جامعات اساتذہ کا پی ایچ ڈی الاؤنس 150 فیصد بڑھا دیا گیا
اساتذہ کا پی ایچ ڈی الاؤنس 10ہزارروپے ماہانہ سے بڑھاکر 25 ہزار ہوگیا۔
سرکاری جامعات میں 900کے قریب اساتذہ نوٹیفکیشن سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فوٹو : فائل
حکومت سندھ نے صوبے کی سرکاری جامعات میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے پی ایچ ڈی الاؤنس میں 150فیصد تک اضافہ کردیا۔
حکومت سندھ کی جانب سے پی ایچ ڈی الاؤنس میں 150 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن ایڈیشنل چیف سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈزمحمد حسین سید کی جانب سے جاری کردیاگیاہے، جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت مذکورہ فیصلہ فوری طورپر نافذ العمل ہوگیا۔
واجح رہے کہ سندھ میں سرکاری جامعات کے پی ایچ ڈی اساتذہ کے الاؤنس میں اضافے سے ایک جانب اساتذہ میں خوشی کی لہردوڑگئی ہے اورایم فل کرکے پی ایچ ڈی کی دوڑمیں شامل اساتذہ نے اپنی سندکی تکمیل کے لیے تگ ودوشروع کردی ہے جبکہ دوسری جانب بعض سرکاری جامعات کے بعض وائس چانسلرزکے لیے یہ نوٹیفکیشن درد سر بن گیاہے اوروہ اس نوٹیفکیشن کے ضمن میں سامنے آنے والے مالی اثرات کاجائزہ لے رہے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ سندھ کی سرکاری جامعات میں 900کے قریب اساتذہ اس نوٹیفکیشن سے فائدہ لے سکیں گے، یادرہے کہ صوبے کے سرکاری جامعات کے اساتذہ کے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کی منظوری وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ 31جنوری کو فپواسا کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں دی تھی عین اسی وقت فپواسا کی اپیل پر سندھ کی بیشترسرکاری جامعات میں تدریسی عمل کے بائیکاٹ کاسلسلہ شروع ہوگیا اوراساتذہ نمائندوں نے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے سمیت اپنے دیگر کئی مطالبات کے ساتھ چیئرمین سندھ ایچ ای سی کے طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک بارپھرتقرری سے اختلاف کرتے ہوئے ان کی جگہ کسی پی ایچ ڈی ماہرتعلیم کی تعیناتی کامطالبہ پیش کیاتھا تاہم اس اجلاس میں فپواسا اپنے مذکورہ مطالبے سے دستبردارہوگئی تھی جبکہ حکومت سندھ نے دیگرمطالبات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے مذاکرات کے 8 روز بعد پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کانوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ادھر فپواسا سندھ چیپٹرکے صدرڈاکٹرنعمت اللہ لغاری نے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون کاشکریہ بھی ادا کیا ہے۔
حکومت سندھ کی جانب سے پی ایچ ڈی الاؤنس میں 150 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن ایڈیشنل چیف سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈزمحمد حسین سید کی جانب سے جاری کردیاگیاہے، جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت مذکورہ فیصلہ فوری طورپر نافذ العمل ہوگیا۔
واجح رہے کہ سندھ میں سرکاری جامعات کے پی ایچ ڈی اساتذہ کے الاؤنس میں اضافے سے ایک جانب اساتذہ میں خوشی کی لہردوڑگئی ہے اورایم فل کرکے پی ایچ ڈی کی دوڑمیں شامل اساتذہ نے اپنی سندکی تکمیل کے لیے تگ ودوشروع کردی ہے جبکہ دوسری جانب بعض سرکاری جامعات کے بعض وائس چانسلرزکے لیے یہ نوٹیفکیشن درد سر بن گیاہے اوروہ اس نوٹیفکیشن کے ضمن میں سامنے آنے والے مالی اثرات کاجائزہ لے رہے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ سندھ کی سرکاری جامعات میں 900کے قریب اساتذہ اس نوٹیفکیشن سے فائدہ لے سکیں گے، یادرہے کہ صوبے کے سرکاری جامعات کے اساتذہ کے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کی منظوری وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ 31جنوری کو فپواسا کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں دی تھی عین اسی وقت فپواسا کی اپیل پر سندھ کی بیشترسرکاری جامعات میں تدریسی عمل کے بائیکاٹ کاسلسلہ شروع ہوگیا اوراساتذہ نمائندوں نے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے سمیت اپنے دیگر کئی مطالبات کے ساتھ چیئرمین سندھ ایچ ای سی کے طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک بارپھرتقرری سے اختلاف کرتے ہوئے ان کی جگہ کسی پی ایچ ڈی ماہرتعلیم کی تعیناتی کامطالبہ پیش کیاتھا تاہم اس اجلاس میں فپواسا اپنے مذکورہ مطالبے سے دستبردارہوگئی تھی جبکہ حکومت سندھ نے دیگرمطالبات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے مذاکرات کے 8 روز بعد پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کانوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ادھر فپواسا سندھ چیپٹرکے صدرڈاکٹرنعمت اللہ لغاری نے پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون کاشکریہ بھی ادا کیا ہے۔