پیپلز پارٹی نے این اے 223 پر عبد الستار بچانی کو ٹکٹ دیدیا

پی ایس 51پرضیا عباس امیدوار، کانٹے کا مقابلہ متوقع، پی ایس 52 پر فیصلہ نہ ہو سکا

ٹنڈوالہیار میں جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے زبردست ٹاکرے کا امکان ہے وہیں مسلم لیگ فنکشنل اور اہلسنت والجماعت کی مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی نے این اے 223 پر عبد الستار بچانی اور پی ایس 51پر ضیاعباس شاہ رضوی کو ٹکٹ جاری کر د یے جبکہ پی ایس 52 پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ۔

پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو ٹکٹ ملنے کے بعد ٹنڈوالہیار میں سخت مقابلے کا امکان ۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوالہیار میں الیکشن 2013 کے لیے قومی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی2 نشستوں کے لیے آزاد مگسی اتحادکے مسلم لیگ (ن) میں ضم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنے مضبوط امیدواروں کو سیاسی اکھاڑے میں اتار دیا اور سابق رکن قومی اسمبلی عبدالستار بچانی اور سابق ضلع صدر سید ضیاء عباس شاہ رضوی کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

سیاسی حلقے آزاد مگسی اتحاد کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بعد مختلف ناموں کی چہ میگوئیاں کر رہے تھے جس سے عوام میں یہ تاثر پایا جارہا تھا کہ پیپلز پارٹی کو ضلع میں تینوں نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے لیکن پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے یہ تاثر بھی کسی حد تک زائل ہوتا نظر آرہا ہے تاہم اب بھی پی ایس52پر فیصلہ باقی ہے۔ دوسری جانب ٹنڈوالہیار میں جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے زبردست ٹاکرے کا امکان ہے وہیں مسلم لیگ فنکشنل اور اہلسنت والجماعت کی مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔




مضبوط سیاسی حلقے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آزاد مگسی اتحاد اور پی پی کو فنکشنل لیگ اور اہلسنت و الجماعت کی حمایت کا سہارا لینا پڑ ے گا ۔ سیاسی حلقے پی ایس 51پ سے بھی نظریں ہٹانے کو تیار نہیں کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ جہاں این اے 223 پر اپنا مضبوط امیدوارسابق صوبائی وزیر شبیر قائم خانی کے روپ میں سامنے لائی ہے وہیں پی ایس 51 پر بھی جیت کی خواہش مند ہے۔

الیکشن میں اقلیتی برادری بھی میدان میں آگئی اور کچھی اتحاد سے تعلق رکھنے والے بھیمو کچھی نے پی ایس 51اورڈاکٹر امر شی کچھی نے پی ایس 52پر کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔
Load Next Story