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی، تین ملزمان تاحال مفرورہیں، مشال کے والد اور صوبائی حکومت نے 26 ملزمان کی بریت کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یاد رہے 13 اپریل 2017 کو توہین رسالت کے الزام پر مردان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کو 61 ملزمان نے بدترین تشدد کرکے قتل کر دیا تھا۔ اس سانحہ نے پوری قوم اور طلبہ برادری کو غمزدہ کردیا تھا، کیونکہ کسی مادر علمی میں ایک ساتھی طالب علم کی ایسی بہیمانہ موت کبھی ریکارڈ نہیں ہوئی، بلاشبہ قتل وغارت اور بربریت و دہشتگردی کے نشانے پر ملک گزشتہ تین عشروں تک رہا مگر مردان یونیورسٹی کا مشال واقعہ دل دہلا دینے والا ثابت ہوا، اس سانحہ کا دردانگیز پہلو کثیر جہتی تھا، میڈیا پر جب یہ خبر آئی تو اس سے صرف مقتول کے اہل خانہ اور ورثا غم سے نڈھال نہیں ہوئے بلکہ ملک بھر میں اس کا درد محسوس کیا گیا اور درد دل رکھنے والا ہر شخص دکھی ہوگیا کہ جواں سالی کی موت کا زخم بھی اجتماعی ہوتا ہے۔

اس میں ہر محب وطن پاکستانی کا شریک ہونا فطری تھا۔ مشال کی موت مغربی اصطلاح میں لنچنگ Linching کہلاتی ہے، یعنی ایسی درد انگیز موت جو ہجومی نفسیات کی بے قابو غضبناکی کا نتیجہ ہوتی ہے، اس میں کسی بھی نہتے انسان کو بے دردی سے مارا جاتا ہے، جس کی مہذب معاشرے میں کسی طور اجازت نہیں دی جاتی۔ دوسری طرف اس واقعہ کا تعلق ملک میں پیداشدہ تشدد کے کلچر اور عدم رواداری سے بھی تھا، ہمارا رویہ مخالف کے نظریہ کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ شدت پسندی اور سوشل میڈیا پر ہمہ اقسام کی خرافات نے سنجیدہ علمی مواد اور رابطے کی آزادانہ سہولت کو گہن لگا دیا ہے، مشال کیس اسی ڈس انفارمیشن سے مفاد پرستوں نے جوڑ دیا اور یونیورسٹی کی انتظامیہ واقعہ کے نتائج اور اس کی ہولناکی کا ادراک نہ کرسکی اور حالات قابو سے باہر ہوگئے۔ مشال کیس کی تفتیش اگرچہ خیبرپختونخوا پولیس کی فعالیت اور مستحسن کارکردگی کا نتیجہ ہے۔

اس کو سراہنا چاہیے مگر اسے سیاسی جماعتوں نے پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنالیا ہے، اور کوشش کی جارہی ہے کہ تقابلی جائزہ صوبوں کی پولیس کے مابین اچھی اور بری کارکردگی کا افسوس ناک شوڈاؤن بن جائے، ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو، حالانکہ زینب قتل کیس کے بعد پنجاب حکومت کی طرف سے فرانزک لیب کی سہولت کی پیشکش قابل قدر تھی، اس کا نتیجہ اسما کیس میں بھی مثبت نکلا، ضرورت چاروں صوبوں کی پولیس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، موثر رابطے اور ہم آہنگی کی ہے، تاکہ بین الصوبائی تفتیش میں ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جاسکے، یہ خوش آیند بات ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے مشال کے قاتلوں کی موثر عدالتی پیروی اور اسماء قتل کیس میں پولیس کی مسلسل جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں اور مظلوم کو انصاف دلانا اور ان کی دادرسی کرنا حکومت اپنا فرض اولین سمجھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس مستعد اور پیشہ ور فورس ہے اور سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھایا۔


یہ بات انھوں نے نوشہرہ میں ذرایع ابلاغ کے نمایندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،بہرحال اگر وہ پنجاب کی فرنزک لیب کی افادیت کی بات بھی کردیتے تو اس سے صورتحال مزید بہتر ہوجاتی ہے۔ ادھر سندھ پولیس راؤ انوار کی گرفتاری میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ بدھ کو خیبرپختونخوا پولیس نے مردان میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 4 سالہ اسما کے قاتل کو میڈیا کے سامنے پیش کیا، ملزم مقتولہ کا قریبی رشتہ دار ہے۔ انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس صلاح الدین محسود اور آر پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود 4 سالہ اسما قتل کیس 25 روز میںحل کرلیا گیا ہے، دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، آئی جی نے بتایا اسما کا کیس بالکل بلائنڈ کیس تھا، آر پی او نے بتایا کہ جو سیمپل ڈی این اے کے لیے پنجاب فرانزک لیب میچنگ کے لیے بھجوائے گئے۔

ڈی این اے کے 2 سیمپل میچ ہونے کی رپورٹ ہمیں دی گئی، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کیا۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کوہاٹ میں عاصمہ رانی قتل کیس میں بھی لڑکی کے اہلخانہ نے ہم پر اعتماد کیا، عاصمہ کے کیس میں 2 ملزمان گرفتار ہیں جب کہ آلہ قتل اور جس گاڑی سے ملزم اسلام آباد گیا وہ بھی برآمد کرلی ہے۔ اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ کے پی کے کے بندوبستی علاقوں میں وارداتوں میں ملوث افراد قبائلی علاقوں میں روپوش ہوجاتے ہیں جہاں خیبر پختونخوا پولیس کے دائرہ کار کا سوال پیدا ہوتا ہے، فاٹا انضمام میں یہی اہم نکتہ موجود ہے کہ عدالتی دائرہ کار میں توسیع ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا پولیس کی رسائی فاٹا تک بڑھائی جانی چاہیے تاکہ کوئی ملزم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔ بعینہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سندھ میں گھنے جنگلات اور کچے کے علاقہ کا سامنا ہوتا ہے۔

واضح رہے ادھر انٹر پول نے سابق انسپکٹر عابد باکسر کو دبئی سے گرفتار کرلیا، جب کہ دبئی سے ہی گرفتار ہونے والے 3 اشتہاری ملزموں کو اینٹی کار لفٹنگ پولیس کی ٹیم اپنے ساتھ لاہور لے آئی، یہ بھی پولیس کی معاونت سے ہوا، اسلام آباد کے تھانہ کھنہ پولیس نے 24گھنٹے میں لاپتہ چودہ برس طالب علم تلاش کرلیا، حمزہ امتیاز ایک روز قبل تھانہ کھنہ کی حدودسے لاپتہ ہوا تھا، ورثاء نے پولیس کے ہر ممکن تعاون کی تعریف کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مشال کیس میں کے پی کے حکومت ذمہ داریاں پوری کرتی نظر آرہی ہے، اسی طرح سندھ پولیس کو بھی راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے اخلاقی حمایت کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال خان قتل کے مقدمے میں کل 61 ملزمان کو نامزد کیا تھا، جس میں 57 کے خلاف بدھ کو عدالت نے فیصلہ سنایا ہے، بقایا چار ملزمان میں سے تین مفرور ہیں جب کہ ایک ملزم کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے خلاف الگ کیس چلایا جارہا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق تینوں ملزمان عمار، بلال بخش، اور وجاہت اﷲ کا مشال قتل میں اہم کردار بتایا جاتا ہے، پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ مشال خان کی موت صرف گولی لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ بدترین تشدد بھی ان کی ہلاکت کا باعث بنا۔

یہ حقیقت ہے کہ ملک عدم رواداری، تشدد و وحشت کے غیر مرئی عفریت کے نشانہ پر ہے۔ قانون کی بے بسی اور ہجومی نفسیات سے منسلک برہمی کسی بھی سماج کو خستگی کا شکار بنادیتی ہے، انسان کو حیوانی سطح پر گرا دیتی ہے، چنانچہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ ایک صائب انتباہ اور تلقین ہے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ انارکی اور تباہی کا پیش خیمہ ہے، جس سے دور رہنا چاہیے۔
Load Next Story