قوم پرستوں کیخلاف امیدوار کھڑے نہیں کرینگے ایاز پلیجو
قومی عوامی تحریک کے کارکن ایس ٹی پی اور ایس یو پی کی انتخابی مہم چلائیں گے
ایاز پلیجو نے کہا کہ قاسم آباد کے عوام 11 مئی کو انہیں ووٹ دے کر سندھ کے لیے جدوجہد کرنے والے شہدا کا قرض اتار دیں۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل
قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کے ان کیخلاف پی ایس47 قاسم آباد سے الیکشن نہ لڑنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی عوامی تحریک کی سینٹرل باڈی نے سندھ بھر میں ایس ٹی پی اور ایس یو پی کے امیدواروں کے مقابل اپنے امیدوار کھڑے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 47 سے کاؔغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 65 برسوںسے قوم پرستوں کے حوالے سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ تقسیم ہیں، جو بالکل غلط ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایس ٹی پی اور ایس یو پی سندھ کے دیگر حلقوں میں جہاں جہاں اپنے امیدوار کھڑا کریں گی۔
عوامی تحریک کے رہنما اورکارکنان ان کی الیکشن مہم چلائیں گے۔ ایاز پلیجو نے کہا کہ قاسم آباد کے عوام 11 مئی کو انہیں ووٹ دے کر سندھ کے لیے جدوجہد کرنے والے شہدا کا قرض اتار دیں۔ انھوں نے کہا کہ اچھی شہرت کے حامل سندھ کے وڈیرے اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تو وہ پی پی کو ایک بار پھر عوام پر مسلط ہونے میں معاونت کے مترادف ہوگا۔
پاکستان اور سندھ کے عوام الیکشن کمیشن کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی گورنر فوری طور پر ہٹائے جائیں، پولنگ اسکیمیں فوری طور پر جاری کی جائیں، پی پی کے مقرر کردہ پولنگ افسران اور پی پی رہنماؤں کے گھروں پر بنائے جانے والے پولنگ اسٹیشن فوری طور پر ختم کیے جائیں۔
سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 47 سے کاؔغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 65 برسوںسے قوم پرستوں کے حوالے سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ تقسیم ہیں، جو بالکل غلط ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایس ٹی پی اور ایس یو پی سندھ کے دیگر حلقوں میں جہاں جہاں اپنے امیدوار کھڑا کریں گی۔
عوامی تحریک کے رہنما اورکارکنان ان کی الیکشن مہم چلائیں گے۔ ایاز پلیجو نے کہا کہ قاسم آباد کے عوام 11 مئی کو انہیں ووٹ دے کر سندھ کے لیے جدوجہد کرنے والے شہدا کا قرض اتار دیں۔ انھوں نے کہا کہ اچھی شہرت کے حامل سندھ کے وڈیرے اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تو وہ پی پی کو ایک بار پھر عوام پر مسلط ہونے میں معاونت کے مترادف ہوگا۔
پاکستان اور سندھ کے عوام الیکشن کمیشن کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی گورنر فوری طور پر ہٹائے جائیں، پولنگ اسکیمیں فوری طور پر جاری کی جائیں، پی پی کے مقرر کردہ پولنگ افسران اور پی پی رہنماؤں کے گھروں پر بنائے جانے والے پولنگ اسٹیشن فوری طور پر ختم کیے جائیں۔