صرف بیرئیرز ہی نہیں تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے
سنکھیا اور دیگر مہلک اجزا کی زیرزمین پانی کے اندر موجودگی کے انکشافات متعدد بار ہو چکے ہیں
سنکھیا اور دیگر مہلک اجزا کی زیرزمین پانی کے اندر موجودگی کے انکشافات متعدد بار ہو چکے ہیں۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے حکم پر لاہور شہر کی اہم شاہراؤں اور اہم شخصیات کی رہائش گاہوں کے سامنے سے بیرئیر اور رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ اتوار کو رات گئے انتظامیہ نے گورنر ہاؤس، ماڈل ٹاؤن، آئی جی آفس، وزیراعلی ہاؤس، جاتی امرا سمیت اہم شخصیات کی رہائش گاہوں، سرکاری دفاتر اور دیگر شاہراؤں پر رکھی گئی رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا۔ عدالت عظمی نے اتوار کو صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے احکامات جاری کیے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کو متحرک کر اور انھیں جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اس نے اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں تساہل کا رویہ کیوں اپنا رکھا اور فنڈز مہیا کرنے کے باوجود گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ مسائل جوں کے توں کیوں چلے آ رہے اور ان کے حل کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ چند ہفتے پیشتر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسپتالوں کے دورے کے موقع پر ان کی حالت زار دیکھتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اس کے بعد انھوں نے انتظامی افسران کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی' صاف ماحول اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عدالت نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اشیائے خورونوش میں ملاوٹ عام ہو چکی، صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں اور وہ ذمے دار افراد جنہوں نے انھیں حل کرنا ہے وہ اس سے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں حکمران عدالت میں یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ عوامی منصوبوں پر خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے، حکمرانوں کی یہ وضاحت اپنی جگہ شاید درست ہو مگر جب حقائق کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جاتا ہے تو صورت حال حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ صاف پانی کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود حالات یہ ہیں کہ کراچی اور لاہور جیسے میگا اور انٹرنیشنل شہروں میں صاف پانی کی قلت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
سنکھیا اور دیگر مہلک اجزا کی زیرزمین پانی کے اندر موجودگی کے انکشافات متعدد بار ہو چکے ہیں لیکن معاملہ انکشافات ہی تک محدود چلا آ رہا اور شہری یہی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں جن میں راولپنڈی، پشاور ، کوئٹہ جیسے بڑے شہر شامل ، وہاں بھی پانی کی آلودگی بڑا مسئلہ ہے۔ جب ملک کے بڑے شہروں کی یہ صورت حال ہے تو پھر دیہات ، قصبوں اور دور دراز کے علاقوں کے حالات کیا ہوں گے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔تھر،بلوچستان،اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔ دریاؤں اور سمندر میں سیوریج اور فیکٹریوں کا گندا پانی بنا ٹریٹ کیے بغیر پھینکا جا رہا جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہونے سے آبی مخلوق کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ چکی ہیں بلکہ بعض علاقوں میں فصلوں کو اسی آلودہ پانی سے سیراب کیا جارہا ہے جس سے خطرناک بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بالکل صائب کہا کہ ماحولیات اور صحت کے معاملے پر حکومت کی کارکردگی قابل اطمینان نہیں۔
اگر غور کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وفاقی حکومت یا پنجاب، سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان کی صوبائی اور شہری حکومتیں ، سب ڈلیور کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔ تعلیم اور صحت کے مسائل بھی پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ' حکمران دعوے تو بہت کر رہے مگر مسائل جس قدر گمبھیر ہیں اس کے مقابل حکمرانوں کی کارکردگی بہت ناقص نظر آتی ہے۔ عدالت نے اہم شاہراہوں اور اہم شخصیات کی رہائش گاہوں کے سامنے سے بیرئیر اور رکاوٹیں ہٹوا کر ٹریفک کے مسائل میں پیدا ہونے والے ایک مسئلے کو حل کر کے صائب کردار ادا کیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ نے وضاحت کی کہ جن لوگوں کو دھمکیاں مل رہی تھیں صرف ان کی حفاظت کے لیے یہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سبب اہم شخصیات کی حفاظت ضروری ہے مگر مخصوص مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے مجموعی طور پر ملک کے اندر سیکیورٹی انتظامات بہتر بنائے جائیں تو اس کا فائدہ محدود افراد کے بجائے تمام شہریوں کو پہنچے گا۔ عدلیہ کو ملک بھر میں قائم تجاوزات کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو فعال کردار ادا کرنے کا حکم دینا چاہیے' صورت حال یہ ہے کہ پورے ملک کے شہروں میں فٹ پاتھ پر تجاوزات کے باعث شہری کے پیدل چلنے کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں، شہری فٹ پاتھوں کے بجائے سڑکوں کے کنارے چلنے پر مجبور ہیں جس سے ٹریفک کے مسائل روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ کاروباری اداروں اور دفاتر کو مجبور کیا جائے کہ وہ سڑکوں کے کنارے پارکنگ کے بجائے اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جانب توجہ دیں تاکہ ہم بھی مہذب ملکوں کی طرح نظر آسکیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کو متحرک کر اور انھیں جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اس نے اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں تساہل کا رویہ کیوں اپنا رکھا اور فنڈز مہیا کرنے کے باوجود گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ مسائل جوں کے توں کیوں چلے آ رہے اور ان کے حل کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ چند ہفتے پیشتر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسپتالوں کے دورے کے موقع پر ان کی حالت زار دیکھتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اس کے بعد انھوں نے انتظامی افسران کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی' صاف ماحول اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عدالت نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اشیائے خورونوش میں ملاوٹ عام ہو چکی، صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبے گوناگوں مسائل کا شکار ہیں اور وہ ذمے دار افراد جنہوں نے انھیں حل کرنا ہے وہ اس سے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں حکمران عدالت میں یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ عوامی منصوبوں پر خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے، حکمرانوں کی یہ وضاحت اپنی جگہ شاید درست ہو مگر جب حقائق کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جاتا ہے تو صورت حال حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ صاف پانی کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود حالات یہ ہیں کہ کراچی اور لاہور جیسے میگا اور انٹرنیشنل شہروں میں صاف پانی کی قلت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
سنکھیا اور دیگر مہلک اجزا کی زیرزمین پانی کے اندر موجودگی کے انکشافات متعدد بار ہو چکے ہیں لیکن معاملہ انکشافات ہی تک محدود چلا آ رہا اور شہری یہی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں جن میں راولپنڈی، پشاور ، کوئٹہ جیسے بڑے شہر شامل ، وہاں بھی پانی کی آلودگی بڑا مسئلہ ہے۔ جب ملک کے بڑے شہروں کی یہ صورت حال ہے تو پھر دیہات ، قصبوں اور دور دراز کے علاقوں کے حالات کیا ہوں گے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔تھر،بلوچستان،اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔ دریاؤں اور سمندر میں سیوریج اور فیکٹریوں کا گندا پانی بنا ٹریٹ کیے بغیر پھینکا جا رہا جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہونے سے آبی مخلوق کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ چکی ہیں بلکہ بعض علاقوں میں فصلوں کو اسی آلودہ پانی سے سیراب کیا جارہا ہے جس سے خطرناک بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بالکل صائب کہا کہ ماحولیات اور صحت کے معاملے پر حکومت کی کارکردگی قابل اطمینان نہیں۔
اگر غور کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وفاقی حکومت یا پنجاب، سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان کی صوبائی اور شہری حکومتیں ، سب ڈلیور کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔ تعلیم اور صحت کے مسائل بھی پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ' حکمران دعوے تو بہت کر رہے مگر مسائل جس قدر گمبھیر ہیں اس کے مقابل حکمرانوں کی کارکردگی بہت ناقص نظر آتی ہے۔ عدالت نے اہم شاہراہوں اور اہم شخصیات کی رہائش گاہوں کے سامنے سے بیرئیر اور رکاوٹیں ہٹوا کر ٹریفک کے مسائل میں پیدا ہونے والے ایک مسئلے کو حل کر کے صائب کردار ادا کیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ نے وضاحت کی کہ جن لوگوں کو دھمکیاں مل رہی تھیں صرف ان کی حفاظت کے لیے یہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سبب اہم شخصیات کی حفاظت ضروری ہے مگر مخصوص مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے مجموعی طور پر ملک کے اندر سیکیورٹی انتظامات بہتر بنائے جائیں تو اس کا فائدہ محدود افراد کے بجائے تمام شہریوں کو پہنچے گا۔ عدلیہ کو ملک بھر میں قائم تجاوزات کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو فعال کردار ادا کرنے کا حکم دینا چاہیے' صورت حال یہ ہے کہ پورے ملک کے شہروں میں فٹ پاتھ پر تجاوزات کے باعث شہری کے پیدل چلنے کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں، شہری فٹ پاتھوں کے بجائے سڑکوں کے کنارے چلنے پر مجبور ہیں جس سے ٹریفک کے مسائل روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ کاروباری اداروں اور دفاتر کو مجبور کیا جائے کہ وہ سڑکوں کے کنارے پارکنگ کے بجائے اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جانب توجہ دیں تاکہ ہم بھی مہذب ملکوں کی طرح نظر آسکیں۔