سپریم کورٹ اور میئر کی توجہ درکار ہے
پانی، بجلی، صفائی، صحت جیسے اہم مسائل عشروں سے کراچی کو گھیرے ہوئے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
سپریم کورٹ نے سابق سٹی ناظم نعمت اﷲ خان کی درخواست کی شنوائی کرتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ شہری اداروں کو وسائل فراہم کرے۔ اگرچہ یہ حکم کھیل کے میدانوں پر قبضے اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم کرنے کے حوالے سے دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شہرکو ایڈ ہاک اِزم پر چلایا جا رہا ہے کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سارا کام عدلیہ ہی کو کرنا پڑے گا۔ آج ہمارے ملک کی یہ عجیب صورتحال ہے کہ سماجی اور شہری مسائل کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدالتیں کرپشن کے حوالے سے سیاستدانوں کے خلاف دائر ریفرنسوں کی سماعت بھی کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ہماری سیاسی زندگی میں ایک بھونچال آگیا ہے اور حکومت کے اعلیٰ حکام چہ کنم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
اس موقعے پر ہم سپریم کورٹ کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں جس کا تعلق بلدیہ کے وسائل میں کمی سے بتایا جاتا ہے۔ 30،40 سال تک بلدیہ میں خدمات انجام دینے کے بعد ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور واجبات سے محروم ہیں اور چار چار سال سے بلدیہ اور ڈی ایم سیز کے دھکے کھا رہے ہیں۔ بلدیہ کے مرکزی آفس میں ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کے حوالے سے لسٹیں لگے مدت گزر چکی ہے لیکن فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے جائز واجبات کی ادائیگی سے محروم کردیاگیا ہے۔ واجبات کے حصول کی آرزو میں کئی ریٹائرڈ ملازمین فوت ہو چکے ہیں، کئی سخت بیمار ہیں اور واجبات کے حصول کے حوالے سے بنائے گئے تمام پروگرام تلپٹ ہوکر رہ گئے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ کے شہری اداروں کو وسائل فراہم کرنے کے حکم سے ریٹائرڈ ملازمین کی ادائیگی ممکن ہے؟
یہ سرکاری ادارے کی ترجیحات ہوتی ہیں اور ترجیحات کا تعین مسائل کی اہمیت اور سنگینی کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ بڑے شہروں کے مسائل بھی بڑے اور شدید ہوتے ہیں۔ شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر شہر میں بلدیاتی ادارے بنائے جاتے ہیں ان اداروں کو چلانے والے وہ ملازمین ہوتے ہیں جو بلدیہ میں ملازمت کرتے ہیں اگر ان ملازمین کو وقت پر تنخواہیں اور ترقیاں وغیرہ ملتی رہیں تو اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے میں وہ فعال رہتے ہیں اگر ان کی مہینہ بھرکی محنت کا معاوضہ انھیں بروقت نہ ملے تو فطری طور پر کام اور ذمے داریوں سے ان کی دلچسپی کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ شہری مسائل کا تعلق براہ راست شہریوں سے ہوتا ہے لہٰذا ہر بلدیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ملازمین کی جائز ضروریات، جن میں تنخواہ سر فہرست ہوتی ہے، بروقت پوری کر دی جائیں۔ لیکن ہمارے محکمہ بلدیہ کا عالم یہ ہے کہ بلدیاتی ملازمین کو عموماً وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی اور ملازمین سڑکوں پر اپنے جائز حق کے لیے مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں اور انھیں تنخواہوں کے بجائے پولیس کی لاٹھیاں، آنسو گیس اور واٹر کینن سے تیز پانی کی بوچھاڑ ملتی ہے۔
شہری اداروں کو ملازمین کی تنخواہ کے علاوہ بلدیاتی امور نمٹانے کے لیے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، ہماری کراچی بلدیہ کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ اسے وہ وسائل فراہم نہیں کیے جاتے جو بلدیاتی امور انجام دینے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس کے بجائے وسائل سے محرومی بلدیہ کی مستقل شکایت بنی ہوئی ہے۔ میئر کراچی کو مستقل یہ شکایت رہتی ہے کہ انھیں وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔
پانی، بجلی، صفائی، صحت جیسے اہم مسائل عشروں سے کراچی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ کراچی بلدیہ کا المیہ یہ ہے کہ اسے وہ اختیارات حاصل نہیں جو قانون اور آئین کے تحت اس کا حق تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان میں مالی اور انتظامی اختیارات بلدیہ کا لازمی حصہ ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومت بلدیہ کو یہ آئینی اور قانونی حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب بلدیاتی اداروں اور جمہوریت کی آئینی مدت ختم ہونے جا رہی ہے۔ شہر کچرے کے ڈھیر میں بدل گیا ہے۔ ہر شہر میں کچرا اٹھانا بلدیہ کی اولین ذمے داری ہوتی ہے اور ہر بلدیہ کچرا اٹھانے کی نہ صرف اہل ہوتی ہے بلکہ وہ ساری ضرورتیں اس کی تحویل میں ہوتی ہیں جو اس اہم کام کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے ہماری بلدیہ کی اہلیت کا عالم یہ ہے کہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی چین سے مدد لی جا رہی ہے۔ کیا کچرا اٹھانے جیسے کام میں دوسرے ملک کی مدد حاصل کرنا ہمارے لیے شرم بلکہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں۔ چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا لیکن اس کی ترقی کی رفتار کا عالم یہ ہے کہ ساری دنیا کی منڈیاں جن میں امریکا سمیت مغربی ممالک شامل ہیں سستی چینی اشیا سے بھری ہوئی ہیں۔دوسری وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کے بلدیاتی اداروں کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات موجود ہیں اور وہ اپنے شہری منصوبوں پر آسانی سے عمل در آمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کراچی جیسے دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کی ضروریات پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے اور کراچی کا کچرا اٹھانے کی ذمے داری اپنے سر لے رہی ہے۔
ہماری بلدیہ کا یہ المیہ ہے کہ اب تک اسے وہ مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیے گئے جو بڑے شہروں کی بلدیہ کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ مانی جا رہی ہے کہ بلدیہ کے میئر کا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت سے ہے جو ماضی میں سندھ حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اس حوالے سے دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بھاری فنڈ حکومت سندھ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو دیے جارہے ہیں جس کا مقصد شہر میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی بتایا جارہا ہے۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ شہری امور خصوصاً شہر کے ترقیاتی کاموں کی انجام دہی محکمۂ بلدیہ کی ذمے داری ہوتی ہے اور بلدیاتی امورکی انجام دہی کے لیے جو بھاری فنڈ مختص کیے جاتے ہیں وہ میئر شہر کا حق ہوتے ہیں جس کی نگرانی میں ان فنڈز کا استعمال شہر کے ترقیاتی کاموں میں کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے بلدیہ کو مالی اور انتظامی اختیارات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟
ہم نے کالم کے آغاز میں بلدیہ کے ریٹائرڈ ملازمین کی برسوں سے رکی ہوئی پنشن اور واجبات کا ذکرکیا تھا یہ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ بلدیہ کے ریٹائرڈ عمر رسیدہ ملازمین برسوں سے اپنی پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے بلدیہ کے دفاترکے چکر کاٹ رہے ہیں۔ دوسرے محکموں میں ملازم کے ریٹائر ہونے سے بہت پہلے اس کی کاغذی کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے اور ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن جاری کر دی جاتی ہے اور واجبات ادا کردیے جاتے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ اور میئر کراچی عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں دلچسپی لے کر ان ستم رسیدوں کی داد رسی کریںگے؟
اس موقعے پر ہم سپریم کورٹ کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں جس کا تعلق بلدیہ کے وسائل میں کمی سے بتایا جاتا ہے۔ 30،40 سال تک بلدیہ میں خدمات انجام دینے کے بعد ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور واجبات سے محروم ہیں اور چار چار سال سے بلدیہ اور ڈی ایم سیز کے دھکے کھا رہے ہیں۔ بلدیہ کے مرکزی آفس میں ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کے حوالے سے لسٹیں لگے مدت گزر چکی ہے لیکن فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے جائز واجبات کی ادائیگی سے محروم کردیاگیا ہے۔ واجبات کے حصول کی آرزو میں کئی ریٹائرڈ ملازمین فوت ہو چکے ہیں، کئی سخت بیمار ہیں اور واجبات کے حصول کے حوالے سے بنائے گئے تمام پروگرام تلپٹ ہوکر رہ گئے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ کے شہری اداروں کو وسائل فراہم کرنے کے حکم سے ریٹائرڈ ملازمین کی ادائیگی ممکن ہے؟
یہ سرکاری ادارے کی ترجیحات ہوتی ہیں اور ترجیحات کا تعین مسائل کی اہمیت اور سنگینی کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ بڑے شہروں کے مسائل بھی بڑے اور شدید ہوتے ہیں۔ شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر شہر میں بلدیاتی ادارے بنائے جاتے ہیں ان اداروں کو چلانے والے وہ ملازمین ہوتے ہیں جو بلدیہ میں ملازمت کرتے ہیں اگر ان ملازمین کو وقت پر تنخواہیں اور ترقیاں وغیرہ ملتی رہیں تو اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے میں وہ فعال رہتے ہیں اگر ان کی مہینہ بھرکی محنت کا معاوضہ انھیں بروقت نہ ملے تو فطری طور پر کام اور ذمے داریوں سے ان کی دلچسپی کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ شہری مسائل کا تعلق براہ راست شہریوں سے ہوتا ہے لہٰذا ہر بلدیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ملازمین کی جائز ضروریات، جن میں تنخواہ سر فہرست ہوتی ہے، بروقت پوری کر دی جائیں۔ لیکن ہمارے محکمہ بلدیہ کا عالم یہ ہے کہ بلدیاتی ملازمین کو عموماً وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی اور ملازمین سڑکوں پر اپنے جائز حق کے لیے مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں اور انھیں تنخواہوں کے بجائے پولیس کی لاٹھیاں، آنسو گیس اور واٹر کینن سے تیز پانی کی بوچھاڑ ملتی ہے۔
شہری اداروں کو ملازمین کی تنخواہ کے علاوہ بلدیاتی امور نمٹانے کے لیے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، ہماری کراچی بلدیہ کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ اسے وہ وسائل فراہم نہیں کیے جاتے جو بلدیاتی امور انجام دینے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس کے بجائے وسائل سے محرومی بلدیہ کی مستقل شکایت بنی ہوئی ہے۔ میئر کراچی کو مستقل یہ شکایت رہتی ہے کہ انھیں وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔
پانی، بجلی، صفائی، صحت جیسے اہم مسائل عشروں سے کراچی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ کراچی بلدیہ کا المیہ یہ ہے کہ اسے وہ اختیارات حاصل نہیں جو قانون اور آئین کے تحت اس کا حق تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان میں مالی اور انتظامی اختیارات بلدیہ کا لازمی حصہ ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومت بلدیہ کو یہ آئینی اور قانونی حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب بلدیاتی اداروں اور جمہوریت کی آئینی مدت ختم ہونے جا رہی ہے۔ شہر کچرے کے ڈھیر میں بدل گیا ہے۔ ہر شہر میں کچرا اٹھانا بلدیہ کی اولین ذمے داری ہوتی ہے اور ہر بلدیہ کچرا اٹھانے کی نہ صرف اہل ہوتی ہے بلکہ وہ ساری ضرورتیں اس کی تحویل میں ہوتی ہیں جو اس اہم کام کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے ہماری بلدیہ کی اہلیت کا عالم یہ ہے کہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی چین سے مدد لی جا رہی ہے۔ کیا کچرا اٹھانے جیسے کام میں دوسرے ملک کی مدد حاصل کرنا ہمارے لیے شرم بلکہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں۔ چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا لیکن اس کی ترقی کی رفتار کا عالم یہ ہے کہ ساری دنیا کی منڈیاں جن میں امریکا سمیت مغربی ممالک شامل ہیں سستی چینی اشیا سے بھری ہوئی ہیں۔دوسری وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کے بلدیاتی اداروں کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات موجود ہیں اور وہ اپنے شہری منصوبوں پر آسانی سے عمل در آمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کراچی جیسے دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کی ضروریات پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے اور کراچی کا کچرا اٹھانے کی ذمے داری اپنے سر لے رہی ہے۔
ہماری بلدیہ کا یہ المیہ ہے کہ اب تک اسے وہ مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیے گئے جو بڑے شہروں کی بلدیہ کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ مانی جا رہی ہے کہ بلدیہ کے میئر کا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت سے ہے جو ماضی میں سندھ حکومت کا حصہ رہی ہے۔ اس حوالے سے دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بھاری فنڈ حکومت سندھ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو دیے جارہے ہیں جس کا مقصد شہر میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی بتایا جارہا ہے۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ شہری امور خصوصاً شہر کے ترقیاتی کاموں کی انجام دہی محکمۂ بلدیہ کی ذمے داری ہوتی ہے اور بلدیاتی امورکی انجام دہی کے لیے جو بھاری فنڈ مختص کیے جاتے ہیں وہ میئر شہر کا حق ہوتے ہیں جس کی نگرانی میں ان فنڈز کا استعمال شہر کے ترقیاتی کاموں میں کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے بلدیہ کو مالی اور انتظامی اختیارات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟
ہم نے کالم کے آغاز میں بلدیہ کے ریٹائرڈ ملازمین کی برسوں سے رکی ہوئی پنشن اور واجبات کا ذکرکیا تھا یہ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ بلدیہ کے ریٹائرڈ عمر رسیدہ ملازمین برسوں سے اپنی پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے بلدیہ کے دفاترکے چکر کاٹ رہے ہیں۔ دوسرے محکموں میں ملازم کے ریٹائر ہونے سے بہت پہلے اس کی کاغذی کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے اور ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن جاری کر دی جاتی ہے اور واجبات ادا کردیے جاتے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ اور میئر کراچی عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں دلچسپی لے کر ان ستم رسیدوں کی داد رسی کریںگے؟