حفاظتی ویکسین نہ لگوانے سے بچے امراض کا شکار ہو رہے ہیں ماہرین طب
جنوری سے اپریل تک خسرہ کا وائرس، اپریل سے اگست تک ڈائریا، ستمبر سے دسمبرتک نمونیاکا مرض شدت اختیارکرتا ہے
جنوری سے اپریل تک خسرہ کا وائرس، اپریل سے اگست تک ڈائریا، ستمبر سے دسمبرتک نمونیاکا مرض شدت اختیارکرتا ہے فوٹو: فائل
کراچی سمیت صوبے میں جنوری سے اپریل تک خسرہ کا وائرس،اپریل سے اگست تک ڈائریا،ستمبر سے دسمبر تک نمونیاکا مرض شدت اختیارکرتا ہے۔
پاکستان میں بچوں کی بیماری کے2 موسم ہوتے ہیں ،گرمیوں میں ڈائریا اورسردی میں نمونیا، جولائی سے اگست تک پولیو وائرس اپنی شدت پر ہوتا ہے جو4 ماہ تک اپنی تباہ کاریاں پھیلاسکتا ہے، بچوں کے قومی پروگرام میں نمونیا کی حفاظتی ویکسین صحت کے تمام مراکز میں فراہم کردی گئی جہاں والدین اپنے بچوں کوبلامعاوضہ ویکسین لگواسکتے ہیں، بچوں کوحفاظتی ویکسین نہ لگوانے سے بچے کم عمری میں کسی بھی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما شدید متاثر ہوجاتی ہے اور بچوں کی قوت مدافعت بھی مزیدکمزورہوجاتی ہے۔
صوبے میں بچوں کو حفاظتی ویکسین لگوانے کی شرح 30 سے 60 فیصد ہے جوکم ہے ، یہ بات ای پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر مظہر خمیسانی ماہرامراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اقبال اے میمن نے بتائی ، اس موقع پر یونیسیف کے ڈاکٹرآصف اسلم اور ڈاکٹر راج کماربھی موجود تھے،ماہرین نے بتایا کہ جنوبی ایشیا پاکستان کا پہلا ملک ہے جہاں نمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین شامل کرلی گئی ہے جونجی شعبے میں فی خوراک 5 ہزارروپے کی ہوتی ہے لیکن حکومت نے اس مہنگی حفاطتی ویکسین کوبچوں کے قومی پروگرام میں شامل کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ صوبے میں روٹین ویکسی نیشن 30 سے 60 فیصد ہے جس کی وجہ سے بچوں میں خسرہ، خناق ، کالی کھانسی ، نمونیہ اور دیگر امراض بڑھ رہے ہیں، ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو پولیو اور روٹین ایمونائزیشن کے ویکسین ساتھ ساتھ لگوائیں اوربچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس لازمی مکمل کرائیں، نئی متعارف کرائی جانے والی نمونیہ ( نیموکوکل ) ویکسین کی افادیت کے حوالے سے بتایاکہ اس ویکسین کے لگوانے سے بچے نمونیہ کے مرض سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں بچوں کی ٹی بی، پولیو، خناق ، کالی کھانسی، تشنج ، ہیپاٹائٹس ، گردن توڑ بخار ، نمونیہ ، خسرہ سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤکی ویکسین موجود ہے جو بچوں کو مفت لگائی جارہی ہیں ،انھوں نے کہا کہ جنوری سے اپریل تک خسرہ کا وائرس شدت سے سر اٹھاتا ہے پاکستان میں بچوں کی بیماریوں کے دو ہی موسم ہیں گرمیوں میں بچوں میں ڈائریا جبکہ سردیوں میں نمونیہ پھیلتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوتی ہیں ،جولائی اور اگست کے دوران پولیوکا مرض بھی پھیلتا ہے اور یہ 4 سے 5 ماہ تک رہتا ہے۔
پاکستان میں بچوں کی بیماری کے2 موسم ہوتے ہیں ،گرمیوں میں ڈائریا اورسردی میں نمونیا، جولائی سے اگست تک پولیو وائرس اپنی شدت پر ہوتا ہے جو4 ماہ تک اپنی تباہ کاریاں پھیلاسکتا ہے، بچوں کے قومی پروگرام میں نمونیا کی حفاظتی ویکسین صحت کے تمام مراکز میں فراہم کردی گئی جہاں والدین اپنے بچوں کوبلامعاوضہ ویکسین لگواسکتے ہیں، بچوں کوحفاظتی ویکسین نہ لگوانے سے بچے کم عمری میں کسی بھی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما شدید متاثر ہوجاتی ہے اور بچوں کی قوت مدافعت بھی مزیدکمزورہوجاتی ہے۔
صوبے میں بچوں کو حفاظتی ویکسین لگوانے کی شرح 30 سے 60 فیصد ہے جوکم ہے ، یہ بات ای پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر مظہر خمیسانی ماہرامراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اقبال اے میمن نے بتائی ، اس موقع پر یونیسیف کے ڈاکٹرآصف اسلم اور ڈاکٹر راج کماربھی موجود تھے،ماہرین نے بتایا کہ جنوبی ایشیا پاکستان کا پہلا ملک ہے جہاں نمونیا سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین شامل کرلی گئی ہے جونجی شعبے میں فی خوراک 5 ہزارروپے کی ہوتی ہے لیکن حکومت نے اس مہنگی حفاطتی ویکسین کوبچوں کے قومی پروگرام میں شامل کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ صوبے میں روٹین ویکسی نیشن 30 سے 60 فیصد ہے جس کی وجہ سے بچوں میں خسرہ، خناق ، کالی کھانسی ، نمونیہ اور دیگر امراض بڑھ رہے ہیں، ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو پولیو اور روٹین ایمونائزیشن کے ویکسین ساتھ ساتھ لگوائیں اوربچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس لازمی مکمل کرائیں، نئی متعارف کرائی جانے والی نمونیہ ( نیموکوکل ) ویکسین کی افادیت کے حوالے سے بتایاکہ اس ویکسین کے لگوانے سے بچے نمونیہ کے مرض سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں بچوں کی ٹی بی، پولیو، خناق ، کالی کھانسی، تشنج ، ہیپاٹائٹس ، گردن توڑ بخار ، نمونیہ ، خسرہ سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤکی ویکسین موجود ہے جو بچوں کو مفت لگائی جارہی ہیں ،انھوں نے کہا کہ جنوری سے اپریل تک خسرہ کا وائرس شدت سے سر اٹھاتا ہے پاکستان میں بچوں کی بیماریوں کے دو ہی موسم ہیں گرمیوں میں بچوں میں ڈائریا جبکہ سردیوں میں نمونیہ پھیلتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوتی ہیں ،جولائی اور اگست کے دوران پولیوکا مرض بھی پھیلتا ہے اور یہ 4 سے 5 ماہ تک رہتا ہے۔