شام نے اسرائیلی طیارہ مار گرایا

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے شام اور ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے شام اور ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

TOKYO:
شام کا بحران شروع ہوتے ہی اسرائیل اس موقع کی تاک میں تھا جب وہ اس میں مداخلت کر سکے چنانچہ اتوار کی صبح اس کا ایف سولہ جنگی طیارہ شام کی فضائی حدودکی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندر داخل ہو گیا مگر شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں نے طیارے کو نشانہ بنا لیا جو شمالی اسرائیل کی حدود کے اندر ہی گر کر تباہ ہو گیا تاہم طیارے کا پائلٹ زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا۔ اپنے طیارے کی تباہی پر اسرائیل نے شام پر زبردست بمباری شروع کر دی جس سے ملک کے کئی علاقے کھنڈر بن گئے اور متعدد شامی شہری شہید ہوگئے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فضائیہ نے ایک سے زائد اسرائیلی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے شام کے وسط میں قائم فوجی اڈے پر حملے کی کوشش کی جو نئی جارحیت کے مترادف ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا اس کا جنگی طیارہ شام کے اندر اس ایرانی اڈے کو نشانہ بنانے والا تھا جہاں سے اسرائیل کے لیے ایک ڈرون چھوڑا گیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی سرحد کے اندر ایرانی ڈرون مار گرایا ہے جو شامی سرحد سے داخل ہوا تھا۔ بعدازاں اسرائیل نے شام میں مبینہ ایرانی اڈے کو تباہ کرنے کے لیے اپنا جنگی طیارہ ایف 16 روانہ کیا تھا لیکن شامی فورسز کی طیارہ شکن توپوں کی زد میں آکر تباہ ہوگیا جس کی تصدیق اسرائیل نے کر دی۔ جنگی طیارہ تباہ ہونے کے بعد اسرائیل نے شام میں جوابی فضائی کارروائیاں کی ہیں۔


اسرائیلی آرمی نے کہا کہ اْس نے شام میں 12 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس میں 4 ایرانی فوجی اڈے شامل ہیں۔ شامی دارالحکومت دمشق کے اطراف میں زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئی ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے حمص کے صحرائی علاقے میں واقع ایک ڈرون سینٹر کو نشانہ بنانے کا بھی دعوی کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکوس نے شام اور ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں مگر شام اور ایران نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ڈرون نے اسرائیلی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

روس کا کہنا ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہوئے ایک بیان میں اسرائیل کے اس دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ایک ایرانی ڈرون مار گرایا ہے۔ یوں شام کا بحران نئی شکل اختیار کر گیا ہے اور اسرائیل بھی اس بحران کا باقاعدہ حصہ بن گیا ہے' آنے والے دنوں میں شام کے مسئلے پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی محاذ آرائی بڑھنے کا امکان ہے۔

 
Load Next Story